214 total views, 1 views today

بھارت میں شہریت کے نئے قانون نے کہرام برپا کر رکھا ہے۔ ملک گیر سطح پر مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ مسلسل دراز ہوتا جا رہا ہے۔ مسلمان، جو اس قانون سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، نہ صرف سراپا احتجاج ہیں، بلکہ انصاف پسند ہندو اور سکھ بھی ان کے ہم آواز ہیں۔ پولیس نے جامعہ ملیہ کے طلبہ پر تشدد کیا، تو بھارت کے طول وعرض میں صدائے احتجاج بلند ہوئی۔ بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینر جی نے لاکھوں افراد کے ایک احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اس قانون کو مسترد کیا۔
گذشتہ چھے برسوں میں وزیراعظم نریندا مودی کی حکومت کے خلاف یہ پہلا ملک گیر اور بھرپور احتجاج تھا۔ شہریت کے نئے قانون نے حزبِ اختلاف اور جمہوریت پسند شہریوں پر واضح کردیا کہ بھارت سیکولر اور لبرل ملک کے بجائے تیزی سے ایک کٹر مذہبی ریاست بننے کے راستے پر گامزن ہے۔چناچہ وہ سیاسی وابستگیاں بالائے طاق رکھ کر باہر نکلے اور خوب نکلے۔ نئے قانون میں خطے کے ممالک مثلاً افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے بھارت ہجرت کرنے والے مسلمانوں کو شہریت نہ دینے کا اعلان کیا گیا۔ اس پر بھی بہت لے دے ہوئی کہ بھارتی آئین ایسا قانون بنانے کی اجازت نہیں دیتا ہے جو غیر مساویانہ ہو۔
نیشنل رجسٹرڈ سٹیزن کا قانون جو پچاس کی دہائی سے موجودہ تھا، اب اس پر سختی سے عمل درآمد شروع کردیا گیا ہے۔ جن شہریوں کا نام اس ڈیٹا بیس میں موجود نہیں، وہ شہریت سے محروم ہوجائیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت کی ریاست آسام میں آباد بیس لاکھ کے لگ بھگ مسلمان کسی بھی وجہ سے اس ڈیٹابیس میں اپنا نام نہیں لکھوا سکے۔ حالاں کہ یہ لوگ گذشتہ کئی عشروں سے آسام میں آباد ہیں۔ انہیں اب اپنی شہریت ثابت کرنا ہوگی۔ بصورتِ دیگر ان کے لیے حراستی کیمپوں کی تعمیر جاری ہے جہاں انہیں قید کردیا جائے گا۔ اگلے مرحلے میں انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔ وزیرِ داخلہ ’’امیت شاہ‘‘ کہتے ہیں کہ ایک بھی غیرقانونی شخص اب بھارت میں قیام نہیں کرسکے گا۔ اس کے برعکس غیرقانونی طور پر مقیم ہندوؤں، سکھوں، پارسیوں اور عیسائیوں کو نہ صرف فوری شہریت دی جائے گی، بلکہ بیرونِ ملک سے آنے والوں کو بھی۔
بھارت ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے سنجیدہ حلقوں میں یہ خطرہ اب شدت سے محسوس کیا جاتا ہے کہ بھارت ایک خطرناک راہ پر چل نکلا ہے۔ اسے روکا ٹوکا نہ گیا، تو بھارتی مسلمانوں کا حال بھی ایک دن روہنگیا مسلمانوں جیسا ہوگا۔ کیوں کہ بھارت کی موجودہ حکومت اسی راستے پر گامزن ہے۔ مثال کے طور پر مسلمانوں کو معاشرے میں اچھوت بنایا جا رہا ہے، جن کی جان مال اور عزت و آبرو کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ آئے روز انہیں معمولی بہانوں سے عوامی مقامات پر سرِعام مارا پیٹا جاتاہے۔ راشٹریہ سیوک سنگھ کے ہاتھوں میں موجودہ بھارتی حکومت کی باگیں ہیں۔ یہ کوئی سیاسی یا نظریاتی جماعت نہیں بلکہ باقاعدہ ایک نیم عسکری تنظیم ہے، جو پورے بھارت کو اپنی گرفت میں لے چکی ہے۔ اس سال اکتوبر میں آرایس ایس کے سربراہ "موئن بھاگوت” نے کہا کہ بھارت ایک ہندو دیش ہے۔ ایک ہندو قوم۔ اس پر کوئی سودا بازی نہیں ہوسکتی۔ آر ایس ایس اور اس سے متاثر افراد مسلمانوں کو غیر ملکی بلکہ ملک دشمن تصور کرتے ہیں۔
داخلی احتجاج اپنی جگہ لیکن عالمی سطح پر بھی اس قانون کے خلاف حیرت انگیز طور پر زبردست نکتہ چینی کی گئی۔ کئی ایک ممالک کے اخبارات نے اس موضوع پر اداریے لکھے اور قارئین کو بتایا کہ بھارت میں تیزی سے اُبھرنے والی انتہا پسندی کی لہر کا یورپ اور امریکہ میں پائے جانے والے سفید فام نسل پرستوں سے گہرا تعلق ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے نظریات سے متاثر بھی ہیں، اور ایک دوسرے کے مددگار بھی۔ یورپی یونین کے ایک ستائیس رکنی وفد نے حال ہی میں سری نگر کا دورہ کیا، جو سب کے سب پولینڈ، فرانس اور برطانیہ کی نسل پرست جماعتوں سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بھارتیہ جنتا پارٹی کی ابھرتی ہوئی سیاسی طاقت سے مرغوب بھی ہیں، اور اسے یورپ میں دہرانا چاہتے ہیں۔ یورپ کے کئی ایک ممالک اور خاص طور پر لبرل اور انسانی حقوق کے علمبردار سخت پریشان ہیں کہ کئی بھارت سے ابھرنے والی لہر یورپ کے انتہا پسندوں کو فکری غذا اور تنظیمی مدد نہ فراہم کرے۔ ایک اور دلچسپ با ت یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ میں آباد بھارتی شہریوں کی بھاری اکثریت بھی ان ممالک کی قدامت پسند اورنسل پرست جماعتوں کی حمایت کرتی ہے۔
پاکستان کو عالمی برادری کے اشتراک سے آر ایس ایس اور دیگر انتہا پسند گروہوں کے خلاف لابنگ جاری رکھنی چاہیے۔ تاہم آر ایس ایس یا بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخالفت کا یہ مطلب نہیں کہ بھارت یا سارے بھارتی شہریوں کو برا بھلا کہا جائے۔ اس طرح بھارت کی پالیسیوں پر کسی قسم کے ردِ عمل کا شکار بھی نہیں ہونا چاہیے۔ کرتارپور راہداری کھول کر پاکستان نے دنیا کو مثبت پیغام دیا کہ وہ ایک صحت مند ملک بننے کی راہ پر گامزن ہے۔
بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ بھارت کی نقل کرتے ہوئے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کو پاکستان میں ضم کردینا چاہیے۔ آزاد کشمیر کا اسٹیٹس ختم کردینا چاہیے۔ یہ طرزِ فکر شکست خوردہ ذہنیت کی عکاسی کرتاہے۔ کوئی کشمیریوں کا ساتھ دے یا نہ دے، پاکستان کو کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ کیوں کہ یہ اصولی مؤقف ہے جس کی بنیاد لالچ یا خوف نہیں بلکہ کشمیریوں کی جدوجہد کا مبنی بر حق ہونا ہے۔ اسی طرح ریاست جموں و کشمیر کی وحدت کشمیریوں کے لیے ایک جذباتی مسئلہ ہے، اسے زیرِ بحث لانے کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں قابلِ ذکر کامیابی نہ ملنے، داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے اور پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لیے بھارت نے کنٹرول لائن پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ محض گذشتہ ایک ہفتے میں تین شہری جاں بحق ہوچکے ہیں، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ نیلم ویلی گولہ باری کا اس مرتبہ ہدف ہے۔ آزاد کشمیر پر حملہ کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔اس لیے جہاں باخبر اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے، وہاں داخلی سطح پر اتحاد اور استحکام کی بھی سخت ضرور ت ہے۔

…………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے