184 total views, 1 views today

’’صوبۂ تجربہ گاہ‘‘ یعنی خیبرپختونخوا میں گذشتہ کئی دنوں سے ڈاکٹروں کا احتجاج جاری ہے۔ اُن کا کہناہے کہ ڈی آر ایچ اے ایکٹ 2019ء کے ذریعے حکومت سرکاری ہسپتالوں میں نجکاری کررہی ہے، جب کہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ قانون سے نجکاری نہیں بلکہ علاج معالجہ کی سہولیات میں بہتری لانامقصود ہے۔
قارئین، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت قانون پاس کرنے سے قبل ڈاکٹروں کو اعتماد میں لیتی۔ اس قانون کی عوامی تشہیر کرتی، اور عوام سے بھی تجاویز لیتیں۔ تب مکمل اتفاق اور یکسوئی کے ساتھ قانون پاس بھی ہوتا اور عمل پذیر بھی، ہوا مگر برعکس۔ نتیجتاً ڈاکٹرز نے احتجاج کیا، جس کے بدلے ان پر لاٹھی چارج کیا گیا، 16 ڈاکٹرز کو پکڑ کر جیل میں بند کیا گیا، باقی ماندہ میں سے سرکردہ لیڈرز کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، یا ان کا تبادلہ کیا گیا۔ بات جب تشدد پر آئی، تو نہ صرف سیاسی اور عوامی حلقوں نے حکومتی تشدد کی مذمت کی، بلکہ پشاورتک محدود احتجاج صوبے بھر میں پھیل گیا۔ حتیٰ کہ پہلی بار صوبے بھر میں نمایاں مقامات پر نجی کلینک تک بند ہوئے، جس سے اب عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہوا کہ مسئلہ حل کرنے کی بجائے ایک صوبائی وزیر نے ڈاکٹروں کو ’’پکوڑہ فروش‘‘ کہہ کر جلتی پرتیل کا کام کیا۔
ایسے میں توقع یہی کی جارہی تھی کہ وزیر اعلیٰ خود اس معاملہ کوحل کرنے کی کوشش کریں گے، مگر وہ اس سے کنی کاٹ کر فرمانے لگے کہ مولانا فضل الرحمان کو صوبے سے گزرنے نہیں دیں گے۔ کوئی موصوف سے پوچھے کہ صوبے بھر کے پندرہ ہزار سرکاری طبی سہولیات کے مراکز کے پینتالیس ہزار ملازمین (ڈاکٹرز و طبی عملہ ملاکر) پچھلے دو ہفتوں سے زیادہ وقت سے سراپا احتجاج ہیں۔ آپ حضرات نے انہیں سنبھالا ہے، کہ اب مولانا کو بند کرنے کی دھمکیاں فرما رہے ہیں، جب کہ مولانا ہزاروں نہیں لاکھوں کارکنوں کو ساتھ لے جانے کا عزم فرما رہے ہیں۔
قارئین، ذاتی طور پر میں اصلاحات کا حامی ہوں۔ اس طرح مجھے کوئی ایسا ڈاکٹر نہیں ملا، جو اصلاحات کا حامی نہ ہو، بلکہ احتجاجی ڈاکٹروں کی اکثریت تو سونامی عرف ’’تباہی‘‘ یعنی تبدیلی سرکار کا ووٹر رہی ہے۔ اگر اصلاحات ناگزیر تھیں اور ہیں، تو کم از کم ان کے ساتھ تو مشاورت کی جاتی۔ تحریر کے پہلے جملے میں ’’صوبۂ تجربہ گاہ‘‘ کی اصطلاح بھی اس لیے استعمال کی کہ اس صوبے میں گذشتہ چھے سال سے مسلسل تبدیلی سرکار برسرِ اقتدارہے۔ ان چھے سالوں سے تعلیم اور صحت کے محکموں میں تجربات جاری ہیں۔ محکمۂ صحت میں گذشتہ پانچ سال میں ’’ایم ٹی آئی ایکٹ‘‘ نافذ کیا گیا ہے جو کہ کامیابی کی بجائے ناکامی کا سنگ بنیاد ثابت ہوا ہے۔ اب اُسی ناکام و کمزور بنیاد پر موجودہ ضلعی، علاقائی ہیلتھ اتھارٹی بل لایا گیا ہے، تو کیا یہ کامیاب ہوگا؟ یاد رہے یہ دونوں قوانین ڈاکٹر نوشیروان برکی کے ذہنی اختراع کا نتیجہ ہیں۔ موصوف، عمران خان کا کزن اور وزیراعظم ٹاسک فورس برائے صحت کا سربراہ ہے۔
ڈاکٹر برکی، امریکہ سے ہر چند مہینے بعد چند دنوں کے لیے خیبر پختونخوا آتا ہے، اور ناکام تجربات کرکے واپس چلا جاتا ہے۔ اب یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر برکی اگر واقعی پاکستانی محکمۂ صحت ٹھیک کرنا چاہتا ہے، تو فوری طورپر امریکہ چھوڑ کراپنا کلینک پاکستان میں کیوں شروع نہیں کرتا؟
بہرحال اب صورتحال یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ اور صوبائی حکومت کو احساس ہی نہیں کہ دو ہفتے ہوگئے، صوبہ بھر میں نجی اور سرکاری طبی مراکز بند پڑے ہیں۔ روزانہ کتنے غریب مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اس مسئلے کا حل آخر ہوگا کیا؟
دوسری طرف ڈاکٹر برادری جس نے ابھی تک احتجاج کے باوجود ہر ہسپتال میں ایمرجنسی سہولت مہیا کی ہوئی ہے، اس سے بھی گذارش ہے کہ ڈیوٹی سے بائیکاٹ کب تک کیا جائے گا، اور کیا یہی مسئلے کا حل ہے؟ مہربانی کرکے غریب مریضوں کی خاطر صوبائی اسمبلی یا وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں، مگر اس مسئلہ کو جلد از جلد حل کروائیں۔ اس لیے کہ حکومت تو بے حس سہی، نااہل سہی، مگر ڈاکٹر جو کہ مسیحا کہلاتا ہے، وہ تو بے حس نہیں ہوسکتا؟ اگر حکومت کا ڈاکٹروں پر تشدد قابل مذمت تھا، تو ڈاکٹرز کا بھی ڈیوٹی سے مکمل بائیکاٹ قابلِ تحسین عمل نہیں گردانا جاسکتا۔ مسائل کہیں بھی اور کس کے بھی ہوں، تشدد سے حل ہوئے نہ انتہا پسندی اور ضد ہی سے حل ہوسکتے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے موجودہ ڈاکٹرز کے ساتھ بیٹھ کر مسئلہ حل کرے۔ بصورتِ دیگر عوام کی طبی سہولیات کے لیے متبادل کی تلاش کرے۔

…………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے