82 total views, 1 views today

عمران خان کی کابینہ تو ویسے چوں چوں کا مربّا ہے۔ کوئی کہاں سے آیا ہے اور کوئی کہاں سے۔ اگر صرف ایک شیخ رشید کا تذکرہ مشتے نمونہ از خروار کے طور پر کیا جائے، تو دیگ کے سارے چاولوں کا حال معلوم ہو جائے گا۔ اب دیکھیے شیخ صاحب کا سیاسی تجربہ کتنا وسیع و عریض ہے کہ سٹوڈنٹ لائف سے لے کر ہر دورِ حکومت میں وزیر مشیر کی حیثیت سے ان کو سرکار، دربار اس کی اقدار و روایات اور امور و معاملات کا اتنا تجربہ ہو گیا ہے کہ اڑتی چڑیا کے پر گن سکتے ہیں۔ ویسے اگر عمران خان کو تھوڑی بہت سیاسی بصیرت ہوتی، تو شیخ صاحب کو ان کی من پسند وزارت ’’وزارتِ اطلاعات‘‘ ضرور تفویض کرتے۔ پھر دیکھتے کہ وہ کس طرح ان کے مخالفین کا ناطقہ بند کرتے، اور کس کس طریقے سے ان کی کردار کشی کرتے۔ لیکن ان کو ایسی وزارت دی گئی ہے جو بد قسمتی سے شیخ صاحب کے مزاج سے لگا نہیں کھاتی۔ نہ وہ اس قسم کی وزار ت کا کوئی تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے تو ساری عمر مسخروں اور بھانڈوں کی طرح شرفا کی پگڑیاں اچھالنے میں گزاری ہے۔ اگرچہ اب بھی وہ ریلوے کے وزیر کم اور اطلاعات و خرافات کے وزیر زیادہ لگتے ہیں۔
کامیاب حکومت کی پہلی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ ہر محکمے اور شعبے کے لیے مناسب اور موزوں اور اسی شعبے میں مہارت و تجربہ رکھنے والے افراد کو مقرر کرتے ہیں، چوں کہ اس سلسلے میں عمران خان معذور، مجبور و لاچار ہیں۔ اس لیے ہم ان کو دوش نہیں دے سکتے، نہ اس بات پر ملامت کرسکتے ہیں۔کیوں کہ ایک تو ان کی اپنی پارٹی میں قابل، سنجیدہ، تجربہ کار اور اہل افراد کی قلت کیا بلکہ قحط ہے، اور دوسرے مجبوری ان کی یہ ہے کہ حکومت سازی کے لیے عددی اکثریت حاصل کرنے کے سلسلے میں ان کو ہر اس شخص کو وزارت دینی پڑی، جو بد قسمتی سے انتخابات میں کامیاب ہو ا تھا۔ وفاقی اور صوبائی کابینہ کا اگر جائزہ لیا جائے، تو یہ افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ کوئی بھی وزیر نہ اپنے محکمے میں علم رکھتا ہے اور نہ تجربہ۔ بھلا فواد چوہدری کو وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی سے کیا نسبت؟ صرف ایک وزارت ایسی ہے جو علم، تجربے اور مہارے کے بغیر نہیں چل سکتی، اور وہ خزانے کی وزارت ہے۔ لیکن اس وزارت کے لیے بھی ایسے تجربے کی ضرورت نہیں جو ملک کو خود کفالت، خود انحصاری اور اپنے ملکی وسائل کے ذریعے معاشی استحکام دلائے۔ اس وزار ت کے لیے جو تجربہ درکار ہے، وہ یہ ہے کہ وزیر صاحب ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، ایشین ترقیاتی بنک اور دیگر عالمی مغربی اداروں کے پسندیدہ اور ان کی ترقی پذیر قوموں کو سودی قرضوں کے جال میں پھنسانے کے ایجنڈے سے واقف، موید اور تجربہ رکھتے ہوں۔ شروع ہی سے ایسے وزرائے خزانہ ہماری معاشی اور اقتصادی تباہی کے لیے ہمیں عالمی مالیاتی اداروں سے دستیاب رہے ہیں۔ چاہے وہ ایوب خانی دور کا محمد شعیب ہو،یا پرویز مشرف دور کا شوکت عزیز ہو، یا موجودہ وزیر خزانہ جو پیپلز پارٹی سے مستعار لیا گیا ہے۔ حفیظ شیخ ایسے وزیرِ خزانہ جن کو ملک کے اندر ٹماٹر کے نرخ کا پتا نہیں۔ اس سلسلے میں جو حقیقی صورتِ حال اصلی یا جعلی طرز پر منتخب سول حکمرانوں کو درپیش ہوتی ہے وہ بہت پیچیدہ ہمہ جہت اور بہت مشکل ہوتی ہے، کہ سول یا عوامی نمائندے حکومت چلانے اور ملکی مسائل کے حل کی صلاحیت سے عاری ہوتے ہیں۔
دوسری بات ان کی نااہلی، خود غرضی اور بد عنوانی کی وجہ سے ان کو عوامی تائید و اعتماد حاصل نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے یہ کمزور حکمران ملک کے سب سے طاقتور ادارے فوج کے مدد و تعاون کے محتاج ہوتے ہیں۔ پھر فوج جو ایک منظم اور طاقتور ادارہ ہے، ان کی ہدایات و احکامات اور مشورے سول حکومت کے اوپر تلوار بن کر لٹکتے رہتے ہیں۔ یہ ساری مجبوریاں سول حکومت کی عدم کارکردگی، بیڈ گورننس اور عملاً حکومت و اقتدار نہ ہونے کا تاثر عام کرتی ہیں۔ پاکستان کے 72 سالہ تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو کا چھے سالہ دورِ حکومت ایک ایسا دورانیہ ہے جس کے دوران بھٹو صاحب اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ اور بالادستی سے آزاد تھے۔ ایک تو فوج مشرقی پاکستان میں شکست کھانے اور جنرل نیازی کے جنرل اروڑہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی وجہ سے دباؤ میں تھی، دوسری بات فوج کے اہم مناصب پر فائز افراد بھٹو صاحب کے ہم خیال اور ہم نوا تھے۔ اس کے علاوہ بھٹو صاحب کی اپنی شخصیت بھی مؤثر تھی۔ وہ ایوب خان حکومت میں آٹھ سال تک اہم وزارتوں خاص کر وزارتِ خارجہ کے طاقتور وزیر رہے تھے۔ ان کے بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کافی گہرے اور مضبوط تھے۔ مسائل بھی اس وقت ایسے درپیش تھے کہ وہ بھٹو صاحب کی کرشماتی شخصیت کے بغیر حل ہونا ممکن نہ تھے۔ اگر بنظرِ غائر دیکھا جائے، تو منتخب سول حکمرانوں میں بھٹو صاحب واحد ایسی شخصیت تھے جنہوں نے ایک طرف تو فوجی اسٹیبلشمنٹ کو اپنی حدود میں رکھا اور دوسری طرف بیوروکریسی کو قابو میں رکھا۔ کیوں کہ وہ دونوں کے انداز و اطوار اور طریقِ کار سے واقف تھے۔ 1970ء کے انتخابات میں اگرچہ انہوں نے بالکل نئے اور نوآموز افراد کو الیکشن میں کھڑا کیا تھا، اور الیکشن میں ووٹ چوں کہ بھٹو صاحب کے نام اور نشان کو ملا تھا۔ اس وجہ سے ان کو پارٹی پر مکمل کنٹرول حاصل تھا۔ کیوں کہ سارے منتخب افراد ان کے مرہون منت تھے، لیکن یہ حقیقت بھی تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ 1970ء کے دورانئے میں جو کابینہ بھٹو صاحب نے تشکیل کی، وہ حقیقت میں اہل، قابل اور باصلاحیت افراد پر مشتمل تھی۔ عبدالحفیظ پیر زادہ جیسا شخص وزیر قانون تھا۔ مولانا کوثر نیازی جیسا شاعر، ادیب اور عالم شخص وزیر مذہبی امور اور بعد میں وزیر اطلاعات تھا۔ اسی طرح پوری کابینہ اہل، تعلیم یافتہ اور وِژنری افراد پر مشتمل تھی۔ بھٹو صاحب خود میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے آٹھ سالہ طویل تجربے کی وجہ سے بین الاقوامی تعلقات بنانے کے ماہر تھے۔ ان کے وزیر خارجہ عزیز احمد بھی تجربہ کار بیوروکریٹ اور اس فن کے ماہر تھے۔ اسی دوران میں آپ دیکھتے ہیں کہ پوری دنیا کے ساتھ ہمارے تعلقات تھے۔ ہم آج کی طرح بین الاقوامی دنیا میں یک و تنہا نہیں تھے۔ بھٹو صاحب بھی ایک جاگیر دار انہ پس منظر رکھتے تھے۔ مزاجاً بھی وہ ڈکٹیٹرانہ انداز رکھتے تھے اور جاگیر داروں سے متعلق دوسرے بہت سے عیوب بھی ان میں موجود تھے۔ بعد میں انہی عیوب کی وجہ سے ایک طرف وہ اقتدار سے محروم ہوگئے اور دوسری طرف اپنے ناعاقبت اندیشانہ فیصلوں کی وجہ سے آخرِکار تختہ دار تک پہنچے، لیکن بہرحال پاکستان کی 73 سالہ تاریخ میں ان کا چھے سالہ دور حکومت ایک یاد گار حیثیت رکھتا ہے۔ یہ بھٹو صاحب ہی تھے جنہوں نے اپنے ارد گرد طاقتور دشمنوں کی طاقت کا اندازہ لگا کر پاکستان کو نیوکلیئر طاقت بنوایا۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو انہوں نے بلایا۔ ان کو وسائل دیے۔ اختیارات دیے۔اسی طرح روس کی جارحیت کے نتیجے میں افغان مہاجرین کو پناہ بھٹو صاحب نے دی۔ عالمِ اسلام کے اتحاد کے لیے انہوں نے لاہور میں عالمی اسلامی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ عام لوگوں کے لیے مشرقی وسطیٰ کے ممالک میں روز گار کا ساز گار ماحول بنا کر اگر ایک طرف غریب آدمی کو معاشی طور پر کھڑا کیا، تو دوسری طرف اوور سیز کارکنوں کے ارسال کردہ زرِ مبادلہ کے ذریعے ملکی معیشت کو مضبوط کیا۔ بھٹو صاحب اگر چہ دینی مزاج اور اسلامی انداز نہیں رکھتے تھے لیکن بہر حال ایک قابل اور باصلاحیت قوم پرست رہنما ضرور تھے۔ وہ پاکستان کے لیے لڑتے تھے۔ وہ پاکستان کے لیے سوچتے تھے۔ بھٹو صاحب کا موازنہ نواز، زرداری، بے نظیر اور عمران خان کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔ بھٹو صاحب کے مقابلے میں یہ موجودہ نام نہاد لیڈر شپ ہر لحاظ سے تہی دامن اور ملک و قوم کے لیے سوچ اور وِژن سے محروم ہے۔ ان کو ہم صرف مال کے ذریعے اقتدار اور اقتدار کے ذریعے مال کے حصول اور اقتدار واختیار کے بھوکے حریص اور ہر اصول و ضابطے سے آزاد طالع آزما کہہ سکتے ہیں۔
………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے