277 total views, 1 views today

موجودہ حکومت آئے روز ایسی حرکتیں کرتی چلی جا رہی ہے جس سے اس کی غیر سنجیدہ اور لااُبالی پن والی طرزِ حکومت ابل ابل کر سامنے آ رہی ہے۔ لوگ ایک مخمصے سے نکلے نہیں ہوتے کہ یہ کوئی دوسرا کارنامہ سرانجام دے دیتی ہے۔ ایک ایسی حکومت ہے جس کی بنیادی سیاسی ترجیحات اور اقدار کا نہ کسی کو سر کا پتہ ہے اور نہ پیر کا۔ آوے کا آوا ہی بگڑا ہو ہے۔
اسی ضمن میں پچھلے دنوں محکمۂ تعلیم نے ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکول کی بچیوں کے یونیفارم کے حوالے سے پورے صوبے کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز سے مشاورت کے بعد ایک فیصلہ کیا کہ یہ بچیاں عبایا یعنی گاؤن پہن کر سکول آیا کریں گی۔ اس فیصلے کے سامنے آتے ہی کچھ حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا جو کہ سمجھ آتا ہے۔ کیوں کہ ہمارے معاشرے کی مخصوص آزاد خیال سوچ رکھنے والی اقلیت کی بنیادی اقدار سے یہ فیصلہ ٹکرا کھا رہا تھا اور ان کے مزعومہ ترقی پسند معاشرے پر اس فیصلے سے زد پڑ رہی تھی۔ لہٰذا انہوں نے مختلف بھونڈے دلائل تراش کر اس فیصلے کی مخالفت کی اور سوشل میڈیا کو خاص کر اپنی اس مخالفت کی ترویج کے لیے بروئے کار لائے۔ کہا گیا کہ جنسی ہراسگی کے واقعات تو مدرسوں میں بھی ہوتے ہیں، تو کیا ان لڑکوں بھی عبایا پہنایاجائے گا؟ کسی نے کہا کہ اس کا واحد حل عبایا پہنانا ہی ہے۔ لڑکوں کے لیے ان کے مسائل کی وجوہات کی مناسبت حل تجویز کریں، جس طرح کہ لڑکیوں کے لیے یہ اقدام مناسب سمجھاگیا ہے۔
اس مخالفت میں مگر زیادہ تن دہی اور شدت کا مظاہرہ میڈیا نے ادا کیا جس میں خصوصی طور پر الیکٹرانک میڈیا کے چند نامی گرامی چینلز نے بڑھ چڑھ کر اس کو منظم پروپیگنڈا مہم کی شکل دے دی۔ پرائم ٹائم کے سات سے لے کر آٹھ بجے تک، آٹھ سے لے کر نو بجے تک اور دس سے لے کر گیارہ بجے تک کے تین تین پروگرام، بعض چینلز پر اس موضوع کے لیے مختص کیے گئے اور اس میں اینکرز خواتین و حضرات کا اندازِ گفتگو اور طرزِ استدلال اتنا جارحانہ اور منھ سے جھاگ اُڑانے والا تھا کہ جیسے خدانخواستہ کوئی بھونچال آگیا ہو۔ الیکٹرانک میڈیا کے ان کارپردازوں کی اتنی مستعدی سمجھ میں بھی آتی ہے کہ ان کا تو سارا کاروبار ہی گلیمر اور چکاچوند کی بنیاد پر چلتا ہے۔ ان کا بنیادی ایجنڈا اور کاروباری مفاد ہی اسی میں ہے کہ کسی طرح مرد و زن کے اختلاط اور ایک دوسرے کے ساتھ معاملات کے مواقع پیدا کیے جائیں، تاکہ بے حیائی اور کھلا ڈھلا پن پل پھول سکے، اور ان کا کاروبار اور ترقی کرسکے۔ انہوں نے تو ریزر بلیڈ بھی عورت کو بناؤ سنگار اور اس کی دلکشی اور اعضا کی نمائش کی بنیاد پر بیچنا ہوتا ہے۔ لہٰذا ان کو تو اپنے کاروبار کی پڑی ہے۔ بقولِ ڈاکٹر زاہد مغل کہ اس انڈسٹری کو اپنا کاروبار ’’گرم‘‘ رکھنے کے لیے جس قسم کا ’’مواد‘‘ چاہیے، وہ بڑے بڑے نجی سکولوں ہی کی پیداوار ہے جو مسلمان بچیوں کے تصورِ حیا کو ایک فاحشہ کے درجے تک پہنچا دیتے ہیں۔ ایک فاحشہ عورت کسی دور میں جو لباس اپنے تماش بینوں کو خوش کرنے کے لئے بند دروازوں میں پہنا کرتی تھی یہ بڑے بڑے نجی سکول اور ٹی وی انڈسٹری والے مسلمان بچیوں کو ویسا لباس ماڈرن ہونے کے نام پر سب کے سامنے زیبِ تن کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
اور ہاں، اس حوالے سے اصول بڑا سیدھا ہے، جو چینل جتنا بڑا ہوگا، اسے تکلیف بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ کیوں کہ اس کا کاروبار اسی مناسبت سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ لیکن سوچنے کا مقام ہمارے سواد اعظم اور معاشرے کی اکثریت کے لیے ہے۔ کیا لڑکیوں کا مخصوص ساتر لباس ہمارے کلچر اور تہذیب کا لازمی حصہ اور جزو لاینفک نہیں؟
کیا قرآنِ مجید میں باعفت لباس کو مومن عورتوں کی پہچان کی علامت نہیں بتلایا گیا؟
کیا حکومت کا یہ مینڈیٹ نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت اور کارآمد معاشرے کی تشکیل کے لیے قانون سازی اور ڈریس کوڈ کی تشکیل کرسکے؟
اگر حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ پولیو ویکسین اپنے بچوں کو نہ پلانے والے والدین کو سزا دے سکے، تو یہ اختیار کیوں کر حاصل نہیں کہ بچوں اور بچیوں کے لیے ایک مخصوص یونیفارم اور ڈریس کوڈ تشکیل دے؟
اگر تو یہ سارے جوازات ہیں، تو کس طرح محض اپنی اقلیتی سوچ کو اکثریت پر ٹھونسنے کی کوشش ہورہی ہے؟
کیا یہ انتہا پسندی اور اپنی سوچ کو دوسروں پر زور زبردستی لاگو کرکے فسطائیت کا اظہار نہیں کیا جا رہا؟
سب سے زیادہ حیرت اور افسوس اس بات پر ہے کہ باقاعدہ تعلیم سے منسلک ایک ذمہ دار فورم پر سوچ بچار کے بعد ایک فیصلہ لیا جاتا ہے، لیکن اقلیتی آزاد خیالوں کے اقدار سے ٹکر کی بنیاد پر بغیر کسی بحث وتمحیص اور اسی فورم پر زیرِ بحث لائے بغیر عجلت بھرے شکست خوردہ اور ملامت زدہ انداز میں اس کو واپس لیا جاتا ہے ۔
حکومت کو چاہیے کہ اپنی سمت کا تعین کرے، یا تو اس سماج کی بنیادی اقدار و روایات کی امین و پاسبان بن کر چلے اور ’’ایاک نعبد و ایک نستعین‘‘ کی کم سے کم عملیت کا نمونہ ہی پیش کرے۔ اور یا کھل کر آزاد خیال اور اباحت پسندی کا جھنڈا تھامے، تاکہ کم از کم معاشرے کے افراد کے سامنے یہ مخمصہ اور دو رنگی کا ناٹک بند ہوسکے۔
ان کا حال تو بقول غالبؔ کے یہ ہے کہ
ایماں مجھے روکے ہے، تو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ میرے پیچھے ہے، کلیسا میرے آگے

……………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے