44 total views, 7 views today

علم نور ہے اور ایک پڑھا لکھا انسان علم کے منور راستوں پر چل کر منزلِ مقصود پالیتا ہے۔ اسی طرح جو اقوام، علم اور حصولِ تعلیم کو ترجیح دیتی ہیں، دنیا میں ان کا سکہ چلتا ہے۔
قارئین، ایک زمانہ تھا کہ مسلمان علوم و فنون کے وارث تھے۔ یہی نشاطِ اسلام کا زمانہ تھا۔ ملتِ اسلامیہ کا ستارا درخشاں تھا۔ دنیا کی قیادت اس کے ہاتھوں میں تھی۔ اہلِ اسلام کا توتی بول رہا تھا۔ اس وجہ سے نہیں کہ ان کے ہاتھوں میں ہر وقت تلوار تھی کہ غیر ان سے اس وجہ سے مرعوب ہوں، اور بہ امر مجبوری ان کی عزت کریں، بلکہ اس کی بنیادی وجہ اور وصف ان کا علمی ذوق اور اس میدان میں ان کی تحقیقی کاوشیں تھی۔ ان کے پاس ’’البیرونی‘‘ اور ’’فارابی‘‘ تھے۔ ان کے درمیان ’’جابر بن حیان‘‘ اور ’’ابوبکر الرازی‘‘ تھے۔ اس قوم نے دنیا کو محقق ’’طوسی‘‘ اور ’’امام غزالی‘‘ جیسی ہستیاں دی تھیں۔ یہ اس دورکی باتیں ہیں جب مغرب مکمل طور پر جہالت کی تاریخی میں ڈوبا ہوا تھا اور لا علمی ؍ کم علمی کی بدولت اہلِ مغرب نہایت پسماندہ تھے۔
برسبیلِ تذکرہ، پرانے وقتوں کے ایک سیاح کا مشاہدہ ہے کہ سپین میں مسلمانوں کی آمد سے پہلے پیرس (فرانس) کی گلی کوچوں میں گھٹنوں تک کیچڑ دیکھا جاتا تھا۔ جب کہ اس دور میں شہر بغداد دنیا کا ’’عروس البلاد‘‘ کہلاتا تھا۔
بدقسمتی سے ملتِ اسلامیہ کے زوال کا دور تب شروع ہوا جب مسلمانوں نے علم و تحقیق میں جستجو ترک کردی۔ سستی اور کاہلی ان کی عادت بن گئی۔ مسلم حکمرانوں کے درباروں میں اہلِ علم و فن کے بجائے بھانڈ اور میراثی بیٹھنے لگے۔ لہٰذا اہلِ علم گمنام ہوئے اور رفتہ رفتہ پسِ پردہ چلے گئے۔
اس کے مقابلے میں 17ویں صدی عیسوی میں مغرب خوابِ جہالت سے بیدار ہوا۔ دن رات محنت کی۔ علم و تحقیق کی طرف توجہ دی۔ سائنسی اور عصری علوم پر دسترس حاصل کی۔ فطرت کے سربستہ رازوں کو آشکارا کرکے ان کی تحقیقی جستجو میں لگا رہا۔ معمولی ایجادات سے لے کر فضاؤں کے بے کراں خلا، سیاروں کی گردش، سورج کا طلوع و غروب اور برق و باراں کے مناظر کی فطری ذوق و جستجو کو اُبھار نے کی کوششیں کیں۔ وہ ان مادی عناصر کی حقیقت کو پانے کے لیے شب و روز تفکر میں ڈوبے رہے۔ ان کی اسی جذبۂ تجسس نے انہیں زندگی کی تمام سہولیات فراہم کیں، جب کہ آج یہ لوگ تسخیرِ کائنات کی اس منزل پر پہنچ چکے ہیں، جہاں سائنس کی حیران کن ایجادات کی بدولت ساری دنیا ان کی محتاج ہے۔
قارئین، ان لوگوں نے ابتدائی ایجادات یعنی ریل انجن اور آبدوز کشتی سے لے کر ریڈیو، ٹیلی وِژن، تارِ برقی، لاسلکی نظام، ٹیلی پرنٹر، ٹیلی فون، فیکس مشین، ہوائی جہاز، میزائل، جیٹ، کمپیوٹر، موبائل فون، انٹرنیٹ، ایٹم بم، ہائیڈروجن بم اور کئی دوسری ایجادات کیں۔
میدانِ طب جو کبھی مسلمانوں کی میراث تھا، بھی انہوں نے سر کیا۔ ایکسرے، ریڈیائی لہریں، الٹراساؤنڈ، زندگی بچانے والی ادویہ اور دوسری اشیائے طب بھی انہوں نے ایجاد کیں، جن سے بیماریوں سے سسکتے ہوئے انسانوں کو آرام آیا۔ آج ان کی معاشی آسودہ حالی اور تمام تر علمی ترقیاں، سائنسی کمالات اور کرشمہ سازیاں اس وجہ سے ہیں کہ وہ جہالت کے اندھیروں سے نکل کر علمی تحقیق اور جستجو کے روشن راستوں پر گامزن ہیں۔
قارئین، ہر سال 8 ستمبر کو خواندگی کا عالمی دن (عالیم یومِ خواندگی) ساری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ اگر عالمِ اسلام کی حالت پر نظر کی جائے، تو ہم مغرب سے سیکڑوں سال پیچھے ہیں۔ کیوں کہ ہم تقریباً تمام لوازماتِ زندگی مغرب سے منگواتے ہیں۔ ہمارے اُمرا اپنے بچے جدید تعلیم کے لیے امریکہ اور یورپ بھیجتے ہیں۔ ہمارے اپنے ملک پاکستان میں 72 سالوں سے شرحِ خواندگی کا ہدف پورا نہیں ہوا۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام اور ریاست خواندگی اور تعلیم کو ترجیح دیں۔ کیوں کہ دورِ جدید میں تعلیم یافتہ اقوام ہی موجودہ چیلنجوں کا مقابلہ کرسکتی ہیں۔
اے علم تری ذات سے دنیا کا بھلا ہے
دنیا کی نہیں دین کی بھی تجھ پہ بنا ہے

…………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے