543 total views, 1 views today

ضلع سوات دو قومی و سات صوبائی حلقوں پر مشتمل علاقہ ہے۔ اس کی آبادی بیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ موجودہ وقت میں صرف ایک صوبائی حلقے کے علاوہ باقی تمام پر پاکستان تحریک انصاف کے ممبرانِ اسمبلی قومی و صوبائی حلقوں میں سوات کی نمائندگی کررہے ہیں۔ مزید کچھ لکھنے سے پہلے یہ واضح کرتا چلوں کہ فی الحال میں سوات کے حلقہ این اے انیتس اور شہری حلقہ پی کے اسّی کے مسائل اور سیاسی صورتحال کو عوام کے سامنے لانے کی کوشش کروں گا۔

موجودہ وقت میں صرف ایک صوبائی حلقے کے علاوہ باقی تمام پر پاکستان تحریک انصاف کے ممبرانِ اسمبلی قومی و صوبائی حلقوں میں سوات کی نمائندگی کررہے ہیں

موجودہ وقت میں صرف ایک صوبائی حلقے کے علاوہ باقی تمام پر پاکستان تحریک انصاف کے ممبرانِ اسمبلی قومی و صوبائی حلقوں میں سوات کی نمائندگی کررہے ہیں

این اے انتیس جو سوات کا ایک بڑا حلقہ ہے، اس کے مسائل بہت زیادہ ہیں۔ پچھلے الیکشن میں اس حلقہ سے پی ٹی آئی کے مراد سعید نے ریکارڈ تعداد میں ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ تحریک انصاف نے تبدیلی کے نام پر الیکشن مہم چلائی جبکہ حلقہ کے عوام زیادہ مسائل کی وجہ سے تبدیلی کے متلاشی تھے اور اسی بنیاد پر لوگوں نے مراد سعید کو اٹھاسی ہزار سے زائد ووٹ دے کر انہیں کامیاب بنایا۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ موصوف نے اسمبلی میں قومی ایشوز پر آواز اٹھائی مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ قومی ایشوز میں ایم این اے موصوف کو اپنے حلقہ کی فکر نہ رہی اور عوام نے جن توقعات کی بنیاد پر موصوف کو کامیاب بنایا تھا، وہ پوری نہیں ہوئیں۔ مثال کے طور پر سیدو شریف ایئرپورٹ جو موصوف کے آبائی علاقہ میں ہے، تاحال بند ہے۔ سوئی گیس و بجلی کے مسائل کو حل کرنے میں موصوف مکمل طور پر ناکام ہیں۔ کھنڈر نما سڑکوں کی تعمیر نہیں ہوئی۔ موصوف ہمیشہ یہ کہہ کر گلوخلاصی کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ادارے وفاق کے زیر انتظام ہیں اور اس لئے ہمارا بس ان اداروں پرنہیں چلتا۔




سیدو شریف ایئرپورٹ مراد سعید کے آبائی علاقہ میں ہے، تاحال بند ہے۔ سوئی گیس و بجلی کے مسائل کو حل کرنے میں موصوف مکمل طور پر ناکام ہیں۔ کھنڈر نما سڑکوں کی تعمیر نہیں ہوئی۔ موصوف ہمیشہ یہ کہہ کر گلوخلاصی کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ادارے وفاق کے زیر انتظام ہیں اور اس لئے ہمارا بس ان اداروں پرنہیں چلتا۔

سیدو شریف ایئرپورٹ مراد سعید کے آبائی علاقہ میں ہے، تاحال بند ہے۔ سوئی گیس و بجلی کے مسائل کو حل کرنے میں موصوف مکمل طور پر ناکام ہیں۔ کھنڈر نما سڑکوں کی تعمیر نہیں ہوئی۔ موصوف ہمیشہ یہ کہہ کر گلوخلاصی کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ادارے وفاق کے زیر انتظام ہیں اور اس لئے ہمارا بس ان اداروں پرنہیں چلتا۔

خیر چھوڑئیے، آئندہ الیکشن کے حوالہ سے بات کرتے ہیں، جس طرح سب کو معلوم ہے کہ تحریک انصاف سوات میں ایک مضبوط سیاسی قوت ہے، مگر آئندہ الیکشن کیلئے فی الحال تیاریوں میں یہ جماعت اب تک ناکام ہے۔ اس مرتبہ پاکستان تحریک انصاف سے حلقہ این اے انتیس کیلئے سعید خان ڈھیرئی اور مراد سعید کے نام گردش کر رہے ہیں، مگر قوی امکان یہی ہے کہ ٹکٹ مراد سعید ہی کو ملے گی۔ اسی طر ح اے این پی سے اس بار حیران کن طور پرکئی امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے ہیں جن میں سابقہ ایم این اے مظفر الملک کاکی خان، شیر شاہ خان آف کوزہ بانڈئی، سوات بار کے سابقہ صدر حضرت معاذ، شیراز خان، حاجی رضا خان اور فضل معبود بابو شامل ہیں۔ تاہم ان میں شیرشاہ خان آف کوزہ بانڈئی جن کو پارٹی میں کئی اہم شخصیات کی حمایت حاصل ہے اور حضرت معاذ ایڈووکیٹ مضبوط امیدوار ہیں۔ حضرت معاذ ایڈووکیٹ کوسوات بار کے کم عمرترین صدر کا اعزاز بھی حاصل ہے جبکہ سوات بار کی تاریخ میں وہ واحد صدر ہیں جن کو تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی اور بار کی تاریخ میں سب سے زیادہ ترقی موصوف کے دور میں ہی ہوئی۔ اسی بنیاد پر پارٹی قیادت موصوف کو ٹکٹ دینے کیلئے سنجیدگی سے سوچ رہی ہے۔ اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی سے شاہی خاندان کے سپوت میانگل شہریار امیرزیب الیکشن لڑیں گے جو حلقہ سے مضبوط ترین امیدوار تصور کئے جا رہے ہیں۔ پی ایم ایل (ن) کے ضلعی جنرل سیکرٹری انجینئر عمر فاروق (جو پارٹی میں فرد واحد کے فیصلوں سے بغاوت کر بیٹھے تھے)کو ٹکٹ دینے کے وعدے پر رضامند کیا گیا ہے اور قوی امکان ہے کہ موصوف کو ٹکٹ دی بھی جائے گی۔ اسی طرح جمعیت علمائے اسلام سے اسحاق زاہد کو نامزد کرنے کی اطلاعات ہیں، مگر مولانا حجت اللہ بھی اس مرتبہ قومی حلقہ سے الیکشن لڑنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ جماعت اسلامی تاحال اس حلقہ سے امیدوار سامنے نہیں لائی ہے۔ اسی طرح قومی وطن پارٹی نے بھی ابھی تک اسی حلقے کیلئے اپنا امیدوار سامنے نہیں لایا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق این اے انتیس کو ممکنہ اتحاد کے حوالے سے خالی چھوڑ دیا گیا ہے۔ کچھ دنوں بعد پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے درمیان ملاقات بھی متوقع ہے۔ اسی طرح خیال کیا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دونوں پارٹیوں کا اتحاد ہوسکتا ہے۔ اتحاد نہ ہونے کی صورت میں اس حلقے سے فضل رحمن نونو سب سے مضبوط امیدوار ہوں گے جن کو کئی بار الیکشن لڑنے کا تجربہ حاصل ہے اور سوات میں وہ سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

حضرت معاذ ایڈووکیٹ کوسوات بار کے کم عمرترین صدر کا اعزاز بھی حاصل ہے جبکہ سوات بار کی تاریخ میں وہ واحد صدر ہیں جن کو تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی اور بار کی تاریخ میں سب سے زیادہ ترقی موصوف کے دور میں ہی ہوئی۔ اسی بنیاد پر پارٹی قیادت موصوف کو ٹکٹ دینے کیلئے سنجیدگی سے سوچ رہی ہے۔

حضرت معاذ ایڈووکیٹ کو سوات بار کے کم عمر ترین صدر کا اعزاز بھی حاصل ہے جبکہ سوات بار کی تاریخ میں وہ واحد صدر ہیں جن کو تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی اور بار کی تاریخ میں سب سے زیادہ ترقی موصوف کے دور میں ہی ہوئی۔ اسی بنیاد پر اے این پی کی قیادت موصوف کو ٹکٹ دینے کیلئے سنجیدگی سے سوچ رہی ہے۔

حلقہ پی کے اسّی شہری علاقہ ہے۔ سوات کے دیگر حلقوں کی نسبت اس میں مسائل انتہائی زیادہ ہیں۔ خصوصاً پانی کی قلت، سوئی گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ، ٹریفک جام سمیت دیگر کئی ایسے اہم مسائل ہیں جنہوں نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو مشکلات کا شکار بنا دیا ہے۔ اسی حلقہ سے موجودہ ممبر صوبائی اسمبلی فضل حکیم خان ہے جس کی چار سالہ کارکردگی سے عوام تقریباً ناخوش ہیں۔ اسی حلقہ میں ڈویژن کے دو بڑے ہسپتال بھی واقع ہیں جن کی حالت دیکھنے کے لائق ہے۔ موصوف ہر اس جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں مسائل ہوتے ہیں، مگر اس کے حل کیلئے باتوں اور تقریروں کے علاوہ کوئی حکمت عملی موجود نہیں ہوتی۔ خصوصاً پانی کی قلت، بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ کے بارے میں شہری موصوف کی کارکردگی سے کافی مایوس ہیں۔ اس وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے اہم عہدیدار اور کارکن آئندہ الیکشن میں موجودہ ایم پی اے کو ٹکٹ دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ آنے والے الیکشن میں پی ٹی آئی پی کے اسّی کیلئے ضیاء اللہ جانان، سہیل سلطان ایڈووکیٹ، شاہد علی خان، زاہد خان عرف باز خان اور وسیم اکرم الیکشن لڑنے کے خواہش مند ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اس مرتبہ چیئر مین عمران خان ہر امیدوار سے خود انٹرویو لیں گے اور امیدوار کی تعلیم اور سماجی کاموں کو مدنظر رکھ کر ٹکٹ دیں گے۔ اس طرح پاکستان پیپلز پارٹی سے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے سیدوشریف کے ناظم میانگل امیرزیب شہریار، ریاض احمد ایڈووکیٹ، اقبال حسین بالے اور دنیا زیب خان ایڈووکیٹ الیکشن لڑنے کی خواہش رکھتے ہیں، تاہم اس حوالے سے ابھی واضح نہیں کہ پارٹی کس کو ٹکٹ دے گی؟ تاہم میانگل امیر زیب شہریار کے چانسز زیادہ ہیں اور پارٹی کے نوجوانوں کی بھرپور حمایت بھی انہیں حاصل ہے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے سابقہ ایم پی اے محمد امین کو نامزد کردیا گیا ہے۔

پانی کی قلت، بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ کے بارے میں شہری فضل حکیم کی کارکردگی سے کافی مایوس ہیں۔ اس وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے اہم عہدیدار اور کارکن آئندہ الیکشن میں موجودہ ایم پی اے کو ٹکٹ دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ آنے والے الیکشن میں پی ٹی آئی پی کے اسّی کیلئے ضیاء اللہ جانان، سہیل سلطان ایڈووکیٹ، شاہد علی خان، زاہد خان عرف باز خان اور وسیم اکرم الیکشن لڑنے کے خواہش مند ہیں۔

پانی کی قلت، بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ کے بارے میں شہری فضل حکیم کی کارکردگی سے کافی مایوس ہیں۔ اس وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے اہم عہدیدار اور کارکن آئندہ الیکشن میں موجودہ ایم پی اے کو ٹکٹ دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ آنے والے الیکشن میں پی ٹی آئی پی کے اسّی کیلئے ضیاء اللہ جانان، سہیل سلطان ایڈووکیٹ، شاہد علی خان، زاہد خان عرف باز خان اور وسیم اکرم الیکشن لڑنے کے خواہش مند ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام سے مولانا حجت اللہ قومی اسمبلی کی طرح اس حلقہ میں بھی خواہش مند ہیں جبکہ اعجاز خان بھی متوقع امیدواروں میں شامل ہیں، تاہم علما کے ایک اجلاس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ٹکٹ صرف علما میں سے کسی کو دیا جائے جبکہ پارٹی کی ضلعی قیادت اعجاز خان کی حمایت میں نظر آتی ہے۔ قومی وطن پارٹی سے رفیع الملک کامران خان الیکشن لڑیں گے۔ اے این پی کی جانب سے اس حلقہ کیلئے سابقہ صوبائی وزیر واجد علی خان، حضرت معاذ ایڈووکیٹ، حاجی رضا خان اور خواجہ خان نے کاغذات جمع کرائے ہیں جس کی وجہ سے پارٹی قیادت اس حلقہ میں ٹکٹ دینے کے حوالے سے کافی محتاط نظر آرہی ہے اور ہوسکتا ہے کہ پارٹی قیادت درمیانی راستہ نکال کر حضرت معاذ ایڈووکیٹ کو ٹکٹ دے۔ اگر ایسا ہوتا ہے، تو ہوسکتا ہے کہ قومی سیٹ مفاہمت کی بنیاد پر دی جائے۔ اس حلقہ میں دلچسپ بات پاکستان مسلم لیگ پی کے اسّی میں اختلافات کی ہے۔ اس حلقے سے سٹی صدر صادق عزیز(جس نے مہم شروع کی ہے)، ارشاد خان اور حاجی عبدالرحیم سمیت دیگر بھی الیکشن لڑنے کے خواہش مند ہیں۔ پچھلی مرتبہ بھی اس قسم کی صورتحال تھی جس کی وجہ سے اس حلقے سے شانگلہ سے تعلق رکھنے والے انجینئر امیر مقام نے الیکشن لڑا تھا۔ پختونخوا میپ کی جانب سے ڈاکٹر خالد محمود خالد الیکشن لڑیں گے۔
جاتے جاتے واضح کرتا چلوں کہ یہ تجزیہ سیاسی معلومات کی بنیاد پر لکھا گیا ہے۔ لازم نہیں ہے کہ کالم میں چھپنے والی باتیں سو فیصد درست ثابت ہوں۔




تبصرہ کیجئے