44 total views, 3 views today

آمدہ اطلاعات کے مطابق دارالحکومت اسلام آباد میں محکمۂ اوقاف کے زیرِ انتظام لال مسجد پر ایک مرتبہ پھر مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز نے قبضہ کر لیا ہے، اور موجودہ حکومت سے جہادِ کشمیر شروع کرنے اور شریعت کے نافذ کا مطالبہ کیا ہے۔ مولانا عبدالعزیز جو اس مسجد کے خطیب بھی رہ چکے ہیں، ان کی طرف سے تین مطالبات کیے گئے ہیں، جن میں مسجد سے متصل سرکاری زمین پر بنائے گئے مدرسے کو بھی از سرِ نو تعمیر کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ حکومت نے یہ مدرسہ فوجی آپریشن کے دوران یہ کہہ کر مسمار کر دیا تھا کہ یہ سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا ہے۔
مولانا عبدالعزیز نے گذشتہ جمعے کا خطبہ دیا اور اپنے مطالبات دہرائے۔ ان سے مسجد کا قبضہ واپس لینے کے لیے انتظامیہ نے ان سے مذاکرات شروع کیے، تاہم ابھی تک تعطل کی صورت حال برقرار ہے۔
ریاست کے اندرریاست بنانے کا کام ایک بار پھر شروع ہوگیا۔اسلام آباد کے اندر لال مسجد سے متصل مدرسہ اسلام آباد کے لیے مسلسل ایک سیکورٹی تھریٹ رہا ہے۔ سیکورٹی کی یہ صورت حال اس وقت منظر عام پر آئی جب گذشتہ جمعہ کو لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز نے مسجد پر زبردستی قبضہ کرلیا اور نمازِ جمعہ کے خطبہ میں حکومت کو نہ صرف للکارا بلکہ اپنے مطالبات ایک بار پھر سامنے لائے۔
حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے قانون نافذکرنے والے اداروں نے مسجد کو گھیرے میں لے لیا، اور نمازیوں کو مسجد میں جانے سے روک دیا۔اس تنازعے کی بنیاد مولانا عبدالعزیز کی بطورِ خطیب لال مسجد سے بے دخلی ہے۔ مولانا عبدالعزیز اور ان کا خاندان لال مسجد اور جامعہ حفصہ کو اپنی جاگیر سمجھ بیٹھے ہیں، اور یہیں سے یہ اپنی طاقت ایک بار پھر دکھانے کی سعی کیے ہوئے ہیں۔
لال مسجد سے ریاست کوچیلنج اور لا اینڈ آرڈر کی صورت حال خراب کرنے کے پیچھے بھی خفیہ ہاتھ اور ملک دشمن عناصر کار فرما ہو سکتے ہیں، جو پاکستان کے دنیا بھر میں ابھرتے مثبت امیج بلکہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کے نکلنے کے عمل کو بھی سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں۔
مولانا عبدالعزیز نے کہا ہے کہ وہ اپنے ان تین مطالبات کے پورے ہونے تک انتظامیہ یا حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس مسجد کے لیے ان کے والد اور بھائی نے قربانیاں دی ہیں اور حکومت ان کو یہاں سے بے دخل نہیں کر سکتی۔
ان کا کہنا ہے کہ کچھ اور ایسی مساجد ہیں جہاں خطیب ریٹائرڈ ہوئے، مگر اس کے باوجود نئے خطیب تعینات نہیں کیے گئے، تو ایسے میں انھیں زبردستی ہٹا کر لال مسجد میں نئے خطیب کی تقرری میں اتنی عجلت کیوں برتی گئی ہے؟ مولانا عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ بعض اوقات پولیس ان کے لیے کھانا لے کر آنے والوں کو بھی روک لیتی ہے، تاہم پولیس نے اس کی تردید کی ہے۔
مولانا عبدالعزیز یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ تنازعہ انہیں خطابت سے ہٹانے کے بعد شروع ہوا۔ ان کے مطابق اس مسجد کا نظم و نسق ان سے بہتر کوئی نہیں چلا سکتا۔
13 سال قبل وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کی G-6 میں واقع لال مسجدکے منبر سے ریاست کو چیلنج کیا گیا تھا۔ سرِعام مسجد اور مدرسے سے آتشیں اسلحہ کی نمائش کی گئی، اور حکومتِ وقت کو للکارا گیا کہ اگر انہوں نے آپریشن کیا، تو ان کے خلاف زبردست ’’ری ایکشن‘‘ دیکھایا جائے گا۔ جس پر اس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف کے حکم پر سنہ 2007ء میں لال مسجد میں فوجی آپریشن کیا گیا۔ نتیجتاً مبینہ طور پر ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں لال مسجد کی سابق انتظامیہ کے بقول خواتین بھی شامل تھیں۔ ایک بڑی تعداد میں قانون نافذکر نے والے جوانوں کی بھی ہلاکت ہوئی تھی جنہیں جامعہ حفصہ سے نشانہ بنایا گیا تھا۔مولانا عبدالعزیز اس آپریشن میں خواتین کا برقعہ اوڑھ کر فرار ہو گئے تھے، جب کہ ان کی والدہ اور بھائی اس آپریشن میں ہلاک ہو گئے تھے۔
قارئین، اسلام آباد میں مرد اور خواتین کے مدرسوں کی بہتات ہے۔ صرف اسلام آباد کے سیکٹر G-7 میں خواتین کے مدرسوں میں موجود طالبات کی تعداد 3 ہزار سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔
چار سال قبل مولانا عبدالعزیز نے دو مختلف مقدمات سے ضمانت ملنے کے بعد سنہ 2016ء میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف سمیت لال مسجد آپریشن کے تمام کرداروں کو معاف کرنے سے متعلق بیان دیا تھا۔ عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مولانا عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ وہ سنہ 2007ء میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف فوجی آپریشن کرنے والے سابق فوجی صدر پرویز مشرف سمیت دیگر تمام کرداروں کو معاف کرنے کو تیار ہیں۔
جن دو مقدمات میں ان کی عبوری ضمانت منظور کی گئی، ان میں سول سوسائٹی کے کارکنوں کو دھمکیاں دینے کے علاوہ مذہبی منافرت اور حکومت کے خلاف شرانگیز تقاریر کرنے کے مقدمات شامل تھے۔
تھانہ آبپارہ کے پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ دو دن سے لال مسجد کے اردگرد سکیورٹی پر مامور ہیں۔ تھانہ آبپارہ کے انچارج نے عدالت میں رپورٹ جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان دونوں مقدمات میں مولانا عبدالعزیز کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ پولیس افسر نے عدالت کو بتایا کہ ان مقدمات میں اگر انہیں گرفتار کیا جاتا، تو اس سے وفاقی دارالحکومت میں امنِ عامہ کو شدید خطرہ لاحق ہو جاتا۔
یاد رہے کہ فروری 2018ء میں سندھ کے صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار پر خودکش حملے میں لال مسجد اسلام آباد کے خطیب مولانا عبدالعزیز اور مولانا غازی عبدالرشید کے قریبی رشتے دار ملوث تھے۔ کاؤنٹر ٹیررازم پولیس کے مطابق غلام مصطفی مزاری ماسٹر مائنڈ جب کہ صفی اللہ مزاری سہولت کار تھے۔
قلندر شہباز کے مزار پر خودکش بم حملہ میں محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق87 افراد ہلاک اور 329 زخمی ہوگئے تھے۔ چھے افراد کی شناخت نہ ہونے کی وجہ سے انھیں لاوارث قرار دے کر ایدھی حکام نے دفنا دیا تھا۔
موجودہ حکومت اور قانون نافذکرنے والے اداروں کو لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے اچانک منظر عام پر آنے اور زبردستی منبرپر ریاست کو چیلنج کرنے اور مسجد سے متصل سرکاری زمین پر مدرسہ دوبارہ تعمیر کرنے کے مطالبات پر فوری قانونی راستہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی قسم کی لچک یا سستی کسی بڑے سانحے کی موجب بن سکتی ہے۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے، اورG-6 اور 7 کے مکینوں کی زندگیوں کو ایک بار پھر جہنم بنانے سے تحفظ دینا ہوگا،تاکہ وہ سکون کا سانس لے سکیں۔
……………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے