378 total views, 1 views today

بلاشبہ کتاب بہترین دوست ہے۔کتاب کی دوستی ہمیں باقی لوگوں سے مختلف بنا دیتی ہے ۔ کتاب دوستی ہی کی وجہ سے ہم شعور کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں۔
قارئین، ہماری بدنصیبی ہے کہ کتابیں پڑھنے کا شوق ہمارے معاشرے سے تیزی سے ختم ہو رہا ہے ۔ ہم وہ لوگ ہیں، جو پانچ ہزار کا جوتا تو خریدلیتے ہیں، مگر 500 کی کتاب خریدنے سے کتراتے ہیں۔ ہمارے شہروں میں لائبریری والا کلچر تیزی سے معدومیت کی طرف گامزن ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اس دور میں کسی کو کتاب کا تحفہ دینا واقعی نعمت سے کم نہیں۔
قارئین، کیوں نہ اس چھوٹی سی تمہید کے بعد آج کی بیٹھک میں آپ سے لاہور میں سی ایس ایس کے طلبہ و طالبات کو انگریزی پڑھانے والی ایک ایسی دریا دل استانی کی ملاقات کراؤں جو اپنی تنخواہ سے کتابیں خرید کر ملک کے کونے کونے تک غریب عوام کے بچوں کو کتاب کا تحفہ دیتی ہٰن۔جی ہاں، آپ ہیں محترمہ فاطمہ بتول، جو پچھلے پانچ سال سے سی ایس ایس کے طلبہ و طالبات کو لاہور میں انگریزی پڑھاتی ہیں۔ ساتھ ’’لیڈرز ان فاؤنڈیشن‘‘ کے نام سے ایک تنظیم چلاتی ہیں، جس سے غریب طلبہ و طالبات کی مدد کرنا مقصود ہے۔ برسبیلِ تذکرہ، کچھ مہینے پہلے ’’سوات پبلک لائبریری‘‘ میں ایسی کچھ کتابیں بچوں کو پڑھنے کے لیے چاہیے تھیں، جو نایاب تھیں۔ لاہور میں سوات کے ایک نوجوان شاہ اصغر خان جو سی ایس ایس کی تیاری محترمہ فاطمہ بطول کی زیرِ نگرانی کر رہے ہیں، نے محترمہ کو درخواست کی کہ سوات میں پبلک لائبریری کو کچھ کتب درکار ہیں۔ ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر آپ اپنی فلاحی تنظیم ’’لیڈرز ان فاؤنڈیشن‘‘ سے ہماری مدد فرمائیں، تو از چہ بہتر! محترمہ نے جواباً فرمایا کہ میرا ہر قسم کا تعاون آپ کے ساتھ ہے۔ اگلے ہی دن انہوں نے مطلوبہ کتب خرید کر شاہ اصغر خان کے حوالہ کیں جو بعد میں سوات کے سوشل ورکر ریاض احمد حیران کے ہاتھوں سوات پبلک لائبریری کے حوالہ کی گئیں۔
قارئین، مَیں ان سطور کے ذریعے محترمہ فاطمہ بتول کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ ساتھ یہ امید بھی رکھوں گا کہ وہ آگے بھی اہلِ سوات کو نادر کتب کا تحفہ دیں گی۔ اس شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ
اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا
………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے