166 total views, 1 views today

یہ اتنی پرانی بھی نہیں بلکہ کوئی پندرہ بیس سال پہلے ہی کی تو بات ہے جب بڑے شہروں کو چھوڑ کر باقی پورے صوبہ میں تعلیمی اداروں کا حال، بے حد بدحال تھا۔ سکول کی چاردیواری تھی، نہ پانی، بجلی اور دیگر سہولیات ہی تھیں، بلکہ اکثر اوقات اساتذہ بچوں کو درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں بٹھا کر پڑھایا کرتے تھے۔ استاد کے ہاتھ میں ایک چھڑی ہوا کرتی تھی جیسے کوئی گڈریا ریوڑ ہانکنے حاضر ہوا ہو۔ یوں استاد کی شخصیت ایک طرح سے خوف کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ خود مَیں چند جماعتیں جس سرکاری سکول میں پڑھ چکا ہوں، وہ ہمارے ایم این اسے صاحب کے عالی شان محل نما گھر کی بالکل پشت پر واقع تھا۔ پورے سکول میں پیاس بجھانے کے لیے دو مٹکے ہی ہوا کرتے تھے جن میں بسا اوقات کوئی شرارتی بچہ سیاہی کا دوات انڈیل کر پانی کو ناقابلِ استعمال بنا دیتا تھا۔ سکول میں بجلی، ڈیسک اور بیت الخلا کا تصور تک نہ تھا۔ چاردیواری اور گیٹ نہ ہونے کے سبب جس دن ٹیکا لگانے والے آجاتے چہار سوں چھوٹی سی دیوار پھلانگ کر بچے یہ جا وہ جا۔
قارئین، یہ کہانی صرف میرے سکول کی نہیں بلکہ اُس زمانے کے تقریباً تمام سرکاری سکولوں کی ہے۔ مگر سوچا جائے، تو اس سے پہلے کے سرکاری سکولوں کی حالت کیا ہوتی ہوگی؟ خیر، سوچنے کاکیا فائدہ! کیوں کہ باوجود ان برے حالات کے ان سکولوں سے جو بچے پڑھے اور نکلے ہیں، ان کی اکثریت آج بھی اچھے اچھے عہدوں پر براجمان ہے۔ تب نجی سکولوں کا یہ سیلاب نہیں آیا تھا، اور محلے میں جو بچے نجی سکول میں داخل کیے جاتے تھے، ان میں اکثریت مال دار لوگوں کے نالائق بچوں کی ہوا کرتی تھی۔ جب امتحانی نتائج آتے تھے، تو بورڈ کی سطح پر تمام اچھی پوزیشنیں سرکاری سکول کے ہوا کرتے تھے، مگر جب سے نجی سکولوں کا کاروبار شروع ہواہے، تب سے تمام اچھی پوزیشنیں نجی سکول والے لے اُڑتے ہیں۔
قارئین، ایک طرح سے اس کی ڈھیر ساری وجوہات ہیں جن میں رشوت اور بوٹی مافیا کو نکالا نہیں جاسکتا، مگر آج ہمارا موضوع سرکاری سکول ہیں۔ کیوں کہ آج کے سرکاری سکول عمارات اور سہولیات کے حوالے سے ڈھیر سارے نجی سکولوں سے بدرجہا بہتر ہیں۔ اب اساتذہ کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوچکا ہے۔ مانیٹرنگ یونٹ کے ذریعے اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنایا گیا ہے۔ نئے بھرتی شدہ اساتذہ کی اکثریت نوجوان اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ باجود اس کے مگر پورے صوبہ میں بورڈ کے امتحانات میں سرکاری سکولوں کا ریکارڈ انتہائی خراب ہے۔ ابھی گذشتہ ہفتے نویں اور دسویں جماعت کے نتائج آئے ہیں۔ آپ پورے صوبے کے بورڈز کا ڈیٹا نکال کے دیکھ لیں، ہر جگہ نجی تعلیمی ادارے ہی آگے ہیں، اور ٹاپ ٹین میں سرکاری سکولوں کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے۔ اگرچہ حکومتی سطح پر صوبے بھر میں تعلیمی ایمرجنسی بھی نافذ ہے۔ اس کے علاوہ تعلیمی نظام کی بہتری پر قومی خزانہ سے پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے، اور ستم بالائے ستم یہ کہ بہتری کے ڈھیر سارے دعوے کیے جاتے ہیں، بات مگر جب نتائج کی آتی ہے، تو تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ مشتے نمونہ از خروارے کے مصداق ملاکنڈ بورڈ کے ساتھ اس وقت مجموعی طور پر سیکنڈری سطح کے 690 ادارے منسلک ہیں، جن میں 366 سرکاری جب کہ 324 نجی ادارے شامل ہیں۔ یوں یہ تناسب تقریباً پچاس پچاس فی صد ہی بنتا ہے، لیکن حالیہ نتائج میں ٹاپ پوزیشنوں کی اکثریت نجی اداروں کے طلبہ و طالبات کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا ہے کہ صرف ایک ملاکنڈ بورڈ کی سطح پر نصف سے زیادہ طلبہ و طالبات جو سرکاری اداروں میں پڑھتے ہیں، ان کا معیار انتہائی ناقص ہے۔ اس طرح پورے صوبے کی سطح پر بھی بورڈز کے نتائج کی یہی صورتحال ہے۔ اس کی کئی ایک وجوہات میں نجی اداروں میں اپنے سٹاف سے باز پرس کے علاوہ بورڈز عملے کے بوٹی مافیا کے ساتھ گٹھ جوڑ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، مگر سرکاری اداروں میں جب کہ اب اساتذہ، سہولیات اور فنڈز کی فراوانی ہے، پھر بھی رزلٹ کا مسلسل خراب آنا باعثِ تشویش ہی ہے، جس پر سوچنے کے لیے شاید ہی ذمہ داران کے پاس وقت ہو؟ ہر ضلعی تعلیمی آفیسر کے فرائضِ منصبی میں شامل ہے کہ اپنی زیرِ نگرانی سکولز کا دورہ کرکے اساتذہ اور طلبہ سے اس بری کارکردگی کی وجوہات معلوم کرے اور بروقت تدارک کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔ کیوں کہ بچوں کی اکثریت جو سرکاری سکولز میں پڑھتی ہے، اگر ان کا تعلیمی سفر ایسا بے کار رہا، تو یہ لوگ معاشرتی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے، جو کہ کسی بھی طور درست نہیں ہے۔
یہ بات ضرور سوچنے والی ہے کہ جب سرکاری اداروں میں سہولیات دستیاب نہیں تھے، تو اس وقت نتائج بہتر تھے۔ اب جب کہ ہر قسم سہولیات دستیاب ہیں، پھر بھی ہرسال معیارِ تعلیم گر رہا ہے، ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب متعلقہ ادارے ضرور تلاش کریں۔

………………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے