97 total views, 1 views today

2005ء میں یوکے میں لیبر پارٹی کی حکومت تھی۔ ’’ڈیوڈ بلینکٹ‘‘ ہوم آفس کے سیکرٹری یعنی وزیر تھے۔ ان کی گرل فرینڈ نے ویزے کے سلسلے میں اپنا پاسپورٹ ہوم آفس بھیجا تھا۔ محترم بلینکٹ نے پاسپورٹ کو فاسٹ ٹریک میں نمٹانے کے لیے ہوم آفس فون کیا، جو ہوم آفس کے قانون کے عین مطابق تھا۔ ہوم آفس کا یہ قانون ہے کہ انتہائی ایمرجنسی کی صورت میں کوئی بھی شخص ہوم آفس کو اپنے کیس کو فاسٹ ٹریک پر نمٹا نے کے لیے درخواست دے سکتا ہے، لیکن وہ چوں کہ مسٹر بلینکٹ کی گرل فرینڈ تھی، اور یوکے میں گرل فرینڈ قانونی طور پر رشتے میں قریباً بیوی کے برابر تصور کی جاتی ہے، اس وجہ سے وزیر موصوف کی ٹیلی فون کال کنفلیکٹ آف انٹرسٹ کے زمرے میں آتی تھی۔ کنفلیکٹ آف انٹرسٹ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی گورنمنٹ سیکرٹری یا وزیر، سرکاری اہلکار، وکیل، اکاونٹینٹ وغیرہ اپنی حیثیت کو اپنے رشتہ داروں یعنی بیوی، بچوں اور بہن بھائی کے لیے استعمال نہیں کرسکتا۔ مسٹر بلینکٹ کے فون کا پتا چل گیا۔ خبر میڈیا تک پہنچی۔ ٹونی بلیئر وزیراعظم تھے۔ فوراً مسٹر بلینکٹ سے استعفا کا مطالبہ کیا گیا۔ بلینکٹ نے استعفا دے دیا۔ حالاں کہ بلینکٹ نابینا تھے، لیکن اس کے باوجود بہت قابل اور ذی عقل وزیر تھے۔ لیبر پارٹی کی پالیسی مرتب کرنے میں ان کا کردار ہمیشہ بہت اہم رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں انگلینڈ کے ’’دی گارڈین‘‘ اخبار میں ان کا ایک بیان شائع ہوا تھا، جس میں انہوں نے لیبر پارٹی کی حالیہ انتخابات میں شکست کی وجوہات بیان کی ہیں، اور لیبر لیڈر ’’مسٹر کوربن‘‘ کو پارٹی کا امیج بحال کرنے کے لیے کچھ تجاویز بھی دی ہیں۔
سابق وزیراعظم برطانیہ ٹونی بلیئربھی وزیراعظم پاکستان عمران خان کی طرح ڈیوڈ بلینکٹ سے مطالبہ کرسکتے تھے کہ ہوم آفس کو ایک خط لکھ کر اپنی ٹیلی فون کال واپس لے لیں۔ اس آپشن سے ٹونی بلیئر نہ صرف اپنا کام آسان کرسکتے تھے، بلکہ اپنے ایک قابل اور تجربہ کار وزیر کو بے عزتی اور سبک دوشی سے بھی بچا سکتے تھے، لیکن انہوں نے اصلی غلطی کرنے والے (مسٹر بلینکٹ) سے استعفا مانگا۔ ان کے خیال میں وزیر موصوف کی ٹیلی فون کال کنفلیکٹ آف انٹرسٹ کے زمرے میں آتی تھی، کیوں کہ انہوں نے یہ کال اپنی گرل فرینڈ کے لیے کی تھی اور اپنی سرکاری حیثیت اپنے ذاتی مقصد کے حصول کے لیے استعمال کی تھی۔ حالاں کہ وہ کسی عام شہری کے لیے ایسا کرسکتے تھے اور اس صورت میں ان کی کال قانون کے عین مطابق تصور کی جاتی۔
پاکستان میں ماحولیات کی وزیر محترمہ زرتاج گل وزیر پر اسی طرح کا ایک الزام لگ چکا ہے، جس کے تحت انہوں نے اپنی بہن کی تقرری کے لیے اپنی طرف سے ’’نیکٹا‘‘ کو خط بھیجا ہے اور خط میں اس ٹیلی فونک گفتگو کا حوالہ دیا ہے جو مسز زرتاج گل اور سیکرٹری وزارت داخلہ کے درمیان ہوئی تھی۔ مسز زرتاج گل کا یہ اقدام تحریک انصاف کے اپنے اس پروگرام کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے جس میں پی ٹی آئی نے 2018ء کے انتخابات سے قبل اعلان کیا تھا کہ ’’تحریک انصاف ہر شہری کے ساتھ انصاف کے اصولوں کے مطابق یکساں سلوک کرے گی۔‘‘
یہاں یہ ذکر کرنا انتہائی ضروری ہے کہ جناب عمران خان کی خصوصی ہدایت پر پختونخوا اسمبلی نے 2016ء میں کنفلیکٹ آف انٹرسٹ کی روک تھام کے لیے قانون پاس کیا تھا اور اس قانون کا جناب عمران خان صاحب بڑے فخر کے ساتھ یہ کہتے ہوئے ذکر کرتے تھے کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے کنفلیکٹ آف انٹرسٹ کی روک تھام کے لیے مغرب سے بھی زیادہ مؤثر قانون بنایا ہے۔
وزیر موصوفہ زرتاج گل نے اپنے اس قانون کی خلاف ورزی کرکے اس کا مذاق اڑایا ہے۔ اس کے علاوہ مسز زرتاج گل نے اپنے حلف، جو اس نے آئین پاکستان کے دفعہ نمبر 65 کے تحت 13 اگست 2018ء کو لیا تھا، کی صریح خلاف ورزی کی ہے جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کو گواہ بناکرآئین پاکستان کے تحت یہ وعدہ کیا تھاکہ ’’مَیں مس زرتاج گل صدقِ دل اور خلوصِ نیت سے حلف اٹھاتی ہوں کہ میں پاکستان کی حامی اور وفادار رہوں گی اور بحیثیتِ رکنِ قومی اسمبلی اپنے فرائض منصبی ایمان داری اور انتہائی صلاحیت سے اسلامی جمہوریۂ پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق بروئے کار لاؤں گی۔‘‘
محترمہ زرتاج گل نے اس قسم کا حلف بحیثیتِ مرکزی وزیر کے بھی لیا تھا۔ اپنی بہن کے لیے سفارشی خط لکھ کر وہ آئین کے دفعہ 25 اے کی خلاف ورزی کی بھی مرتکب ہوئی ہیں۔ آئینِ پاکستان کا یہ دفعہ ملک کے تمام عوام کے ساتھ حکومت کے تمام معاملات میں یکساں اور انصاف پر مبنی سلوک کی یقین دہانی کراتا ہے۔
مسٹر بلینکٹ کی طرح مسز زرتاج گل وزیر کی خبر جب میڈیا پر چلی، تو وزیراعظم عمران خان نے زرتاج گل کو خط کو واپس لینے یا تنسیخ کرنے کے لیے کہا۔ وزیر اعظم صاحب کا یہ بروقت اقدام قابل ستائش ہے، لیکن اپنے تحریک انصاف والے منشور، انصاف کے لیے بڑے بڑے وعدوں اور اپنے وِژن کے خلاف اصل غلطی کرنے والی محترمہ زرتاج گل کو سزا نہیں دی گئی۔ ان کی بجائے ان کی بہن کو سزا دی گئی۔ نیکٹا والے اب ان کی بہن کے کیس کو ایک منفی رجحان کے ساتھ نمٹائیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ محترمہ زرتاج گل کی بہن اس جاب کے لیے طے شدہ معیا ر پر پورا اترتی ہوں۔ یعنی ’’د خر پہ زائے مو کلال وداغو۔‘‘ (ترجمہ) ’’گدھے کی جگہ کمہار کو سزا دے دی گئی‘‘ یعنی جس سے غلطی ہوئی ہے، اس کو سزا نہیں دی گئی۔
تحریکِ انصاف کی حکومت اگر واقعی انصاف پر یقین رکھتی ہے اور وہ اپنے بلند بانگ دعوؤں کا پاس رکھتی ہے، تو اسے غلطی کرنے والی وزیر کے خلاف (کنفلیکٹ آف انٹرسٹ ایکٹ 2016ء کے پی کے باب 3 کی روشنی میں) قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔
ویسے تو تحریک انصاف کے کئی صوبائی اور وفاقی وزرا روز کوئی نہ کوئی غلطی کرکے اپنی ذات پر سوالات چھوڑ جاتے ہیں، لیکن کسی سے قانون کے مطابق باز پرس نہیں کی جاتی اور نہ ان وزرا کو بار بار مضحکہ خیز اوربعض اوقات سنگین غلطیاں کرکے کوئی شرم ہی محسوس ہوتی ہے۔ اگر ان میں شرم نامی کوئی چیز ہوتی، تو وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرکے اہم سرکاری عہدوں سے استعفا دیتے۔ سرکاری معاملات خصوصاً ٹرانسفر اور پوسٹنگ میں بے جا مداخلت تحریکِ انصاف کے وزرا اور تنظیمی عہدے داروں کا معمول بن چکا ہے۔ ان میں سے اکثر وزرا اپنی غلطیوں کا اعتراف بھی کرتے ہیں، لیکن بعد میں دوسری غلطی کرکے وہ بھول چکے ہوتے ہیں کہ ان سے پہلے بھی کوئی غلطی سرزد ہوچکی ہے۔ مَیں کچھ عرصہ قبل ایک مسئلہ کے سلسلے میں کے پی کے صوبائی وزیر برائے ریونیو جناب شکیل احمد خان سے ملا تھا جس میں، مَیں نے اسی کیس میں ایک غلطی کی نشان دہی کی تھی۔ انہوں نے میری بات سن کر وعدہ کیا تھا کہ وہ اس غلطی کی تلافی کردیں گے، لیکن آج تک وہ مسئلہ جوں کا توں ہے۔ موصوف جب اسٹیج پر کھڑے ہوتے ہیں اور عوام سے خطاب کرتے ہیں، تو اپنی فیئر پلے کی خوب صورت باتوں سے عوام کا دل بہلاتے رہتے ہیں اور تحریک انصاف کے میرٹ کے اصولوں اور انصاف کی لمبی چوڑی باتیں کرتے ہیں، لیکن جس متاثرہ ٹیچر کا مسئلہ میں نے ان کے سامنے رکھا تھا، ان کو ابھی تک انصاف نہیں مل سکا ہے۔
بادشاہی د جہان سہ کے زان لہ ولے زیاتے غم
د انصاف تلل مشکل دی سہ بہ زیات کے سہ بہ کم
یعنی دنیا کی بادشاہی کے پیچھے کیوں بھاگ دوڑ کر رہے ہو، یہ تو اپنے غموں میں اضافہ کرنا ہے۔ انصاف کرنا ایک مشکل کام ہے، کسی کو بلاوجہ نواز دوگے اور کسی کے ساتھ زیادتی کرلوگے۔
محترمہ زرتاج گل وزیر کا کیس اقربا پروری اور ناانصافی کا ہائی پروفائل کیس ہے۔ خوش قسمتی سے بروقت وزیراعظم کے علم میں آ بھی چکا ہے، اس لیے اس کیس سے ریاست مدینہ کے انصاف کاصحیح معنوں میں آغاز کیا جائے۔

……………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے