159 total views, 1 views today

ایدھی فاؤنڈیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سن 2019ء کے دوران میں فقط کراچی شہر سے 375 نوزائیدہ بچوں کی لاشیں ملی ہیں۔ ان میں زیادہ تعداد بچیوں کی تھی جن کو کوڑے دان، سڑک کنارے، ندی نالیوں یا کسی ویرانے میں پھینک دیا گیا تھا۔ ادارے کے مطابق انہوں نے ننھی لاشوں کو “ایدھی قبرستان” میں دفن کرا دیا ہے۔
قارئین، 375 کی تعداد پر سوچا جائے، تو بندہ حیران رہ جاتا ہے۔ کیوں کہ سال میں صرف تین سو پینسٹھ دن ہوتے ہیں، اس تعداد کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ روزانہ ایک نومولود کی جان لی جاتی ہے۔  مزید یہ کہ یہ تعداد صرف کراچی شہر کی ہے۔ لہٰذا اندرونِ سندھ سمیت صوبہ سندھ کے دیگر شہروں میں کتنی ننھی جانوں کو مار دیا گیا ہوگا؟ پھر صوبہ بلوچستان، صوبہ پنجاب، صوبہ خیبر پختونخوا اور کشمیر سمیت گلگت بلتستان سے بھی اگر تعداد اکھٹی کی جائے، تو معلوم ہوجائے گا کہ ایک دن میں کتنے بچے اور بچیاں بے وقت، جرمِ ناکردہ کی بھینٹ چڑھائی جاتی ہیں۔
375 کی یہ تعداد ان بدنصیبوں کی ہے جن کی لاشیں “ایدھی فاؤنڈیشن” کو مل چکی ہیں، لیکن جو بدنصیب ابھی تک کسی کی نظروں سے اوجھل ہیں، ان کی تعداد کتنی ہوگی؟ اللہ جانے، مگر موجودہ اعداد و شمار بھی یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ اکیسویں صدی میں رہتے ہوئے بھی ہم پتھر کے زمانے میں رہنے والوں سے بھی بدتر ہیں۔ کیوں کہ مشرکینِ عرب کا یہ فعل تھا کہ بچی کی پیدائش پر اسے زندہ درگور کیا کرتے تھے، جس کا ذکر قرآنِ مجید میں بھی موجود ہے۔ ماڈرن انسان نے فقط اتنی ترقی کرلی کہ اب الٹراساؤنڈ کے ذریعے پہلے سے معلوم کرلیتا ہے، پھر اگر جنس زنانہ ہو، تو پیدائش سے پہلے ہی اسقاطِ حمل کروا کر ننھے مہمان کو مار دیا جاتا ہے۔ یوں اشرف المخلوقات کہلایا جانے والا انسان کبھی کبھی حیوان سے بھی بدتر بن جاتا ہے۔ کیوں کہ حیوان بھی اپنے بچوں کو نہیں مارتے۔ یہ امتیاز بھی صرف حضرتِ انسان ہی کو حاصل ہے۔
اسقاط حمل کے اس مکروہ دھندے میں ڈاکٹرز برادری کے کچھ کالے بھیڑ بھی شامل ہیں، جو فقط چند روپوں کے لیے خواندہ قاتل بن جاتے ہیں، اور وہ بھی ایک ننھی جان کے۔
مذکورہ لاوارث لاشوں میں ایک بڑی تعداد ان بچوں اور بچیوں کی بھی ہے جو مبینہ طور پر بدکاری یا بغیر نکاح کے تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہ بھی اس معاشرے کا انتہائی افسوسناک پہلو ہے۔ اگر گناہ مرد اور عورت کرے، تو سزا ننھی جان کو کیوں ملے؟ جس کو قطعاً اپنی پیدائش اور پیدائش کے طریقۂ کار کا اختیار نہیں۔ اس پر بھی ہمیں سوچنا چاہیے۔
جس معاشرے میں زنا آسان ترین اور نکاح مشکل ترین بن جائے، وہاں “ناجائز” بچوں کی پیدائش یا ان کے لاشوں کا ملنا حیران کن نہیں۔ پریشان کن امر لیکن یہ ہے کہ آج تک اس حوالے سے ریاست یا حکومت نے کوئی بھی اقدام نہیں کیا۔ کہنے کو تو یہ “نیا پاکستان” ہے اور “ریاستِ مدینہ” کا مقدس خواب پیش کیا جاتا ہے، مگر زمینی حقایق بدقسمتی سے کچھ اور صورتحال پیش کر رہے ہیں۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق سن 2018ء کے مقابلے میں 2019ء میں ملنے والے لاوارث نومولود پھینکی جانے والی لاشوں کی تعداد دوگنی ہوگئی ہے۔ تو کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ نئے پاکستان میں نومولود پھینکی جانے والی لاشوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے؟ اگر ہاں، تو کیوں؟ کیا کیا جائے، ہر طرف سیاست اور کمزور معیشت کا اتنا غلغلہ ہے کہ کسی کو احساس ہی نہیں ہو رہا کہ یہ معاشرہ کس طرف گامزن ہے؟ ایک طویل وقت سے یہ کہتے کہتے تھک گیا ہوں کہ یہ معاشرہ اور یہ نظام بچنے والے نہیں۔ منافقت کسی بھی زخم کا مرہم نہیں۔ اس نظام اور سماج کو حقیقی مسلمان ہونا پڑے گا۔ کیوں کہ کہنے کو تو یہ ملک “اسلامی جمہوریہ پاکستان” ہے جو کہ نہ اسلامی ہے نہ جمہوری، تو پاک کہاں سے ہوا؟ یا صریح کافر ہونا پڑے گا کہ کفار کے معاشرے ہم سے بہت بہتر ہیں۔ کم ازکم وہاں “ریاستِ مدینہ” کا مقدس خواب اور اسلام کا محترم نام تو نہیں بیچا جاتا۔ روزِ قیامت اگر یہ ننھی جانیں اللہ سے شکایت کردیں، تو جواب کیا ہوگا ہمارے پاس، حکومت کے پاس اور اس سماج کے پاس؟ بقولِ جون ایلیا
بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
آبلے پڑگئے زبان میں کیا؟
………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے