144 total views, 2 views today

وزیرِ اعظم پاکستان، عمران خان نے وزیرِ اعظم ملائشیا مہاتیر محمد کے ساتھ اپنا موازنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا اور ان کا مقابلہ ایک جیسا ہے۔ ان کو بھی اپنے ملک میں طاقتور مافیا کا سامنا ہے، اور مجھے بھی۔
اگر عمران خان کے اس بیان کا تجزیہ کیا جائے، تو جو صورت حال سامنے آئے گی وہ کچھ اس طرح ہے کہ ملائشیا ساٹھ فیصد مسلمان اکثریت رکھنے والا ملک ہے، جس میں کافی بڑی اکثریت رکھنے والی چائنیز کمیونٹی ملکی تجارت اور صنعت پر حاوی ہے۔ اس کے بعد دوسری بڑی بااثر انڈین کمیونٹی ہے۔ ایسے ملک میں 93 سالہ مہاتیر محمد وزیر اعظم ہے، جس نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں ملائشیا کو ایک مقروض، پس ماندہ ملک کو معاشی اور سیاسی ترقی کے بامِ عروج تک پہنچایا۔ مہاتیر نے اپنی مقبولیت اور بابائے قوم قرار دیے جانے کے وقت سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے اقتدار چھوڑ دیا۔ مہاتیر محمد کے بعد ملائشیا ایک بار پھر عروج سے زوال کے سفر پر نیچے لڑھکنے لگا۔ کرپشن عام ہوئی اور تمام ملکی ادارے شکست وریخت کا شکار ہوگئے، تو عمر رسیدہ مہاتیر محمد نے ایک بار پھر ملک کو بچانے اور ترقی و تعمیر کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے سیاست میں حصہ لے کر وزیرِ اعظم بن گئے، اور دوبارہ ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ اس دوران میں اس کی جرأت مندانہ اور عالم اسلام کے لیے قائدانہ فیصلے اور اقدامات سامنے آئے۔ اس نے تمام مسلم امہ کے مسائل کے لیے آواز اٹھائی۔ اس نے عالمی طاقتوں کے مسلم امہ کے ساتھ منافقانہ، دشمنانہ اور بغض و عداوت پر مبنی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ مسئلہ کشمیر اور انڈین مسلمانوں کے لیے آواز اٹھانے پر بھارت نے اس کے ساتھ پام آئل کی تجارت بند کر دی۔ بھارت جیسے بڑے ملک کے ساتھ اس تجارتی خسارے کو اس نے نہایت جرأت و استقامت کے ساتھ برداشت کیا، لیکن اپنا مؤقف تبدیل کرنے سے انکار کیا۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک جیسے مبلغِ اسلام اور انڈین حکومت کے لیے دردِ سر اور خطرہ بننے والے کو باقاعدہ شہریت دے کر پناہ دی، اور انڈین حکومت کے بار بار دباؤ اور مطالبوں کو رد کر دیا۔ مہاتیر محمد نے آپ کے جذباتی اظہارِ خیال کو سمجھے بغیر مسلمانوں کے اتحاد اور مسائل کے لیے ملائشیا سمٹ منعقد کی، جس میں آپ نے امریکی دباؤ اور سعودی بلیک میلنگ کی وجہ سے شرکت نہیں کی۔
عمران خان صاحب، مہاتیر محمد کے ساتھ آپ کا اپنا موازنہ کچھ جچتا نہیں۔ آپ اور ان کی شخصیت میں بہت بڑا فرق بلکہ بعد المشرقین ہے۔ آپ پچانوے فیصد مسلم اکثریت رکھنے والے نیوکلیئر طاقت کے حامل ملک کے سربراہ ہیں۔ آپ کا ملک وسیع و عریض رقبے پر مشتمل خاص جغرافیائی خطے میں واقع دنیا کے لیے ایک اہم ملک ہے، لیکن ایسے با وسائل اور افرادی قوت سے مالامال ملک کی قیادت کرتے ہوئے آپ کو تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ ہونے والا ہے۔ اس ڈیڑھ سال کے عرصے میں آپ کا جو کردار اور طریقِ کار سامنے آیا۔ و ہ حد درجہ افسوسناک، عدم صلاحیت اور نااہلیت پر مبنی ہے۔ آپ نے پورے معاشی نظام کو آئی ایم ایف کے قبضے اور اختیار میں دے کر ملکی معیشت کو تلپٹ کرکے تباہ و برباد کر دیا۔ آپ کے اس اقدام کے نتیجے میں مہنگائی، گرانی اور اشیائے صرف کی نایابی کا بحران پیدا ہوا۔ آپ کہتے ہیں کہ مجھے مہاتیر محمد کی طرح مافیا کا سامنا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ مہاتیر محمد کو مافیا کا سامنا ہے یا نہیں؟ لیکن آپ کے ملک میں تو تمام مافیاز آپ کے ساتھ اور آپ کی پشت پر ہیں۔ یہ شوگر مافیا جس کے بارے میں خواجہ آصف نے انکشاف کیا ہے کہ اس شوگر مافیا کے تین بڑوں نے ملک کو 165 ارب روپوں کا ٹیکا لگا دیا۔ یہ تینوں بڑے آپ کے ساتھی، ساجھی اور شریکِ کار ہیں۔ اس آٹے کے بحران میں کون ملوث ہے اور یہ کون سی مافیا کا پیدا کردہ بحران ہے؟ کس نے پنجاب سے آٹے کی سپلائی بند کی، کس نے ملکی گندم کے ذخیرے کا اندازہ کیے بغیر افغانستان کو گندم برآمد کیا؟ کیا یہ فیصلے حکومت میں شامل اور اقتدار واختیار کے بغیر ہو سکتے ہیں؟ آپ مافیا کی بات کرتے ہیں، کیا ایم کیو ایم سے بڑا مافیا اس ملک میں ہے؟ وہ ایم کیو ایم جس نے مہاجر قومیت کا فتنہ پروان چڑھا یا۔ مہاجر حقوق کے نام پر سندھیوں، پختونوں اور پنجابیوں کے ساتھ قتل و غارت گری اور فساد کا ماحول بنایا۔ بوری بند لاشوں کو متعارف کروایا۔ حکیم سعید شہید اور دبنگ و جرأت مند صحافی صلاح الدین کو قتل کیا۔ پرویز مشرف کے تعاون و آشیر باد کے ذریعے وکیلوں کا قتل عام کیا۔ بلدیہ فیکٹری کو بھتا کی عدم آدائیگی پر آگ لگائی اور 2 سو مزدوروں کو زندہ جلایا۔ اسی تنظیم نے برملا پاکستانی قومیت سے انکار کیا اور آپ خود اقتدار سے پہلے اس مافیا کے خلاف لندن میں ثبوت تلاش کر رہے تھے۔ عدالتی کا رروائی کے لیے مواد جمع کر رہے تھے، لیکن جب اقتدار کے حصول کے لیے ضرورت پڑی، تو ایم کیو ایم والا مافیا شریف اور نستعلیق لوگ قرار پایا۔ آپ نے ان کو اپنے ساتھ شامل کیا، وزارتیں دیں اور ان کو ہر طرح راضی رکھنے کی کوشش کی۔ آج کل جب وہ آپ کو دوبارہ بلیک میل کر رہے ہیں، تو آپ ان کے پاس وفد پہ وفد بھیج کر ان کو راضی کرنے کے لیے منت ترلے کر رہے ہیں۔
خان صاحب، ایم کیو ایم جیسا بڑا مافیا تو آپ کے ساتھ حکومت و اقتدار میں شریک ہے۔ پھر آپ کو کون سے مافیا کا سامنا ہے؟
دوسرا مافیا ’’ق لیگ‘‘ ہے، جس کو آپ ڈاکوؤں کا گروہ قرار دے رہے تھے، جو پرویز مشرف کے 9 سالہ دور ڈکٹیٹر شپ میں ان کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ تھے۔ پرویز الٰہی صاحب، پرویز مشرف کو 100 مرتبہ فوجی وردی میں صدر منتخب کرنے کا روزانہ اعلان کرتے تھے۔ چوہدری شجاعت صاحب اسی ڈکٹیٹر کے دور میں بیرونِ ملک سے درآمد شدہ وزیر اعظم شوکت عزیز کے انتظار میں چند دن کے لیے وزیرِ اعظم بھی بن گئے تھے۔ جامعہ حفصہ جیسے بچیوں کے چھوٹے سے مدرسے کے خلاف فوجی ایکشن کے دوران میں پرویز مشرف کے ظالمانہ فیصلے میں شامل تھے۔ یہ چوہدری برادران جو اقتدار و اختیار کے لیے دین و ایمان اور اصول کو ہر وقت قربان کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ آج کل آپ کے اور آپ کے ساتھ اقتدار میں شریک ہیں۔ بقول آپ کے اس ڈاکو پرویز الٰہی کو آپ نے پنجاب اسمبلی کا سپیکر مقرر کیا ہے، تو پھر کون سی مافیا ہے جو آپ کے راستے میں مزاحم ہے؟
پرویز خٹک جو نیب کو مطلوب ہیں، اور جن کی وجہ سے آپ نے احتساب کا پورا ادارہ ہی تبدیل کرکے اس کے کاٹنے والے دانت توڑ دیے۔ ماشاء اللہ، آپ کے وزیرِ دفاع اور آپ کی حکومت کو اتحادیوں کی ناراضی سے بچانے کے لیے دوڑ دھوپ میں مصروف ہیں۔
جہانگیر ترین جس کو سپریم کورٹ نے سیاست کے لیے تا حیات نا اہل قرار دیا ہے، آپ کا نفسِ ناطقہ ہیں۔ سرکاری تقریبات اور اہم فیصلوں میں شریک ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچی سردار جو حقیقت میں ایک بہت بڑا مافیا ہے، جس نے بلوچستان یسے با وسائل اور ہر قسم کے معدنیات تیل، گیس اور دیگر وسائل سے مالامال صوبے کو غربت و پس ماندگی کا شکار بنا رکھا ہے۔ اگر ان کو اقتدار حاصل ہو اور ان کو ہر منصوبے اور پروجیکٹ میں کمیشن ملتا ہو، تو پھر یہ راضی خوش اور پاکستان کے وفادار ہیں، لیکن اگر کرپشن، بدعنوانی اور ناجائز ذرائع کے استعمال پر یہ اقتدار و اختیار سے محروم ہوتے ہیں، تو پھر یہ پہاڑوں میں جا کر اور دشمنوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف لڑتے ہیں۔ وہی بی این پی اختر مینگل کی قیادت میں آپ کی اتحادی ہے اور اس نے آپ کے 11 اکثریتی ممبران میں اضافہ کرکے آپ کی حکومت کو تھام رکھا ہے۔ پھر کون سا مافیا ہے، جو آپ کا راستہ روکا ہوا ہے؟
وہ جو پنجاب کی تاجر برادری اور صنعت کاروں کا سرغنہ نواز شریف تھا جس نے منی لانڈرنگ اور کرپشن کے ذریعے سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا تھا اور جس کو آپ احتساب کمیشن کے ذریعے پکڑ کر سارا منتقل شدہ سرمایہ واپس ملک میں لانے کا بار بار اعلان کر رہے تھے، آپ نے اس کے ساتھ این آر او کرکے بیرون ملک بھیج دیا۔ آپ کی نا اہلیت کی وجہ سے شاید وہ دوبارہ اس ملک و پر مسلط ہو جائے گا۔
محترم وزیر اعظم صاحب، مہاتیر محمد کے ساتھ موازنہ آپ کو سوٹ نہیں کرتا۔ یہ تو بقول کسے خود میاں مٹھو بننے والی بات ہے۔ آپ کی مافیا تو آپ کے ساتھ کابینہ کے اجلاسوں میں باقاعدہ شریک ہوتی ہے۔ یہ علیم خان، سرور اعوان ، یہ خسرو بختیار ، یہ فواد چوہدری یہ زبیدہ جلال یہ حفیظ شیخ یہ کون لوگ ہیں؟ یہ جو کل پرویز مشرف کی کابینہ میں وزیر مشیر تھے۔ آج کل آپ کے چہیتے، دوست اور شریک کار ہیں۔ بھلا ان لوگوں کے علاوہ اس ملک میں کسی دوسرے مافیا کا وجود ہو سکتا ہے؟
آپ ہی ذرا اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
اتنے بلند بانگ دعوے اور اتنے خوش کن اور دل فریب وعدے سن سن کر تو ہم 72 سال ضائع ہونے کا غم بھلا بیٹھے تھے۔ ہم اس قول پر یقین کر بیٹھے تھے کہ ’’مردے از غیب آید و کارے کند‘‘ لیکن خان صاحب، آپ نے تو قوم کی رہی سہی امیدیں اور آرزوئیں بھی خاک میں ملا کر ملیامیٹ کردیں۔ آج ہم کہاں کھڑے ہیں ، قوموں کی برادری میں ہمارا کیا مقام ہے؟ کشمیر کے بارے میں بھارت کے ناجائز اور ظالمانہ اقدام کے دوران میں ہمیں اپنی اوقات کا پتا چلا کہ جنہیں ہم برادر اسلامی ملک سمجھتے تھے۔ وہ بھی ہمارے دشمن کے دوست نکلے۔ یہ سب کچھ آپ کی کرشمہ ساز قیادت کا نتیجہ ہے۔
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے