66 total views, 1 views today

جس وقت میں یہ الفاظ تحریر کررہا ہوں، اسلام آباد میں محترم مولانا فضل الرحمان کی امامت میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا جلسہ جاری ہے۔ پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو، اچکزئی، اسفندیار اور ن لیگ کے احسن اقبال وغیرہ نمایاں مقررین میں شامل ہیں۔ جب کہ شہباز شریف نے بوجوہ شرکت نہیں کی۔ اس عدم شرکت کو کچھ لوگ کسی اور تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ مولانا نے اسلام آباد میں آزادی مارچ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان سے دو دن میں استعفا طلب کرلیا۔ ناکامی کی صورت میں آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے دو دن بعد اجلاس بھی طلب کیا ہے، جب کہ دوسری طرف گلگت بلتستان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے مولانا کے اسلام کی قیمت “ایک ڈیزل پرمٹ” قرار دی۔ ان بیانات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دونوں طرف آگ برابر لگی ہوئی ہے۔ اب اس آگ میں کون کس حد تک جلتا ہے؟ اس کا اندازہ تو اس مارچ کے اختتام پر ہی ہوگا، کہ کون کامیاب ٹھہرتا ہے اور کون ناکام؟ حکومتی حلقوں کے مطابق مولانا کے بیانیے سے بھارت کو تقویت پہنچتی ہے، جب کہ مولانا کے ہم نوا عمران خان کو یہودی ایجنٹ قرار دے رہے ہیں۔ اس دو طرفہ لفظی جنگ کا انجام کیا ہوگا؟ یہ تماشا بھی دیکھنے والا ہوگا۔

اس پورے منظرنامے میں کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ قطر میں مقتدر حلقوں اور ن لیگی ذمہ داران کے مابین “ڈیل مارکہ” کا کچھ معاملہ ہوا تھا۔ جس کے تحت نواز شریف کی رہائی اور بیرونِ ملک روانگی کا سبب پیدا کرنا تھا۔ مگر اس معاملے کو جب عمران خان کے سامنے پیش کیا گیا، تو عمران خان نے استعفا دینے تک کی دھمکی دی۔ تب ایک اہم شخصیت کے ذریعے خان کو رام کیا گیا، لیکن کام نکلوانے کے لیے مولانا کو میدان میں اُتارا گیا۔ اب اس پوری کہانی میں کتنی صداقت ہے؟ اس بات کی تردید یا تصدیق ذمہ دارانِ وقت کا کام ہے۔ البتہ مولانا اور عمران دونوں کے تند و تیز بیانات سے اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ پھر نوازشریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت نے چہ میگوئیوں میں اور اضافہ کردیا۔ آسان الفاظ میں بات یہی ہے کہ سیاسی شطرنج کا کھیل عروج پر ہے اور ہر کھلاڑی داو  پیچ آزما رہا ہے۔ مجھ جیسے کروڑوں پاکستانیوں کا دکھ اور درد مگر کچھ اور ہے۔ مہینے سے زائد عرصہ ہوگیا، میرے صوبے میں ڈاکٹرز سراپا احتجاج ہیں، جس بارے مولانا اور حکومت دونوں بے حس ہیں، جب کہ روزانہ ہزاروں مریض خوار ہو رہے ہیں۔

میرا اور مجھ جیسے عام پاکستانیوں کا دکھ مگر یہی ہے کہ کل ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کا نوٹیفیکشن جاری ہوچکا ہے، جس سے یقیناً مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔ ہم عوام کے دکھوں میں ایک عدد “عدمِ تحفظ” بھی ہے۔  “نئے پاکستان” میں ریلوے میں رونما واقعات نے کئی حادثات کو جنم دیا، جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ پچھلے ہفتے ریلوے میں لگی آگ سے 70 سے زیادہ زندہ انسان جھلس گئے اور درجنوں زخمی ہوگئے، مگر وزیرِ ریلوے مزے کی زندگی گزار رہے ہیں۔

آزادی مارچ کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ اس سے کئی زیادہ اہم شاید یہی ہے کہ عوام کے ان دکھوں کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ جن کے بارے میں اربابِ اقتدار اندھے، بہرے اور گونگے ہوچکے ہیں۔ یہ احساس اب عام ہو رہا ہے کہ یہ ملک عوام کے لیے نہیں بلکہ خواص ہی کے لیے ہے۔ وہ خواص جو آج حکمران ہیں یا حکمرانی کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔

ہم عوام اور تو کچھ کر نہیں سکتے فقط دونوں فریقوں سے التماس ہی کرسکتے ہیں کہ اپنے اپنے مفادات کے لیے عوام کے دکھوں میں اور اضافہ نہ کریں۔

……………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے