206 total views, 1 views today

آزادیِ کشمیر کا آغاز تو ڈوگرا راج کے قیام کے ساتھ ہوا تھا۔ جب انگریز سرکار نے 1943ء میں خطۂ کشمیر 75 لاکھ نانک شاہی سکہ رائج الوقت کے عوض مہاراجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ فروخت کر دیا تھا۔ اہلِ کشمیر، انگریز سرکار اور مہاراجہ گلاب سنگھ کے درمیان ہونے والے معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے آزادی کے لیے لڑنے لگے۔ البتہ مہاراجہ ہری سنگھ ڈوگرا راج کے دور میں ایسی پہلی شخصیت تھے جس نے 1927ء میں کشمیریوں کو ان کے آبائی وطن میں حیثیت دی، جو کہ غیر معمولی اقدام تھا۔ اس وقت کشمیریوں نے ریاست کے انتظامی ڈھانچوں اور دیگر عوامی علاقوں میں پڑوسی پنجاب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی کشمیر میں منتقلی کی مخالف کی تھی۔ 1944ء کو گاندھی اور قائد اعظم محمد علی جناح کو جب تقسیم کا فارمولہ پیش کیا گیا، تو فارمولے کے مطابق مسلم اکثریت اضلاع میں استصوابِ رائے کی بنیاد پر بھارت کو دو حصوں میں تقسیم کیا جانا تھا۔ بعد ازاں 16 مئی 1946ء کو کیبنٹ مشن پلان کے ذریعے برصغیر کو ایک ڈھیلی ڈھالی فیڈریشن کے طور پر متحد رکھنے کی آخری کوشش کی گئی، جسے قائداعظم محمد علی جناح نے تو قبول کیا، لیکن کانگرس نے نہیں۔ سکھ رہنما مکھرجی نے “اکھنڈ بھارت” کو متحد رکھنے کی اس آخری کوشش کو حقارت سے رد کر دیا۔ آخرِکار ہندوستان کا بٹوارا ہوگیا۔ انگریز سرکار، کشمیر کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک ہڈی کی مانند چھوڑ کر چلا گیا۔ دونوں ممالک اب تک کشمیر کے حصول کے لیے کئی لڑائیاں لڑچکے ہیں۔
کشمیریوں نے راجہ ہری سنگھ کی جانب سے بھارت کے ساتھ کشمیر کا متنازعہ الحاق کو مسترد کر دیا تھا اور آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ 8 دسمبر 1947ء کو لاہور میں نہرو، ماؤنٹ بیٹن اور لیاقت علی خاں (پاکستان کے پہلے وزیر اعظم) سے ہونے والی ملاقات میں مسئلے کو استصوابِ رائے کی بنیاد پر اقوامِ متحدہ کے ذریعے حل کرنے کی تجویز دی گئی۔ نہرو اس پر ہچکچاہٹ کا شکار تھا، لیکن 27 دسمبر 1947ء کو اس بات پر راضی ہوگئے۔ البتہ گاندھی نے اس کی منظوری دیتے ہوئے استصوابِ رائے کی تجویز سے آزادی کا آپشن نکال دیا۔ ہندوستان خود مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل لے کرگیا۔ سلامتی کونسل نے استصوابِ رائے کی قرارداد منظور کی، لیکن بھارت حیلے بہانوں سے وقت گزارتا رہا، اور آج تک کشمیریوں پر ظلم و زیادتی کرتا چلا آرہا ہے۔ اگرچہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 1970ء میں منظور کردہ قراداد نمبر 2649 سمیت دیگر کئی قراردادوں کے ذریعے بیرونی غلبے کی زد میں رہنے والے لوگوں کی جدوجہد کی جائز حیثیت کی توثیق کی ہے۔ جنوری 1952ء کو اُس وقت کے بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ “کشمیر بھارت کی جاگیر ہے، اور نہ پاکستان کی۔ یہ ملک کشمیریوں کا ہے۔ ہم اس فیصلے کو تسلم کریں گے، جو کشمیری ریفرنڈم کے ذریعے کریں گے۔ اگر وہ ہمیں یہ کہہ دیں کہ ہم کشمیر سے نکل جائیں، تو ہم کشمیر کو چھوڑ دیں گے۔”
اب نہرو کے اس واضح بیان کے بعد کہ جس سے انہوں نے اپنی پوری زندگی انکار نہیں کیا تھا، تو بھارت کیوں کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہہ رہا ہے؟ 1971ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان دباؤ میں آگیا۔ 1972ء کے شملہ معاہدے میں ہماری ترجیح جنگی قیدیوں کی رہائی تھی، اور عالمی طور پر یہ بات طے تھی کہ کوئی ملک زیادہ عرصے تک جنگی قیدی نہیں رکھ سکتا، مگر بھارت نے موقع سے فائدہ اُٹھا کر پاکستاں سے کشمیر کو دو طرفہ مسئلہ تسلیم کروا لیا اور اقوامِ متحدہ سمیت کسی بھی عالمی فورم پر کشمیر کی بات کرنے سے روک دیا۔ اگر پاکستان نے کسی بھی فورم پر بات کی، تو بھارت نے شملہ معاہدے کا حوالہ دے کر احتجاج کیا۔ اس طرح سفارتی سطح پر پاکستان کے ہاتھ باندھ دیے گئے۔
قارئین، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ دیکھتے ہوئے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت کو بعض سنگین نوعیت کے خارجی، معاشی اور اندرونی مسائل کا سامنا ہے۔ یہ ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کے نرغے میں ہے، تو اس نے اپنے انتخابی وعدے کے مطابق 5 اگست کو بھارتی آئین سے “آرٹیکل 370” اور “تھرٹی فائیو اے” کو نکال کر کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔ 5 اگست پیر کا دن انسانیت کی تاریخ کا ایک سیاہ اور مایوس کن دن تھا، جب مودی سرکار نے معصوم کشمیریوں کو ان کی اس خصوصی حیثیت سے محروم کردیا، جو ان کو سات دہائیوں سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-A کی صورت میں حاصل تھی۔ اس اقدام کا واحد مقصد مسلم اکثریتی علاقوں میں آر ایس ایس اور دیگر ہندو انتہا پسند تنظیموں کے کارکنوں کو کشمیر میں آباد کرکے مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا تھا۔
دوسرا مقصد یہ کہ کشمیر جنت نظیر کے جس خطے کو پاکستان اپنی شہ رگ اور بھارت اپنا اٹوٹ انگ سمجھتا ہے، کی تقسیم پر مہر تصدیق ثبت کی ہے کہ “اِدھر ہم، اُدھر تم۔”
جب مودی سرکار کشمیر کو ہڑپ کرنے جا رہی تھی، تو پاکستانی سرکار اور ہمارے سیاسی رہنما سینیٹ کی جیت پر خوشیاں منا رہے تھے، جب کہ اپوزیشن “لیڈر بچاؤ مہم” پر بحث کر رہی تھی۔ ہاں، البتہ اسمبلی میں جذباتی تقاریر کرتے ہوئے مذمتی قرارداد ضرور منظور کی گئی، لیکن محض مذمتی قراردادیں کافی نہیں ہوا کرتیں، آگے بڑھ کر بھارتی ہاتھ کو کاٹ ڈالنا ہوگا۔
سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس میں کیا ہوا اور اس کے بعد کیا ہونے والا ہے؟ کچھ معلوم نہیں، البتہ پاکستان اور بھارت دونوں اس کو اپنی اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان اس پر خوش ہے کہ اقوامِ متحدہ میں پچاس سال بعد مسئلہ کشمیر پر بات ہو رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ نے دونوں ممالک کو اپنے اس باہمی مسئلے کو شملہ معاہدے کے تحت حل کرنے کی تلقین کی۔ اقوامِ متحدہ میں بھارت کے مندوب سید اکبر الدین نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ کے دوران میں کہا کہ ہم 1972ء کے شملہ معاہدے کو تسلیم کرتے ہیں، اور ہم کشمیر پر بات کرنے کو تیار ہیں (جو وقت ٹالنے کا طریقہ ہے)۔ انہوں نے یہ بھی کہا: “we don’t need international busy bodies to try to tell us how to run our life. We are a billion plus people (یعنی کسی بھی معروف اور طاقتور شخص کو ہمیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہمیں اپنی زندگی کیسے گزارنی چاہیے؟ ہم ایک ارب سے زیادہ لوگ ہیں۔)
بھارتی سپریم کورٹ نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے خلاف درخواست سننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فیصلہ چیف جسٹس رنجن گنگولی کریں گے۔ اس کے ساتھ کشمیر سے کرفیو ہٹانے کی درخواست کی سماعت سے بھی انکار کیا گیا۔
دوسری طرف بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کا یہ بیان کہ اب بھارت اس پالیسی کو تبدیل کر دے گا جس میں اُس نے ایٹمی حملے میں پہل نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ بھارت کشمیر کے لیے ایٹمی حملے کرنے میں بھی پہل کر سکتا ہے۔
دوسری طرف ہماری یہ حالت ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر اسلامی ممالک بھی پاکستان کی حمایتی نہیں رہے۔ آج تک کسی بھی اسلامی ملک نے کشمیر پر کھل کر بیان نہیں دیا۔ متحدہ عرب امارات نے بھارتی اقدام کی کھل کر حمایت کی۔ بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر (یعنی 15 اگست کو) متحدہ عرب امارات کے ائیرپورٹس پر سرکاری سرپرستی میں مسافروں میں بھارتی جھنڈے، غبارے اور موتیوں کے ہار بانٹنے جا رہے تھے۔ کیوں کہ عرب ممالک کو اپنی سرمایہ کاری کی فکر لاحق ہے۔ 5 اگست کے ٹھیک سات دن بعد بھارت میں پندرہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان پاکستان اور بالخصوص کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ وہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
سنے گا کون میری چاک دامانی کا افسانہ
یہاں سب اپنے اپنے پیرہن کی بات کرتے ہیں
ہمارے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر اعظم عمران خان اپنے اپنے ہم منصبوں سے ٹیلی فونک رابطے کر رہے ہیں، اور انہیں کشمیر پر پاکستان کے دو ٹوک مؤقف سے با خبر کر رہے ہیں، مگر ہمیں نہیں بتایا جاتا کہ ٹیلی فون سننے والوں نے کیا جواب دیا؟ صرف عوام کو یہی بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے ہمارے مؤقف کی تائید کی اور کشمیر کے تنازعے کو باہمی گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔ باہمی گفت و شنید پر زور دینے کا مطلب ہے کہ کوئی بھی کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی حمایت کو تیار نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مصالحت کے ساتھ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ خود مختار کشمیر کے آپشن پر امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کئی سالوں سے کام کر رہی ہے۔ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے 1988ء میں اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے کے دو ارکان گرفتار کیے جو سی آئی اے کے ایجنٹ تھے، اور ان کو “خود مختار کشمیر” کے قیام کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ گرفتاریوں کے سبب وقتی طور پر یہ پراجیکٹ ناکام ہوا۔ “وائٹ سینگ” نامی آپریشن کی تحقیقات کے دوران میں معلوم ہوا کہ اس پراجیکٹ کو سی آئی اے کے علاوہ اسرائیل کی سرپرستی حاصل تھی۔ بعض پاکستانی سفارت کار اور بیورکریٹ بھی اس منصوبے کا حصہ تھے۔ نیو ورلڈ آرڈر میں بھی کشمیر کی خود مختاری کا آپشن موجود ہے۔
قارئین کرام! اب ظاہری طور پر لگتا تو یہی ہے کہ کشمیر پر ہماری گرفت کمزور پڑ چکی ہے۔ صرف تقاریر، باہمی گفت و شنید اور قراردادوں سے ہم کشمیر کو حاصل نہیں کرسکتے۔ جب وزارتِ خارجہ کا قلم دان بھٹو کے ساتھ تھا، تو ایک زمانہ ایسا بھی تھا کہ وہ کبھی شملہ جار ہے ہیں، اور کبھی بھارتی ہم منصب سردار سون سنگھ مری آ رہے ہیں، اور ان ملاقات کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری تھا، لیکن وہ دور بھی ختم ہوا اور مسئلہ کشمیر سرد خانے کی نذر ہوگیا۔
7 جنوری 1948ء کو سلامتی کونسل کی قرارداد 38 میں دونوں ممالک سے کہا گیا تھا کہ اشتعال انگیز بیانات سے گریز کیا جائے۔ 20 جنوری 1948ء کو کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی تین رکنی کمیٹی بنی۔ 3 جون 1948ء کو اقوام متحدہ کی قرارداد 51 میں کمیشن کو کام تیز کرنے اور پاک بھارت سے رابطے کی ہدایت کی گئی۔ 13 اگست 1948ء کی قرارداد میں پاک بھارت کو “سیز فائر” کا کہا گیا۔ 5 جنوری 1949ء کو سیز فائر، فوجوں کی واپسی اور رائے شماری کی قرارداد منظور ہوئی۔ 14 مارچ 1956ء کی قرارداد میں دونوں ممالک کو امن و امان کے لیے ضروری اقدامات کرنے کو کہا گیا۔ 12 اپریل 1956ء کو اقوامِ متحدہ نے مسئلہ کشمیر پر “سر اونڈکس” کو نمائندہ مقرر کر دیا گیا، اور اس نے اپنی رپورٹ پیش کی، لیکن ہوا کچھ بھی نہیں اور اب بھی کچھ نہیں ہوگا۔
قارئین کرام! شائد کشمیر ہمارے ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔ کشمیر ہمارے لیے اب ایک “جذباتی مسئلہ” ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ ہم ایک جذباتی قوم ہیں۔ ہم نے عراق، افغانستان، فلسطین، شام اور دیگر اسلامی ممالک پرچڑھائی کے خلاف احتجاج کیا، جلوس نکالے، جلسے کیے اور سمندر کی جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ ٹھیک اسی طرح کشمیر پر بھی جلسے، جلوس اور تقاریر ہوں گی اور آخرِ کار سب بھول جائیں گے کہ کشمیر بھی کوئی مسئلہ تھا۔ ہمارے حکمرانوں کو بس اپنی پڑی ہے۔ وہ کسی طور اپنا وقت پورا کرنے چاہتے ہیں۔ وہ خود کو فرشتے اور دوسروں کو شیطان ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔
بقولِ مرزا محمود سرحدی
تھا دعاؤں پہ کبھی آسرا، وہ بھی نہ رہا
کیوں کہ ان کا بھی اثر ہوتا ہے اکثر اُلٹا
احتجاجوں کے لیے کہیے، تو انکار نہیں
ورنہ ہم لوگ کسی حال میں تیار نہیں
ہم سے بس یہی ممکن ہے کہ تقریریں کریں
یا “بھارتیوں” کے ظلم کی تفسیریں کریں
اور تم لڑتے رہو، لڑتے رہو، لڑتے رہو

……………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے