428 total views, 1 views today

چین کے صوبہ "ہوبی” کے شہری علاقے "ووہان” میں کورونا وائرس کے باعث اب تک سیکڑوں (300سے زائد) اموات واقع ہوچکی ہیں۔ ہر گزرتے لمحہ کے ساتھ اموات کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سال 2020ء میں جنوری کے اوائل میں کورونا وائرس سے متاثرہ پہلا کیس سامنے آیا تھا۔ "ووہان” ایک گنجان آباد شہر ہے جس کی آبادی 11 اعشاریہ 8 ملین سے زائد نفوس پر مشتمل ہے۔ آبادی کے لحاظ سے "ہوبی” صوبہ کا شمار دنیا کے دوسرے بڑے صوبے میں ہوتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق اب تک کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 11 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ وائرس مزید تباہی نہ پھلائے، اس خدشہ کے پیشِ نظر ووہان شہر سمیت چین کے دوسرے شہروں کو بھی لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ ہوائی سفر سمیت دوسرے ذرائع آمد و رفت پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ لوگ گھروں میں محصور ہوچکے ہیں۔ "ووہان” کی سڑکیں، بازار اور گلیاں سنسان پڑی ہیں اور وہاں خوف کی فضا قائم ہے۔
قارئین، چین کی حکومت کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام کے لیے پورا زور لگا رہی ہے۔ اب تک وائرس سے متاثرہ افراد گیارہ ہزار سے تجاوز کرچکے ہیں، جب کہ 18 ممالک اس کی زد میں ہیں۔ زیادہ آبادی والے شہروں میں کسی بھی وبا کو کنٹرول کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ وائرس تقریباً بے قابو ہوچکا ہے اور خدشہ ہے کہ اگر یہ پاکستان، افغانستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک جہاں صحت سے متعلق کوئی خاطرخواہ سہولیات میسر نہیں، پہنچ گیا، تو بڑی تعداد میں تباہی مچ جائے گی۔ ہمارے اسپتالوں میں ڈاکٹر، نرس اور پیرا میڈیکل سٹاف کو کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے استعمال ہونے والا خصوصی لباس، پرسنل پروٹیکشن ایکوپمنٹ (PPE) تک دستیاب نہیں، جس سے شعبۂ طب و صحت سے تعلق رکھنے والے اسٹاف کی زندگی بھی خطرے سے دوچار ہوگی۔
کورونا ایک عام وائرس ہے جو عموماً میملز یعنی گائے، اونٹ، خنزیر اور پرندوں پر مختلف طریقہ سے اثر انداز ہوتا ہے۔ انسانوں میں یہ نظامِ تنفس کو متاثر کرتا ہے۔ گلے میں سوزش، سانس لینے میں دشواری، نزلہ، زکام اور بخار کی شکایت ہوتی ہے۔
"کورونا” لاطینی یونانی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی "سر کا تاج” یا "ہالہ” کے ہیں۔ وائرس کے خلاف اب تک کوئی مخصوص ویکسین یا اینٹی وائرل ادویہ دستیاب نہیں۔ جنوری 2020ء میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے چین میں "کورونا وائرس” کی ایک نئی مہلک قسم دریافت کی، جسے "نوول کورونا وائرس این 19” کا نام دیا گیا۔ یہ وائرس متاثرہ جانوروں سے انسانوں میں اور متاثرہ انسانوں سے دوسرے صحت مند انسانوں میں منتقل ہوجاتا ہے۔ یہ بارہ گھنٹے تک فرش اور دوسرے سطحی اشیا پر زندہ رہ سکتا ہے۔ اس سے پہلے یہ سعودی عرب، تائیوان، کوریا، جاپان اور تھائی لینڈ میں بھی پھیل چکا تھا، مگر صورتحال اتنی سنگین نہیں ہوئی تھی جتنی کہ چین میں ہے۔ "SARS” ہو یا "MERS” اور اب "Novel Corona virus 19” ہو، میرا سوال یہ ہے کہ کہیں یہ وائرس بطورِ "ہتھیار” تو استعمال نہیں ہو رہا؟ مشرقِ وسطی کے حالات خراب کرنے سے پہلے بھی اسی قسم کے ایک وائرس "MERS” کی وبا پھیلائی گئی تھی۔
چائینہ زمانہ قدیم سے اس کرۂ ارض پر موجود ہے۔ یہاں کے تمام لوگ تو نہیں مگر بعض علاقوں میں لوگ ہر جان دار چیز بشمول حشرات الارض کو شوق سے کھاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اہلِ چائینہ کو مختلف جنگوں کے سبب جب اشیائے خور و نوش کی قلت کا سامنا ہوا، تو سانپ، چوہے، کتے، بلیاں، گدھے اور دوسرے کیڑے مکوڑوں کو کھانا شروع کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ چیزیں ان کی مرغوب غذا بن گئیں۔ یہ لوگ چمگادڑ کا شوربا شوق سے پیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کورونا وائرس کی وبا پھیلنے میں چمگادڑ کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔
قارئین، وائرس کا سبب بلاشبہ چمگادڑ ہوگا، لیکن سوال پھر بھی وہی ہے کہ کیا چائینہ کے لوگوں نے 2019ء میں چمگادڑ کھانا شروع کیا ہے؟ اگر چمگادڑ، سانپ اور چوہے اس وائرس کا سبب ہیں، تو پھر تو چائینہ کے لوگوں کو صدیوں پہلے کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے مٹ جانا چاہیے تھا۔ اب تک چائینہ نام کا کوئی ملک ہی دنیا پر موجود نہیں ہونا چاہیے تھا۔ چائینہ کے تھینک ٹینک اور حکومت محض عوام میں خوف و ہراس پھیلنے کے سبب خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، ورنہ وہ بھی اس حقیقت کو بخوبی جانتے ہیں۔ قوموں کو تباہ کرنے اور ان کا رحجان تبدیل کرنے کے لیے اس طرح کے حملوں کا ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ مَیں اسے بیالوجیکل وار سمجھتا ہوں۔ اب تو چائینہ کے لوگ بھی اس جنگ کے خلاف اُٹھ چکے ہیں اور اسے جیتنے کے نعرے لگا رہے ہیں۔
قارئین، سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدت نے جنگوں کے طریقے بھی تبدیل کردیے ہیں۔ زمانۂ قدیم میں جنگیں غلیل، تیر، تلوار، اونٹ، گھوڑوں اور ہاتھیوں کو استعمال کرکے لڑی جاتی تھیں۔ پھر بندوق، توپ، ٹینک، جنگی طیارے، میزائل اور ڈرون جہاز استعمال ہونے لگے، اور اب "بیالوجیکل ویپنز” اور "سوشل میڈیا” جنگی ہتھیار بن چکے ہیں۔ چائینہ پر براہِ راست جنگ مسلط کرنا اتنا آسان نہیں۔ اس لیے "بیالوجیکل ویپن” (حیاتیاتی ہتھیار) استعمال کرکے چائینہ کے نظام کو مفلوج کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چائینہ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت برباد کرنے کے لیے چائینہ پر حیاتیاتی جنگ کا آغاز کردیا گیا ہے۔ "بل گیٹس” کی پیشین گوئی اور کورونا وائرس کے حملہ سے تین کروڑ لوگوں کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کرنا اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ "نوول کورنا وائرس19” بہت پہلے وجود میں لایا جا چکا ہے، جسے دشمن پر استعمال کرنے کے لیے مناسب وقت کا انتظار تھا۔
اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ سی پیک منصوبہ چائینہ اور پاکستان دونوں ممالک کی معیشت میں بہتری لانے اور اقتصادی مضبوطی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جب کہ سی پیک منصوبہ امریکہ، اسرائیل اور ہندوستان کو کسی صورت قبول نہیں۔ امریکہ بہادر نے تو پاکستانی سرکار کو کھلم کھلا سی پیک منصوبے سے دستبرداری کا کہا ہے، مگر چائینہ اور پاکستان ہر حال میں اس کو پایۂ تکمیل تک پہنچا دینا چاہتے ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا سے سی پیک منصوبہ بھی متاثر ہوگا، جب کہ چائینہ کا دنیا سے رابطہ منقطع کرکے اس کی معیشت پر کاری ضرب لگانے کی یہ ایک کوشش ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں فوج اتارنے اور اسلحہ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ الٹا علاج معالجے، طبی آلات، ادویہ اور ویکسین کی مد میں ملٹی نیشنل کمپنیاں اب کروڑوں ڈالرز کا سرمایہ کمالیں گی۔
قارئین، آپ بھلے ہی مجھ سے اتفاق نہ رکھیں، مگر مَیں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ بائیولوجیکل جنگ کا آغاز ہوچکا ہے، مگر دو ہاتھیوں کی اس جنگ میں غریب ممالک چیونٹیوں کی طرح تباہ ہوں گے۔ لہٰذا دنیا کے دوسرے بااثر اور طاقتور ممالک کو اس جنگ کو ہر حال میں روکنا ہوگا، ورنہ وہ بھی اس کے اثر سے بچ نہ سکیں گے۔
……………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے