310 total views, 1 views today

سلطان محمودِ غزنوی کی یہ عادت تھی کہ کبھی کبھی رات کو لباس تبدیل کرکے شہر میں پھرا کرتے تھے۔ ایک شب ایسا اتفاق ہوا کہ ایک ویرانہ میں چار آدمی کھڑے نظر آئے۔ سلطان نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم چور ہیں۔ سلطان نے کہا، مَیں بھی تو چور ہوں، چلو آج مل کر چوری کرتے ہیں، لیکن پہلے آپ اپنے اپنے اوصاف بیان کریں۔ ایک چور بولا، مَیں جانوروں کی بولی سمجھتا ہوں۔ دوسرے نے کہا، مَیں قوتِ شامہ سے خزانہ کی جگہ معلوم کرلیتا ہوں۔ تیسرے نے بغیر چابی کے تالا کھول دینے کو اپنا ہنر بتایا۔ چوتھے نے رات کی تاریکی میں کسی بھی شخص کو صبح ہزاروں کے مجمع میں پہچاننے کا دعویٰ کیا۔ اب سلطان کی باری آئی، تو وہ بولے: مجھ میں تو یہ کمال ہے کہ اگر کسی مجرم کو پھانسی ملنی ہو، اور مَیں ذرا سر ہلا دوں، تو فوراً اسے رہائی مل جاتی ہے۔ چور یہ بات سن کر نہایت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ بھائی تیرا کمال سب سے بڑھ کر ہے، جب تو ہمارے ساتھ ہے، تو پھر کیا خوف! کیوں نا آج شاہی خزانے پر ہاتھ صاف کرلیں۔ سلطان نے کہا، کیوں نہیں، چلیں! اب پانچوں آدمی شاہی محل کی طرف چل پڑے۔ راستے میں ایک کتا بھونکا، سلطان نے پوچھا کہ یہ کیا کہتا ہے؟ پہلا شخص بولا کہ کتا یوں کہتا ہے کہ تم میں ایک بادشاہ ہے۔ سلطان نے پوچھا کہ بھلا ہم میں سے کس کو بادشاہ بتلاتا ہے؟ اس نے کہا کہ بس اتنا ہی کہہ کر چپ ہوگیا۔ جب محل کے اندر پہنچے، تو ایک نے خزانہ پہچانا اور ایک نے بغیر چابی کے تالا کھول دیا۔ سب نے اپنا اپنا حصہ اُٹھایا اور چلے گئے۔ جب صبح ہوئی، تو ایک شور برپا ہوا کہ خزانہ سے چوری ہوئی ہے۔ سلطان نے چوں کہ نام و نشاں سب کا پوچھ لیا تھا، فوراً حکم دیا کہ چوروں کو فلاں فلاں جگہ سے گرفتار کرو، اور یہ بھی حکم دیا کہ چوروں کو میرے سامنے پیش مت کرنا، بلکہ سیدھا پھانسی گھاٹ لے جا کر میرے اگلے حکم کا انتظار کرنا۔ جب سب چور پکڑے جانے کے بعد اکھٹے ہوئے، تو آپس میں پوچھنے لگے کہ ہمارا وہ پانچواں یار کہاں ہے؟ ایک بولا کہ ہاں رات کو اس کتے نے خبر دی تھی، شاید وہ ہی بادشاہ ہو۔ چوتھے نے کہا، اگر وہ بادشاہ تھا تو میں ضرور اسے پہچان لوں گا۔ یہ گفتگو کرکے سب چور جیل سپرنٹنڈنٹ سے فریاد کرنے لگے کہ جناب، پھانسی تو ہمارے لیے تیار ہے۔ بس ایک دفعہ ہمیں بادشاہ کے روبرو لے چلو۔ ان کی فریاد جب سلطان کے گوش گزار کردی گئی، تو حکم ملا پیش کرو اُن چوروں کو۔ جب سامنے لائے گئے، تو جس چور میں یہ کمال تھا، وہ بولا: حضور، ہم چاروں کے اوصاف تو ظاہر ہوچکے۔ اب آپ کا سر کس وقت ہلے گا کہ یہ چار مجرم سزائے دار سے رہائی پائیں۔ یہ سن کر سلطان کو ہنسی آگئی، اور سب چوروں کو رہا کردیا۔ مطلب یہ ہے کہ جب تک ’’عرفان سلطان‘‘ نہ تھا، سب مجرم تھے۔ جب عرفان حاصل ہوا کہ ہمارا فعل عین فعلِ سلطان تھا، تو پھر جرم کیسا اور پھانسی کس کو؟
عزیزانِ من، صوفیائے کرام کی جماعت ایسی مثالوں سے بہت بڑے مطالب اخذ کرتی ہے جس کی تشریحات سے ان کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ میں یہاں قلم و قرطاس گواہ کرکے ’’عرفان سلطان‘‘ کی وہ تشریح نہیں کرسکتا جو صوفیا کے ہاں کی جاتی ہے۔ جو لوگ ذوقِ مطالعہ رکھتے ہیں، وہ سمجھ چکے ہوں گے کہ مَیں کیا کہنا چاہتا ہوں۔ البتہ جو حضرات نہیں سمجھے، وہ اگر یہ تکلیف نہ ہی گوارا کریں، تو ان کے لیے بہتر ہے ۔
بہرحال کسی بھی قسم کی پیچیدہ گفتگو کیے بغیر اس کہانی کا مقصد سمجھا دیتا ہوں، جو مَیں نے تمہید کے طور پر تحریر کی ہے۔ اس کہانی کا سادہ سا مفہوم یہ ہے کہ ان چوروں نے تو سلطان کے ساتھ مل کر چوری کی تھی، لیکن ان کو اس وقت سلطان کی پہچان نہیں تھی، اسی لیے وہ چور تھے۔ جب انہوں نے سلطان کو پہچان لیا کہ یہ تو ہمارا وہ پانچواں یار ہے، اب وہ کیسے چور ہوئے؟ کیوں ان کا فعل سلطان کا فعل اور سلطان کا فعل ان کا فعل۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کے اندر بھی یہی صورتحال ہے۔ آج اس جمہوری دور میں رہتے ہوئے بھی ہمارے ملک میں سلطان کی حکمرانی ہے۔ آج ہمارے ملک کے رکھوالے سلطان بنے ہوئے ہیں۔ اگر کسی حکمران کو سلطان کی پہچان ہو جائے، تو ٹھیک ورنہ لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف جیسے کرداروں کے انجام سے تو آپ روشناس ہوچکے ہیں۔
عزیزانِ من، اس میں آج جو تبدیلی آئی ہے، وہ یہ ہے کہ سلطان کی جگہ کپتان تخت نشین ہوا ہے۔ آج جس کو ’’عرفانِ کپتان‘‘ ہو جائے، تو پھر وہ جو بھی کرنا چاہے کرسکتا ہے۔ وہ چور تصور نہیں کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر وہ سعد رفیق جس نے ریلوے کا ادارہ اپنے پیروں پر کھڑا کیا تھا، وہ آج چور ہے اور جیل میں ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ اسے عرفانِ کپتان نہیں تھا۔ دوسری طرف وہ ’’پنڈی بوائے شیخ رشید‘‘ جس نے ریلوے کا بیڑا غرق کر دیا، جس میں آج لاکھوں روپے کی ایک ایک نوکری بک رہی ہے، وہ چور نہیں ہے، کیوں؟ اس لیے کہ اسے عرفانِ کپتان ہوا ہے ۔ وہ شاہد خاقان عباسی جو شرافت کا پیکر ہے جس نے اپنے دور میں پیٹرول اور گیس کی قیمتوں کو کنٹرول کر رکھا تھا، وہ آج چور ہے اور سزا بھگت رہا ہے، کیوں؟ اس لیے کہ اسے عرفانِ کپتان نہیں تھا۔ اس کے بر خلاف وہ وزرا جن کی وجہ سے پیٹرول، گیس اور بجلی مہنگی ہورہی ہے وہ چور اس لیے نہیں ہیں کہ انہیں عرفانِ کپتان حاصل ہے ۔ وہ وزرا جن پر ’’ملم جبہ اراضی ، اور پشاور بی آر ٹی‘‘ میں کرپشن کے الزامات ہیں، وہ وزارتوں کے مزے لے رہے ہیں اور وہ احسن اقبال جن کے خلاف ثبوت تو دور ان پر الزام بھی سیدھا سیدھا نہیں ہے، وہ حراست میں ہیں۔ آج عرفانِ کپتان رکھنے والے زلفی بخاری کے خلاف تو نیب تحقیقات بند ہو جاتی ہیں اور سابق صدر اور دو سابق وزرائے اعظم کے خلاف نیب کے نئے کیسز کھولے جاتے ہیں، یہ اگر عرفانِ کپتان نہ ہونے کی سزا نہیں ہے، تو کیا ہے ؟
عزیزانِ من، سلطان محمودِ غزنوی تو جرم کا سد باب کرنے کی خاطر چوروں کے ساتھ بن گئے تھے، لیکن یہاں تو سارے چور کپتان کی زیرِ کفالت آگئے ہیں۔ ایک طرف تو کپتان اپنے سیاسی مخالفین کو ازراہِ تکبر کہہ رہے ہیں کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔ دوسری طرف بے روزگاری اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے عوام کو ازراہِ تفنن کہتے ہیں کہ آپ نے ڈرنا نہیں ہے۔
کپتان صاحب، براہِ کرم آپ عوامی مسائل کو سنجیدگی سے دیکھیں اور یہ ’’نہیں چھوڑوں گا‘‘ کا نعرہ اب چھوڑ دیں۔ اتنا غرور اچھا نہیں۔ آپ سے پہلے ایک ایسا صدر بھی گزرا ہے جو کہتا تھا کہ ’’مَیں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں۔‘‘ آج اسے بچانے کے لیے آپ کی حکومت عدالتوں کے چکر کاٹ رہی ہے۔ آپ اتنی بھی سمجھ نہیں رکھتے کہ حالات گردش بھی کرتے ہیں، جس کی گردش میں اکثر تخت کے تاج دار، تختۂ دار پر لٹکا دیے جاتے ہیں۔ اور ہم تو عوام ہیں ہمارا کیا……!
ہم دیکھیں گے……!
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن بھی ہمیں دکھایا گیا
جب بھٹو کو لٹکایا گیا
پھر ضیا کو فضا میں اڑایا گیا
نواز کو مینڈیٹ تھمایا گیا
پھر زِندانِ اٹک دکھایا گیا
بے نظیر کا ڈراما رچایا گیا
جیالوں کو ڈاکو بنایا گیا
پھر شیر کو واپس بلایا گیا
معیشت کا پہیہ گھمایا گیا
قاضی کو میداں میں اتارا گیا
اور سٹیج دوبارہ سجایا گیا
کپتان کو لاکر بٹھایا گیا
یہ سب کچھ ہم نے دیکھا ہے
آئندہ بھی ہم دیکھیں گے
میرا رب جانے کی کب تک ہم
اپنوں کے ہاتھوں روئیں گے
………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے