471 total views, 1 views today

پاک افغان کرکٹ میچ نے سوشل میڈیا پر دونوں ممالک کے سخت گیر عناصر کو ایک دوسرے کے مقابل صف آرا کردیا۔ چند ایک شرپسند یا ممکن ہے "سپانسرڈ افغان شہریوں” نے پاکستانی کھلاڑیوں اور شائقینِ کرکٹ کے ساتھ بدسلوکی کی ہو، لیکن ملک کے طول و عرض میں "نمک حرام” کے طعنوں کا طوفان اٹھا دینا کہاں کی دانشمندی اور انصاف ہے؟ افغان ذرا سی اپنی مرضی کیا کرتے ہیں کہ پاکستانیوں کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ اکثر کہتے ہیں "ہماری بلی ہمیں ہی میاؤں۔” یہ طرزِ عمل دیکھ اور سن کر برسوں پرانے واقعات حافظے کی سکرین پر بجلی کی طرح کوندتے ہیں۔ یمن کے تنازعہ میں شریک ہونے اور اپنی فوج سعودی عرب روانہ کرنے سے حکومت پاکستان نے انکار کیا کیا کہ عرب حکمرانوں ہی نہیں عام شہریوں نے بھی ایک طوفانِ بدتمیزی اٹھا دیا۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ پاکستان بھی انکار کی سکت رکھتا ہے ۔ عربوں کے اس طرزِ عمل نے اہلِ پاکستان کو بہت افسردہ کیا تھا۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ افغانوں کے ساتھ ہمارا تعلق برابری اور مساوات کے اصولوں پر مبنی نہیں بلکہ قومی اور گروہی اغراض سے بندھا ہوا ہے۔ ان کی کامیابیوں اور کامرانیوں کو ہم سے اکثر لوگ اپنی پسندیدہ عینک سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ مہاجرین کو پناہ دینے کا احسان جتایا جاتا ہے اور بہت تکرار کے ساتھ۔ اس بحث میں یہ فراموش کردیا جاتا ہے کہ افغانستان کے جہاد کی پرورش ہمارے حکمران طبقے نے اپنی مرضی اور اسٹرٹیجک ضرورت کے تحت کی تھی۔ سوویت یونین کے خلاف بننے والے عالمی محاذ کا ہم سرگرم حصہ بنے۔ جنگ کے فوائد حکمرانوں اور ان کے حاشیہ برداروں نے سمیٹے اور نقصانات اٹھانے کے لیے شہریوں کو آگے کردیا۔ 80 کی دہائی میں پاک افغان سرحدی پٹی پر سیکڑوں کی تعداد میں عربوں اور امریکیوں کی شہ اور مالی تعاون سے مدارس قائم کیے گئے۔ عالم یہ تھا کہ افغانوں کے لیے معمول کے سکولوں کا نصاب بھی سی آئی اے کا مرتب کردہ تھا۔ مقصد ایک ایسی نرسری تیار کرنا تھا جو جنگجو ہو اور آخری سانس تک سوویت یونین کا مقابلہ کرنے پر رضا مند ہو۔ مذہب کو افیون کی طرح برتا گیا۔ انسان جو بوتا ہے، وہ کاٹتاہے۔ شدت پسند اور بے لچک ہونا افغانوں کا خاصا ہے۔ کوہساروں کی کوکھ سے جنم لینے والے اکثر اکھڑ مزاج ہوتے ہیں۔ حالتِ جنگ میں مسلسل رہنے کی بدولت اکھڑے رہنا ان کے مزاج کا مستقل حصہ بن گیا۔
پشاور کے مہاجر کیمپوں میں اس خاکسار کو ایک نہیں درجنوں بار جانے کا موقع ملا۔ کَس مہ پُرسی کی زندگی افغانوں پر مسلط ہوئی۔ امداد ان کے نام پر آتی، ڈالروں کی بوریوں میں تقسیم بڑے بڑے ایوانوں میں ہوجاتی۔ بریگیڈئر محمدیوسف جو برسوں تک افغان سیل کے سربراہ رہے، انہوں نے افغانستان پر ایک تہلکہ خیز کتاب لکھی۔ بتاتے ہیں کہ کس طرح افغانستان کے جہاد کو راولپنڈی سے ہو کر چلایا گیا۔ اشتراک کا یہ عالم تھا کہ سی آئی اے کے سربراہ "ولیم کیسی” ہر ماہ صبحِ صادق راولپنڈی کے چکلالہ ائیرپورٹ پر اترتے اور خاموشی سے پاکستانی ہیلی کاپٹر پر افغان سرحد کی جانب روانہ ہوتے۔ کہا جاتا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد دونوں ممالک کے اشتراک سے دنیا کا سب سے بڑا خفیہ آپریشن کیا گیا۔
80 کی دہائی میں ہتھیاروں اور پروپیگنڈے پر اربوں ڈالر امریکیوں نے صرف کیے۔ اتنی ہی رقم عربوں نے بھی فراہم کی۔ یورپ اور جاپان بھی مسلسل کمک فراہم کرتے رہے۔ امداد اور اشتراک کا مقصد ایک ایسی نسل تیار کرنا تھا، جو سوویت یونین کی بربادی تک چین کی نیند نہ سو سکے۔ سوویت فوج، افغانستان سے بے نیل و مرام واپس لوٹی۔ ایک سپر پاؤر کی ہیبت اور طاقت کو ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے خاک میں ملتے دیکھا۔ امریکیوں نے بوریا بستر سمیٹا اور سات سمندر پار سدھار گئے۔ اقتدار پر قبضے کی کشمکش میں افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہوگیا۔ جلتی پر تیل کا کام ایران اور بھارت نے کیا۔ القاعدہ نے بھی افغانستان کو اپنا مرکز بنا کر امریکہ ہی نہیں عرب حکمرانوں سے بھی ٹکر لے لی۔ روس اگرچہ زخم چاٹ رہا تھا، لیکن اس نے بھی اپنے اتحادیوں کو اسلحہ فراہم کرنا شروع کر دیا۔ ہاتھیوں کی اس لڑائی میں افغان شہری دربدر ہوگئے۔ افغان شہریوں کی فلاح و بہبود بارے کسی نے نہ سوچا۔ جنگ کا ایندھن بننے والوں کی معاشی بحالی کا کوئی مارشل پلان نہ بن سکا۔ نائن الیون کے بعد مغربی دنیا اور بھارت کے دروازے عام افغانون کے چوپٹ کھل گئے۔ ہزاروں نوجوانوں کو یورپ، امریکہ، جاپان، بھارت حتیٰ کہ چین کے تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم و تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا۔ مغربی میڈیا میں پاکستان مخالف پروپیگنڈے پر تبصرے کی چنداں ضرورت نہیں۔ میڈیا ہی نہیں تحقیقی ادارے اور یونیورسٹیاں بھی پاکستان کی بھد اڑاتیں۔ فلمیں بنیں، کتابیں لکھیں گئیں حتیٰ کہ ساری دنیا نے اسلام آباد کو افغانستان کے عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دیا۔ جوابی بیانیہ کوئی جگہ نہ پاسکا۔ پاکستان کے نقطۂ نظر کو پذیرائی نہ ملی۔ افسوس، پاکستان افغانستان کی ترقی اور استحکام کے سفر میں ہم رکاب نہ ہوسکا۔ طالبان کے ساتھ قربت نے اسے افغانستان میں اجنبی بنا دیا۔ کابل کے حکمرانوں نے ایک بھی لمحہ ضائع کیے بغیرپاکستان کا بوریا بستر گول کیا۔ اسی زمانے میں افغانستان میں میڈیا کا بے پناہ پھیلاؤ ہوا۔ 180 کے لگ بھگ ایف ایم ریڈیو اسٹیشن قائم ہوئے۔ 75 ٹی وی اسٹیشن ہیں۔ اخبارات اور رسائل کی تعداد سیکڑوں میں ہے۔ سوشل میڈیا اطلاعات تک رسائی کا پہلا ذریعہ بن گیا۔ اس سارے منظرنامہ میں پاکستان عمومی طور پر غائب رہا۔
اہلِ پاکستان نے افغانستان کو ہمیشہ سیکورٹی کے عدسے سے دیکھا۔ چناں چہ کابل میں آج ایک بھی پاکستانی صحافی نہیں پایا جاتا۔ ان کے میڈیا میں ہمارا کوئی اثررسوخ نہیں۔ افغانوں کو تکنیکی مہارت مغربی یا بھارتی ماہرین فراہم کرتے ہیں۔ مالی وسائل بھی وہاں ہی سے آتے ہیں۔ سوشل میڈیا میں بھی پاکستانی بیانیہ کہیں نظر نہیں آتا۔
اس طرح پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم کرنے والوں کو اسلام آباد میں چند برس قبل تک محب وطن نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ماحول اب بدل رہا ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے گذشتہ ڈھائی برسوں میں ملک کے اندر اور اداروں میں ایک تعمیری اور مثبت طرزِ فکر پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کی۔ اعلیٰ سطح پر ریفارمز کا سلسلہ شروع کیا۔ "باجوہ ڈاکٹرائن” کے مثبت نتائج سامنا آنا شروع ہوچکے ہیں۔ طالبان کے امریکہ اور بتدریج افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت کی راہ ہموار کر دی گئی۔ سیاسی اور سفارتی فضا خوشگوار ہورہی ہے۔ تلخی اور بداعتمادی کے بادل چھٹ رہے ہیں۔ اعتماد اور دوستی کے رشتے بحال ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اُبھرتے ہوئے ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے افغانستان اور اس کی حکومت کے ساتھ اہلِ پاکستان کو محبت اور اخوت کا رشتہ اختیار کرنا ہوگا۔ مسابقت اور مقابلے کا نہیں۔ ان کے زخموں پر مرہم رکھنا ہوگا۔ سیاسی استحکام، امن اور ترقی کے سفر میں ان کا شریکِ کار بننا ہوگا، نہ کہ رقیب۔ افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے میں نفع نقصان کا حساب کتاب ترک کرکے ان کا ہاتھ تھامنے کی سوچ اپنانا ہوگی۔ یاد رکھیں، صرف! محبت ہے فاتحِ عالم۔

……………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے