44 total views, 1 views today

ملک میں مہنگائی، تیل اور گاڑیوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے پاکستان اور خاص کر خیبر پختون خوا میں زیا دہ تر لوگوں نے بڑی گاڑیوں کا خریدنا بند کردیا ہے۔ اب کم سی سی انجن والی گاڑیاں خریدنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔اس سے قبل پشاور سمیت باقی اضلاع میں سڑکوں پر بڑی گاڑیاں جن میں جیپ اور لگژری موٹر کاریں شامل ہیں،سڑکوں پر دوڑتی نظر آتی تھیں، لیکن اب ان کی جگہ چھوٹی گاڑیاں نظر آتی ہیں۔
پاکستان میں گاڑیاں بنانے والی ایک کمپنی کے سیل منیجر سلیم خان کے مطابق نئی گاڑیوں کی قیمت میں چار لاکھ روپے تک اضافہ ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے گاڑیوں کے سیل میں کمی آئی ہے۔ ایک شو روم کے مالک بلال خان کا اس حوالہ سے کہنا ہے کہ مارکیٹ میں 4700 سی سی انجن گاڑیوں سمیت1300, 1500, 1800, 2700, 3400, سی سی انجن والی پاکستانی اور جاپانی گاڑیوں کی فروخت کم ہوئی ہے۔ ’’مہنگائی اور تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے ایک سال پہلے لوگ بڑے انجن والی گاڑیاں خریدتے تھے، لیکن اب مارکیٹ میں 660 سی سی یا 1000سی سی انجن والی پاکستانی اور جاپانی گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں، جن کا خرچہ انتہائی کم ہے ۔اس طرح جن لوگوں کے پاس بڑی گاڑیاں ہیں، وہ ان کو فروخت کرنا چاہتے ہیں، لیکن بڑی گاڑیوں کے خریدار اس وقت نہ ہونے کے برابر ہیں۔‘‘
بلال خان کے شوروم میں موجود بڑی گاڑیوں کے بارے میں کوئی پوچھتا بھی نہیں۔انہوں نے کہا کہ اکثر صاحبِ ثروت لوگ بھی ’’ہائی برِڈ‘‘ گاڑیاں خریدتے ہیں جو زیادہ تر بیٹریوں کے ذریعے چلتی ہیں۔
بڑی گاڑیوں کی تعداد میں کمی اور کم سی سی انجن والی گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ کے بعد فِلنگ سٹیشن کے سیل میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ ایک فِلنگ سٹیشن کے مالک خضر حیات نے کے مطابق پٹرول پمپوں کی سیل میں 50 فیصد تک کمی آئی ہے۔ ’’دن بہ دن تیل کی سیل میں کمی آرہی ہے، جس کی وجہ سے اکثر پٹرول پمپ مالکان کا خیال ہے کہ اگر یہ سلسلہ چلتا رہا، تو وہ اپنا کاروبار بند کرکے اس کی جگہ کوئی اور کاروبار شروع کردیں گے۔‘‘
پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں کی پیداوار میں بھی تیزی سے کمی نوٹ کی گئی ہے۔ کمپنیوں نے آدھے سے زائد ملازمین کو فارغ کردیا ہے۔ بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گذشتہ ایک سال میں کاروں کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جس کی وجہ سے عوام میں گاڑیاں خریدنے کے رجحان میں واضح کمی نظر آ رہی ہے۔ ملک میں کاریں بنانے والے بڑے صنعتی پلانٹ اپنی پیداوار میں بھی تیزی سے کمی لارہے ہیں۔ نومبر 2019ء میں پاکستان میں کاروں کی پیداوار جنوری 2019ء کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی رہ گئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ ڈالر کو پَر لگنا ہے۔ اس سال کے آغاز سے اب تک پاکستانی روپے کی قدر میں تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کی وجہ سے کاروں کی تیاری کے لیے درکار درآمدات کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے کاروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ دوسری بڑی وجہ گذشتہ بجٹ میں حکومت نے گاڑیوں پر اضافی ٹیکس لگانا ہے۔ ضمنی مالی بجٹ کے دوسرے ترمیمی ایکٹ 2019ء کے ذریعے 1700 سی سی اور اس سے اوپر والی گاڑیوں پر 10 فیصد سے زیادہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) متعارف کروائی گئی تھی۔ ان وجوہات کی بنا پر پاکستانی گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں بھی اب کم سی سی انجن والی گاڑیاں متعارف کرانے کو ترجیح دیتی ہیں۔ اس حوالہ سے ایک کمپنی کے مجاز ڈیلر کے سی ای اُو محمد طیب کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی نے 660 سی سی اور 1000 سی سی والی گاڑیاں متعارف کرائی ہیں۔ اب زیادہ لوگ ذکر شدہ گاڑیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان کی کمپنی کی تیار کردہ بڑی گاڑیوں کی فروخت نہ ہونے کے برابر ہے۔
اب جب کہ پاکستان کے سابق قبائلی علاقہ جات ’’فاٹا‘‘ اور ’’پاٹا‘‘ کی قبائلی حیثیت ختم ہو چکی ہے، تو ان اضلاع میں وہ تمام قوانین اب نافذ ہیں، جو ملک کے باقی حصوں میں پہلے سے نافذ تھے، لیکن حکومت نے2023ء تک پانچ سال کے لیے ان اضلاع کو ٹیکس اور کسٹم سے مستثنا قرار دیا تھا، جس کی وجہ سے ان علاقوں میں اب بھی لاکھوں کی تعدادمیں نان کسٹم پےڈ گاڑیاں موجود ہیں۔ ان گاڑیوں کی خرید وفروخت کرنے والے ایک شو روم کے مالک سید حسنین شاہ کہتے ہیں کہ نان کسٹم پےڈ گاڑیاں سستی ہونے کی وجہ سے ان اضلاع میں زیادہ تر لوگ ’’ٹی زےڈ‘‘ اور ’’ٹی ایکس ‘‘جیپ خریدتے تھے۔ اس کا استعمال کرتے تھے، لیکن مہنگائی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب لوگ نان کسٹم پےڈ بڑی گاڑیاں بھی نہیں خرید رہے۔ وہ پہلے سے موجود ذکر شدہ گاڑیوں کو فروخت کرنا چاہتے ہیں، لیکن خریدار نہ ہونے کی وجہ سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ سید حسنین شاہ کیمطابق نان کسٹم پےڈ گاڑیوں میں 660 سی سی جاپانی گاڑیوں کی خرید میں اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ چھوٹی گاڑیاں پہلے چار تا پانچ لاکھ روپے میں فروخت ہوتی تھیں، اور اب ان کی مانگ میں اضافہ کے بعد قیمت سات لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔




تبصرہ کیجئے