196 total views, 1 views today

پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی مسائل و مشکلات سے دوچار ہے۔ ایک طرف اگر پورا محکمۂ صحت اور ڈاکٹربرادری اپنے مسائل کے لیے احتجاج اور ہڑتال پر مجبور ہے، تو دوسری طرف تاجر برادری حکومت کے نئے اصلاحات اور ٹیکسز کی وصولی کو یقینی بنانے کے خلاف ناراض اور شکایت کناں ہے اور اسلام آباد میں دھرنے اور احتجاج کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں مولانا فضل الرحمان کا ’’آزادی مارچ‘‘ حالات پر کتنا اثر انداز ہوگا؟ اس کا صرف اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کوئی یقینی بات نہیں کہی جاسکتی۔ آزادی مارچ کے انعقاد میں ابھی ایک ہفتہ باقی ہے۔ چائے کی پیالی ہونٹوں تک پہنچنے کا وقفہ بھی کافی اہم ہوتا ہے۔ اس دو ہفتے کے دوران میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ حکومت، مولانا کے ساتھ افہام و تفہیم اور لین دین کے لیے مذاکرات کا ڈول بھی ڈال سکتی ہے۔ اصل مقتدر اور کار فرما طاقت بھی کوئی حربہ اور ٹیکنیک استعمال کرسکتی ہے۔ کیوں کہ وہ لوگ تو ہر فن مولا ہیں اور ان کی زنبیل میں ہر بیماری اور ہر مسئلے کے لیے کافی و شافی نسخے موجود ہوتے ہیں۔ دھونس، دباؤ، دھمکی، لالچ غرض یہ کہ اس دوران میں کوئی بھی نسخہ استعمال کرکے صورتِ حال اور مولانا کے فیصلے کو تبدیل کیا جا سکتا ہے، لیکن اس دوران میں جب ہم سیاسی انتظامیے کے انداز و اطوار اور طور طریقوں کو دیکھتے ہیں، تو ایک طرف تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض وزرا اور خصوصاً ’’کے پی‘‘ کے وزیر اعلیٰ کے اشتعال انگیز بیانات سے تو حکومت پر انتہائی دباؤ اور ٹینشن نظر آتا ہے،لیکن دوسری طرف عمران خان نے مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کی تردید کرکے معاملے کی اہمیت اور حیثیت سے انکار کیا ہے۔ مولانا کے دھرنے کے بارے میں لاپروائی اور نظر انداز کرنے کی حکمت عملی کا مظاہر ہ کیا ہے۔
یہ تو ہے حکومتی پارٹی کے دھرنے اور آزادی مارچ بارے عملی رویہ۔ اب مولانا فضل الرحمان صاحب کی حکمت عملی کیا ہے؟ تو مولانا کے عملی اقدامات سے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس اہم اور اپنے لیے ممد و معاون اور سازگار بہترین صورت حال کے اس زریں موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ ان کو معلوم ہے کہ حکومت چاروں طرف سے اندرونی و بیرونی مسائل و مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ بیرونی طور پر سب سے اہم مسئلہ کشمیر کا ہے، جس کو بھارتی حکومت نے انتہائی اقدام کے طور پر خصوصی آئینی دفعات کو منسوخ کرکے ہندوستان میں باقاعدہ شامل کیا ہے، جس پر کشمیری عوام انتہائی مشتعل اور غضبناک ہیں۔ جن کو نو لاکھ انڈین فوج نے گھروں میں محصور کر رکھا ہے۔ ایسے میں کشمیریوں کو پاکستان سے جو توقعات تھیں۔ عمران خان کی حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ان توقعات اور امیدوں کو ذرا برابر اہمیت نہیں دی۔ بس جنرل اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں ایک پُرجوش تقریر کو کافی سمجھا گیا۔ ہر جمعہ کے روز کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی اور اخلاقی مدد کے لیے مخصوص کرکے اپنے فرض کو ادا کر دیا، لیکن اندرونی طور پر عوام کی ناراضی، عدم اطمینان اور بیرونی طور پر انڈیا کا کوئی بھی اچانک اقدام ناممکن نہیں۔ اس وجہ سے تحریک انصاف کی حکومت اور عسکری ذرائع چوکنا بھی ہیں، اور ہیجان اور دباؤ بھی محسوس کر رہی ہیں۔ اندرونی طور پر عوام، تحریکِ انصاف کی معاشی اقدامات و اصلاحات کی زد میں ہیں۔ مہنگائی اور گرانی آسمان کو چھو رہی ہے اور عوام کو دن میں بھی تارے نظر آنے لگے ہیں۔ تاجر برادری کساد بازاری، بھاری ٹیکسز کے نفاذ اور نت نئے کاغذی اصلاحات سے تنگ آمد بجنگ آمد کے مرحلے میں ہے۔ صنعتی یونٹس بند ہو رہی ہیں۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور روزگار کے مواقع کم سے کم ہو رہے ہیں۔ اگرچہ مشیرِ خزانہ حفیظ شیخ نے پچھلے چند ماہ کے مثبت معاشی اعداد و شمار پیش کرکے اپنے سخت معاشی فیصلوں کے بہتر نتائج کا ذکرِ خیر کیا ہے، لیکن ماہرینِ معیشت اس کو اعداد و شمار کو گورکھ دھندا اور عوام کو فریب دینے کا ایک حربہ سمجھتے ہیں۔ زمینی حقائق جوں کے توں ہیں اور ایسامعلوم ہوتا ہے کہ نہ کوئی حکومت ہے اور نہ کوئی حکمت عملی بس کاروبارِ حکومت خود بخود چل رہا ہے۔ کرپشن اسی طرح جاری ہے جس طرح پہلے چل رہی تھی۔ اگر موجودہ ایم پی ایز، ایم این ایز اور وزرا کے بارے میں غیر جانب دارانہ تحقیقات کی گئیں، تو یقینا ہوش رُبا تفصیلات سامنے آسکتی ہیں۔
نیب کا جو حال ہے اور ان کے چیئرمین کے جو مضحکہ خیز بیانات سامنے آرہے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ محکمہ اب صرف چھوٹے موٹے کرپشن کے دھندوں میں ملوث نچلے درجے کے ملازمین کے خلاف سرگرم عمل ہے اور بڑے بڑے چور، ڈاکو، لٹیرے صرف پیشیاں بھگتتے ہیں۔ عملاً کسی کیس کا فیصلہ ہوتا ہے اور نہ اب تک کوئی ریکوری ہی ہوئی ہے، بلکہ اب تو نیب نے کسٹم اور ایف بی آر کے کیسوں سے بھی جان چھڑالی ہے۔ بیرونِ ملک جن اربوں کھربوں ڈالروں کے دعوے کیے جا رہے تھے۔ ایف بی آر نے اس کے بارے میں تردید کی ہے کہ بیرونِ ملک اور خاص کر یواے ای میں کوئی خاص منی لانڈرنگ اثاثے موجود نہیں۔ ایسے حالات میں مولانا فضل الرحمان کے حوصلے اور عزائم آسما ن کو چھو رہے ہیں۔ ایک طرف اگر وہ آج تک اپنے ارادے پر مضبوطی سے قائم ہے، تو دوسری طرف وہ حکومتی سیٹ اَپ اور اس کی درپردہ پشت پناہ قوت کو پورے جرأت کے ساتھ للکار رہے ہیں۔ نواز، زرداری، اے این پی اور پختون خوا ملی پارٹی والے بہت کچھ سوچنے اور تذبذب کے بعد آخرِکار اس فیصلے پر پہنچے کہ اگر مولانا کا ساتھ نہیں دیا، تو کرپشن کے جرائم سے چھٹکارے اور جیل سے باہر آنے کا اور کوئی موقع نہیں ملے گا۔ اس وجہ سے اب یہ تمام پارٹیز مولانا کی قیادت میں ’’آزادی مارچ‘‘ میں شمولیت پر یکسو ہوگئے ہیں، لیکن اس دھرنے یا آزادی مارچ کی کامیابی میں ایک کسر یا کمی محسوس کی جارہی ہے کہ جماعت اسلامی جیسی منظم جماعت، دھرنوں کا تجربہ رکھنے والی اور پُرجوش نوجوانوں پر مشتمل سٹریٹ پاؤر رکھنے والی تنظیم پہلی بار اس عوامی تحریک سے علیحدہ اور الگ ہے۔ اب تک پاکستان کی پوری تاریخ میں جماعت اسلامی واحد ایسی تنظیم رہی ہے، جس نے ہر آمر ڈکٹیٹر ، فوجی حکومت کے خلاف عوامی تحریکوں میں ہر اول دستے کا کردار کیا ہے۔ قادیانیوں کے خلاف تحریک ہو، ایوب خانی آمریت کے خلاف عوامی تحریک ہو، بھٹو کے خلاف نظامِ مصطفی کی تحریک ہو، نواز، بے نظیر کے خلاف دھرنے ہوں، ہر موقع پر جماعت اسلامی کی تنظیمی صلاحیت اور پُرخلوص کارکنوں کے جذبوں نے ثابت کیا ہے کہ جس تحریک میں جماعت اسلامی شامل ہوگی، وہ کامیابی سے ہمکنار ہوگی، لیکن نتیجے میں یا تو انتخابات کے ذریعے بے نظیر زرداری، نواز یا کوئی اور کرپٹ بدعنوان ٹولہ بر سر اقتدار آتا رہا ہے، یا فوجی آمروں نے موقع سے فائدہ اٹھا کر اقتدار و اختیار پر براہِ راست قبضہ کیا ہے۔
جماعتِ اسلامی کی آزادی مارچ سے علیحدہ رہنے کی بہت سے وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان میں سے ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس حکومت مخالف تحریک کی کامیابی کی صورت میں کیا نتیجہ برا ٓمد ہوگا؟ حالات خراب اور قابو سے باہر ہونے کے نتیجے میں فوجی مداخلت یا مارشل لا کا امکان خارج از بحث ہے۔ کیوں کہ موجودہ صورتِ حال میں فوجی اقتدار نہ عالمی سطح پربرداشت کیا جائے گا اور نہ اندرونی طور پر اس کو قبول کیا جائے گا۔ اس کے بعد دوسرا آپشن دوبارہ انتخابات کے انعقاد کا ہے۔ انتخابات کا دوبارہ انعقاد بہت زیادہ مشکل بلکہ تقریباً ناممکن ہے۔ کیوں کہ ایک تو انتخابات کے انعقاد کے لیے کثیر سرمائے کی ضرورت ہے، اور موجودہ اقتصادی اور معاشی بدحالی کے ماحول میں اس کی فراہمی مشکل ہے۔ اب آخری جو ایک ممکن حل ہے، وہ یہ ہے کہ ایوان کے اندر تبدیلی لائی جائے۔ ممبران کی پارٹی وفاداریاں تبدیل کرکے ایک نیا سیٹ اَپ بنایا جائے، لیکن اس صورت میں پہلے کیے گئے تقریباً تمام اقدامات سے دست بردار ہونا پڑے گا۔ کرپشن کے مقدمات اور کیسز ختم کرنے پڑیں گے۔ نیب جو ویسے بھی اپنی اِفادیت اور فعالیت ثابت نہ کرسکا ان کا بستر گول کرنا ہوگا اور ایوان میں نمائندگی رکھنے والی تمام پارٹی ارکان کو نہلا دھلا کر پاک صاف قرار دے کر نئے سیٹ اَپ میں ایڈ جسٹ کیا جائے گا۔ اب اگر آزادی مارچ کا نتیجہ تقریباً یہی ہے، تو پھر جماعتِ اسلامی جیسی نظریاتی جماعت کو اس ’’پرائے شادی میں عبداللہ دیوانہ‘‘ کی شمولیت سے کیا فائدہ ہوگا؟ کیوں کہ ملک میں سوائے جماعت اسلامی کے اور کوئی تنظیم ایسی نہیں جس سے عملاً کسی تبدیلی یا حالات کی اصلاح کی کوئی امید کی جاسکتی ہو۔ بہرحال اس وقت ملک کے ہر طبقے اور عوام کی خواہش یہی ہے کہ موجودہ حکومت سے گلو خلاصی ہو جائے۔ اس بلا سے جان چھوٹ جائے، پھر آگے دیکھا جائے گا کہ کیا صورت حال بنتی ہے؟
سب سے بڑی بد قسمتی اس قوم کی یہی ہے کہ جو بھی نیا شخص، نئی پارٹی نئے نعروں کے ساتھ بر سر اقتدار آتی ہے۔ اس کا اندازِ حکمرانی، نا اہلیت اور بیڈ گورننس کے نتیجے میں قوم کو ایک بار پھر پرانے نااہل کرپٹ بدنام سیاست دان یاد آتے ہیں اور ان کے اندر خوبیاں اور صلاحیتیں نظر آنے لگتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ اگر نواز شریف خود کھاتا تھا، تو قوم کے لیے بھی کچھ بچا کچھا چھوڑ دیتا تھا، لیکن موجودہ حکومت نے تو عوام کا بیڑا غرق کرکے سب کچھ خود سمیٹ لیا، اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ حکمرانی کے ابتدائی چند مہینوں میں تو بد عنوانی اور کرپشن کے مناظر نظر نہیں آتے، لیکن جب کچھ عرصہ گزرتا ہے تو پھر حکمراں کرپشن کی دلدل میں گلے تک دھنسے نظر آتے ہیں، جس طرح ایم ایم اے کے دور میں غربت کے مارے دو قت روٹی کے محتاج سائیکل خریدنے کی استطاعت نہ رکھنے والے آج کروڑوں میں کھیل رہے ہیں۔ چمکتی دمکتی کاروں اور بڑے بڑے فراخ اور وسیع رہائش گاہوں کے مالک بن گئے ہیں۔ کسی نے کبھی پوچھا کہ ایم پی اے اور ایم این اے بننے سے پہلے آپ کی مالی اور سماجی حیثیت کیا تھی؟ کون سا ایسا کاروبار آپ نے کیا ہے یا کون سا آلہ دین کا چراغ آپ کے ہاتھ لگا ہے کہ آپ ایک دم فقیر سے امیر بن گئے؟ اسی طرح تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والوں کے کوائف بھی سامنے آجائیں گے۔ اب بھی اگرچہ محفلوں میں کہانیاں گردش کررہی ہیں کہ فلاں کی طرزِ زندگی، اثاثہ جات، منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد میں اتنا اضافہ ہو گیا ہے، لیکن بہر حال یہ کرپشن اور بد عنوانی والی بیماری تو قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی اس قوم کو لاحق ہوگئی ہے اور اب تو اس کے ساتھ چپک کر رہ گئی ہے۔
اب جو صورت حال ہے۔ وہ یہ ہے کہ مولانا نے تقریبا پورے ملک اور سیاسی پارٹیوں کو تحریکِ انصاف کے خلاف متحد کیا ہے۔ عمران خان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ہیں۔ پہلے جو شخص مولانا کو اسلام آباد دھرنے کے لیے کنٹینر اور کھانا مہیا کرنے کی پیشکش کر رہا تھا۔ اب اوچھے ہتھکنڈوں اور روایتی انداز میں دھرنے اور مارچ کو روکنے کے لیے اقدامات پر اتر آیا ہے۔ اسلام آباد انتظامیہ نے دکان داروں کو باقاعدہ نوٹس جاری کیا ہے کہ دھرنے والوں کو دیگیں، ٹینٹ، شامیانے اور دیگر سازو سامان فراہم نہ کیا جائے۔ پولیس نے راستے بند کرنے کے لیے چار پانچ سو کنٹینر فراہمی کا ڈیمانڈ کیا ہے جب کہ ایک کنٹینر کا یومیہ کرایہ پانچ ہزار روپے ہے۔
مذاکراتی کمیٹی بھی ایک طرفہ تماشا ہے۔ پرویز خٹک ایک طرف مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں، اور دوسری طرف قانون کے استعمال کی دھمکی دے رہے ہیں۔ بھئی، آخر مذاکرات کس ایجنڈے پر ہوں گے۔ مولانا کا مطالبہ تو یہ ہے کہ عمران استعفا دے دیں۔ دوبارہ انتخاب ہوں، جو فوج کی نگرانی میں نہ ہوں۔ یعنی عدلیہ کے بعد جو واحد ادارہ قومی تحفظ، سالمیت اور ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے باقی رہ گیا تھا، وہ بھی قابل اعتماد نہ رہا۔ الیکشن کمیشن تو پہلے ہی ایک ناکام اور نا اہل ادارہ ہے۔ ایسے میں جب مذاکرات کے لیے مولانا کے مطالبات ہی منظور اور قابل قبو ل نہیں، تو مذاکرات کس ایجنڈے پر ہوں گے؟ کیا صرف مولانا سے درخواست کی جائے گی کہ کشمیر کی وجہ سے سرحدوں پر صورتِ حال نازک ہے۔ اقتصادی صورت حال دگر گوں ہے۔ امن و امان کی حالت خراب ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ ایک نااہل شخص وزیر اعظم کی کرسی پر براجمان ہے۔ لہٰذا مہربانی فرما کر دھرنا اور مارچ ملتوی کرکے حالات کو مزید خراب کرنے سے اجتناب فرمائیں۔
کیا مولانا یہ درخواست قبول کر لیں گے؟
اب جب کہ مولانا کی سیاسی حکمت عملی کامیابی کے بامِ عروج پر ہے۔ پورا ملک مولانا کے ساتھ عمران خان کی نااہل حکومت سے گلوخلاصی کے لیے متحد ہے، تو ایسے میں صرف ایک راستہ باقی رہتا ہے کہ عمران خان بالغ نظری کا مظاہرہ کرکے استعفا دے کر حکومت اور سیاست سے دست بردار ہو جائیں اور قوم کو اپنی چرائی گئی امانت واپس کردیں۔ اسی میں خیر ہے اور یہی دانش مندی اور عقل و ہوش کا راستہ ہے۔ اس کے علاوہ اگر تصادم اور جبر و طاقت کا راستہ اختیار کیا گیا، تو اندیشہ ہے کہ خدانخواستہ کوئی حادثہ وقوع پذیر نہ ہو جائے۔ لہٰذا عقل و خرد سے کام لے کر تصادم اور طاقت کے بے جا استعمال سے بچا جائے، تو شاید اسی سے ملک و قوم کے لیے کوئی خیر برآمد ہو جائے۔

……………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے