314 total views, 1 views today

اگست کی چار تاریخ کو ودودیہ ہال سوات میں ایک کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔ یہ کنونشن سواتی قوم سے تعلق رکھنے والے مشران نے بلایا تھا۔ یاد رہے کہ ’’سواتی‘‘ کی اصطلاح اُن لوگوں کے لیے استعمال ہوتی ہے، جو سولہویں صدی میں یوسف زئی قبیلہ کی آمد سے پہلے یہاں کے باسی تھے۔ سوات پر قابض ہونے کے بعد اُن سواتیوں کو یہاں سے کوچ کرنا پڑا اور ملک کے طول و عرض میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ اس کنونشن کو کامیاب بنانے کے لیے اچھی خاصی مہم چلائی گئی۔ فیس بک پر متعدد سواتیوں نے اس کی ترویج کے علاوہ شانگلہ اور دیگر مقامات پر بینرز آویزاں کیے اور واضح مقامات پر لکھائی کی گئی۔ مذکورہ کنونشن میں اندرونِ ملک و بیرونِ ملک سے سواتیوں نے بھی شرکت کی۔ اس مجمع میں اکثریت سوات، آلائی، بٹگرام، تور غر اور مانسہرہ سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔ کنونشن کی اہم بات یہ تھی کہ اس میں سواتی قوم سے تعلق رکھنے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران نے بھی شرکت کی۔ یہ اجتماع قدیم سواتیوں نے سوات سے بے دخلی کے 500 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے منعقد کیا تھا۔
اجتماع میں متعدد مقررین نے تقاریر کیں، جس کی وجہ سے سخت گرمی میں یہ تقریب بہت طوالت اختیار کرگئی۔ ڈھیر ساروں کے لیے ہال میں بیٹھنا تک محال ہوگیا تھا۔ پہلے مقرر نے کہا کہ 1980ء (بعض نے یہ سن 1982ء بتایا ہے) میں قدیم سواتیوں نے ’’انجمنِ تحفظِ حقوقِ قدیمی سوات‘‘ کے نام سے اس تحریک کا آغاز کیا۔ ابتدا میں یہ تحریک آدھ درجن مشران پر مشتمل تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوتا گیا اور اب یہ ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ ایک اور مقرر نے تو یہاں تک کہا کہ ’’سوات ہماری وجہ سے سوات ہے۔ کیوں کہ کسی زمانے میں اس کا نام اُدھیانہ ہوا کرتا تھا۔ محمود غزنوی کی فوج کے ہمراہ ہم سوات آئے اور پھر یہاں کے ہوکر رہ گئے۔‘‘
ایک مقرر نے کہا کہ ’’یہ بات مشہور کی گئی ہے کہ ہمیں سوات سے بھگایا گیا تھا۔ اس بات میں کوئی صداقت نہیں۔ کیوں کہ ہم نے 17 سال تک یوسف زو سے جنگیں لڑیں، اور آخرِکار ہمیں شیرپلم کے مقام پر شکست ہوئی۔ اگر اُس وقت کی سپر پاؤر یعنی مغل، یوسف زو کا ساتھ نہ دیتی، تو ہمیں ہرانا مشکل تھا۔‘‘ اس مقرر نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہاں تک کہاکہ ’’یوسف زو نے اپنی ایک بیٹی مغل بادشاہ بابر کو بیاہ دی، اور اسی وجہ سے بابر نے یوسف زو کی مدد کے لیے 30 ہزار فوج بھیجی۔ وہی مغل فوج ہماری شکست کا باعث بنی۔ ہمارے ساتھ وفا نہیں کی گئی اور ہم نے جن کو جگہ دی، وہ ہمیں سوات سے بے دخل کرگئے۔‘‘
قارئین، مذکورہ کنونشن میں اُن علمائے کرام کا بھی ذکر کیا گیا اور ہر ایک کا نام لیا گیا جنہوں نے سواتی قوم میں جنم لیا، اور درس و تدریس میں نام کمایا۔
اس کنونشن کا ایک دلچسپ امر یہ بھی تھا کہ تقاریر تین مختلف زبانوں یعنی پشتو، اردو اور ہندکو میں کی گئیں۔ کیوں کہ سواتیوں کی یہ نسل مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہے، جس کی وجہ سے اُن کی بولیاں بھی ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ اس موقعہ پر سوات کے صحت افزا مقام میاں دم سے تعلق رکھنے والے ایک مقرر نے کہا کہ ’’سواتی قوم نے تحریک پاکستان میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ پانچ سو سال بعد یہ ہمارا ایک منفرد اور اہم اجتماع ہے۔ ہم نے میاں دم میں ’’سواتو‘‘ نامی ایک گاؤں بھی آباد کیا ہوا ہے۔‘‘
پرنس محمد نواز آف آلائی نے اپنی تقریر میں بتایا کہ یہ اجتماع دیکھ کر اُن کا دل باغ باغ ہوگیا ہے۔ ’’ہمارے نقاد اکثر یہ نکتہ اُٹھاتے ہیں کہ ہمارا کوئی شجرۂ نسب نہیں۔ اُن لوگوں کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ سواتی قوم کے شجر پر سواتی قوم سے تعلق رکھنے والے اور ’’ایچ ای سی‘‘ کے سابق ڈائریکٹر فضل محمود خان کام کر رہے ہیں اور بہت جلد یہ کام پایۂ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔‘‘
ایک مقرر نے سواتیوں کے لیے ایک سیکٹریٹ بنانے کی تجویز پیش کی، تاکہ سواتی اس مرکز سے اپنی سرگرمیاں آگے بڑھاسکیں۔
کنونشن کے مقررین نے یہ بات کئی مرتبہ دہرائی کہ ’’سوشل میڈیا پر ’’پاک آرمی زندہ باد‘‘ کے نام سے ایک مہم چلائی جائے، اور دنیا کو یہ بتایا جائے کہ ہم سواتی قوم پاک آرمی کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔‘‘
قارئین، ان اُمور کے علاوہ کچھ تلخ باتیں بھی ہوئیں، جن کو یہاں چھیڑنا اور ان پر بات کرنا تلخی کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی وجہ سے راقم اُن کا ذکر کرنا یہاں مناسب نہیں سمجھتا۔
اس کنونشن میں راقم اس اُمید پر شامل ہوا تھا کہ یہاں پر پُرمغز تقاریر ہوں گی، اور اُن اُمور کو موضوعِ بحث بنایا جائے گا جس کی وجہ سے سواتی شکست سے دوچار ہوئے، اور پھر خود کو ایک لڑی میں نہ پرو سکے، لیکن ایسا ممکن نہ ہوسکا، اور دل و دماغ کی پیاس نہ بجھ سکی۔
مزید براں حسبِ معمول ودودیہ ہال میں پانی کی شدید قلت رہی۔ شرکا سخت گرمی میں پانی کی تگ و دو میں مصروف رہے۔ میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ کچھ پانچ صدیاں پہلے ان شرکا کے آبا و اجداد سوات کے دریاؤں کے بلا شرکت غیرے مالک تھے، لیکن پھر تاریخ نے ایسا پلٹا کھایا کہ موجودہ نسل یہاں پانی کی بوند بوند کو ترس رہی ہے۔ جب اسٹیج سے یہ اعلان ہوا کہ بہت سے سواتیوں کو ودودیہ ہال پہنچنے میں مشکلات درپیش ہیں، کیوں کہ وہ جدید سوات کے راستوں سے نابلد ہیں، تو مَیں ایک گہری سوچ میں پڑگیا کہ یہ لوگ جو کسی زمانے میں سوات کے چپے چپے سے واقف تھے، اور راستہ بھولنے کا سوال پیدا نہیں ہوسکتا تھا، آج وہ سوات کے دل یعنی سیدوشریف میں راستہ ڈھونڈتے پھیر رہے ہیں۔
نوٹ:۔ اس مضمون کا پہلا اور آخری پیراگراف راقم کے اپنے خیالات پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ باقی تمام باتیں وہی ہیں جو کہ کنونشن میں کی گئی ہیں۔ ان میں سے کچھ نِکات سے راقم کی طرح سب کو اختلاف ہوسکتا ہے۔ بس کوشش یہی کی گئی ہے کہ یہاں صرف کنونشن کے مقررین کے خیالات کو سامنے لایا جائے، شکریہ! (راقم)

……………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے