112 total views, 1 views today

مولانا فضل الرحمان کا دھرنا کامیاب رہا یا ناکام، اور مولانا نے دھرنے سے کچھ حاصل کیا یا نہیں؟ یہ تو مولانا اور مذاکرات کرنے والی حکومتی ٹیم کو معلوم ہوگا کہ انہوں نے کیا دیا اور مولانا اُس پر راضی ہوئے؟ مولانا سے مذاکرات کرنے والی سرکار ٹیم میں وزیرِ دفاع، وزیرِ مذہبی امور، سینٹ کے چیئرمین اور قومی اسمبلی کے سپیکر شامل تھے، مگر دھرنا اُٹھوانے میں بنیادی کردار گجرات کے چوہدریوں نے ادا کیا۔ دھرنے کے خاتمے کے بعد پریس کانفرس میں چوہدری پرویز الٰہی نے کھل کر الزام لگایا ہے کہ وزیرِاعظم عمران خان پھٹیچر اور ریلوکٹے ٹائپ مشیروں میں گِھر چکے ہیں۔ پریس کانفرنس میں پرویز الٰہی کی یہ بات معنی خیر لگی کہ “مولانا کو جو کچھ دیا گیا ہے، وہ امانت ہے۔”
دھرنے کے خاتمے کے بعد حکومت کے اتحادیوں کے تیور بدلے بدلے سے نظر آ رہے ہیں۔ مسلم لیگ قاف اور ایم کیو ایم دونوں حکومتِ وقت کے سیاسی اتحادی ہیں، لیکن ان کے رہنماؤں کے منھ سے جو باتیں نکل رہی ہیں، ان میں تضاد پایا جاتا ہے اور اس سے بغاوت کی بُو بھی آتی ہے۔ مسلم لیگ قاف کے چوہدری شجاعت حسین، وزیرِاعظم کی تعریفیں کر رہے ہیں، جب کہ چوہدری پرویز الٰہی بغاوت پر آمادہ نظر آ رہے ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما خواجہ اظہار حسن کہتے ہیں کہ تحریکِ انصاف کی حکومت کا آئندہ بجٹ تک چلنا مشکل ہے، جب کہ ایم کیو ایم کے دوسرے رہنما خالد مقبول کا کہنا ہے کہ وہ مشکل حالات میں اتحادی کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتے۔ دھرنے کے خاتمے کے بعد ایک تجزیہ نگار کے اشاروں کنایوں میں حکومت اور افواجِ پاکستان کے درمیان اختلافات کی باتیں کرنے پر ڈی جی آئی ایس پی آر کو پریس کانفرنس میں کہنا پڑا کہ “پاکستانی فوج آئینی و ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔”
وزارتوں کی تبدیلی پر بھی اتحادیوں کو تحفظا ت ہیں۔ بختیار خسرو سے منصوبہ بندی کا قلم دان لے کر اسد عمر کو دینے پر وہ ناراض لگ رہے ہیں۔ اس لیے اسد عمر کے ساتھ دوسرے وزرا نے حلف نہیں اُٹھایا۔ مسلم لیگ قاف اور ایم کیو ایم کا وزیر اعظم پر دباؤ ہے کہ انہیں مزید وزارتیں دی جائیں۔ وزیر اعظم نے ایک ایک وزیر لینے کا وعدہ کیا تھا۔ گجراتی چوہدری اپنے کسی نوجوان کو وزیر بنانا چاہتے ہیں، جب کہ وزیر اعظم کسی سینئر رکنِ اسمبلی کو لینا چاہتے ہیں۔ ایم کیو ایم مزید وزارتیں نہ ملنے پر ناراض لگ رہی ہے، جب کہ جی ڈی اے نے بھی ناراضی کا اظہار کر دیا ہے۔ بلوچستان کی دو سیاسی پارٹیوں ’’باپ‘‘ اور ’’بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ‘‘ بھی مزید وزارتوں کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
اس تمام تر صورتحال میں عمران خان کو ایک مشکل یہ بھی در پیش ہے کہ پارلیمنٹ میں پاکستان تحریکِ انصاف کو اتنی اکثریت حاصل نہیں کہ وہ بعض سیاسی گروپوں کی معاونت کے بغیر مرکز میں حکومت قائم کرسکے اور پھر اسے چلا سکے۔ ایوان میں واضح اکثریت نہ ہونے کے سبب سیاسی مخالفین ان کا کسی عوامی فلاح و بہبود کا قانون پاس ہونے نہیں دیتے، اور نہ ہی ایسا آگے ہونے دیں گے، جب کہ ایوانِ بالا سے کوئی قانونی بِل پاس کرانا اپوزیش کی حمایت کے بغیر ناممکن ہے۔ اگر وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار میں اپنی آئینی مدت بطورِ وزیر اعظم پورا کرنے کی ٹھان رکھی ہے، تو اس کے لیے انہیں اپنے اتحادی رہنماؤں کی ہر جائز و ناجائز بات ماننا پڑے گی۔ کیوں کہ وہ سب کے سب تجربہ کار سیاست دان ہیں، جنہوں نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پی رکھا ہے۔ اگر وہ عمران خان کی حمایت کریں گے، تو اس کے بدلے ان سے بھاری سیاسی قیمت وصول کریں گے، جن میں مزید وزارتیں بھی ہوسکتی ہیں۔ اگر عمران خان ایسا نہیں کریں گے، تو ان کی حکومت کو گرنے سے کوئی نہیں بچا سکتا، اور اگر وہ پاکستان کے وزیرِاعظم رہنا چاہتے ہیں، تو ان کو اپنے وہ اُصول قربان کرنا ہونگے جن کی وجہ سے اس ملک کی غریب اور نوجوان نسل ان کی گرویدہ ہوئی تھی۔
اس طرح وزیرِاعظم عمران خان کے سر پر ’’فارن فنڈنگ کیس‘‘ کی تلوار بھی لٹک رہی ہے، جس کے بارے میں سابقہ سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ مذکورہ کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف کو بطورِ پارٹی کالعدم بھی قرار دیا جاسکتا ہے، اور عمران خان نااہل بھی ہوسکتے ہیں۔
اپوزیشن نے الیکشن کمیشن کے باہر مظاہرہ کرتے ہوئے تحریکِ انصاف فارن فنڈنگ کیس کا روزانہ کی بنیاد پر سننے کا مطالبہ کیا ہے۔  الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حزبِ اختلاف کی روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کی درخواست منظور کر دی ہے، جو وزیرِاعظم عمران خان سمیت تحریکِ انصاف کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔ عمران خان کے لیے سب سے زیادہ مسائل خود ان کے وزرا پیدا کر رہے ہیں، جن کا لب و لہجہ پارلیمانی ہے اور نہ مذکورہ شخصیات سماجی اقدار ہی پر پورا اترتی ہیں، جب کہ ان کے مشیروں کے متضاد بیانات بھی تحریکِ انصاف حکومت کے مسائل میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایوان میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے اگر عمران خان عوام کی فلاح و بہبود کے لیے قانون سازی نہیں کرسکتے، اور اپنے اقتدار کو قائم رکھنے اور چلانے کے لیے اتحادی پارٹی کے رہنماؤں کے جائز و ناجائز مطالبات ماننے پر مجبور ہیں، تو ایسے اقتدار کا کیا فائدہ؟ اگر عمران خان حقیقت میں اس ملک کی بہتری کے لیے کچھ کرنا اور تبدیلی لانا چاہتے ہیں، تو اس کے لیے ایوان میں عددی اکثریت ضروری ہے، جو عمران خان نہیں رکھتے۔ عمران خان کو اتحادی رہنماؤں کے جائز و ناجائز مطالبات ماننے اور اپنے اُصول قربان کرنے سے بہتر ہے کہ وہ موجودہ اسمبلیاں تحلیل کرکے مڈٹرم الیکشن کرائیں۔ شائد کہ ان کے اس قدم سے انہیں عددی برتری حاصل ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں موجودہ نشستیں کم بھی ملیں۔

…………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے