101 total views, 1 views today

مودی نے اپنی تقریبِ حلف برداری میں وزیراعظم پاکستان کو مدعو نہ کرکے ثابت کیا کہ وہ بڑا عہدہ رکھنے والا ’’چھوٹا‘‘ آدمی ہے۔ پاکستان نے ہمسایہ ملک ہونے کے ناتے بھارت کی تمام تر شرانگیزیوں کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم بھارت سے پاکستان کے متعدد خیر مقدمی بیانات کا جواب مثبت نہیں ملا۔ پاکستان بخوبی جانتا تھا کہ مودی کی تقریبِ حلف برداری میں وزیراعظم عمران خان کو مدعو نہیں کیا جائے گا۔ کیوں کہ مودی سرکار نے لوک سبھا الیکشن پاکستان مخالف ایجنڈے کے تحت لڑکر کامیابی حاصل کی تھی۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح کردیا تھا کہ ’’ان (مودی) کی مکمل توجہ اپنے انتخابی مہم کے دوران میں پاکستان کو کوسنے پر تھی۔ ہم اب یہ امید نہیں کرسکتے کہ وہ اتنی جلدی اس سے باہر نکلیں گے۔‘‘
واقعی مودی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ فی الوقت عمران خان سے ملاقات کریں۔ بھارتی عوام کو بے وقوف بناکر جنگی جنونیت میں مبتلا کرکے اقتدار تو حاصل کرلیا، لیکن مودی جانتا ہے کہ اُس نے بھارتی عوام کی آنکھوں پر پٹی تو باندھ دی تھی، لیکن پاکستان سے جلد سامنا اس کے بس کی بات نہیں ہوگی۔ جھوٹے سرجیکل سٹرائیک کے دعوے اور لائن آف کنٹرول پر دو بھارتی طیارے گرانے کے بعد، پاکستان میں گرفتار بھارتی ایئرفورس کے کمانڈر ابھی نندن کو خودساختہ ہیرو بنانے کی مضحکہ خیز حرکت کے بعد مودی نہ جانے آئینے کا سامنا کیسے کرتے ہوں گے؟
وزیراعظم پاکستان نے مدبرانہ انداز میں بھارتی وزیراعظم کو مبارک باد کا پیغام دنیا میں شیئر کیا اور پھر فون کرکے بھی مودی کو دوبارہ وزیراعظم بننے پر مبارک باد دی۔ پاکستان نے بھارتی کینے کو دنیا کے سامنے پھر منکشف کیا کہ بھارت (جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی سیکولر ریاست کہنے کے خبط میں مبتلا تھی) مودی سرکار کے مطابق سیکولرازم کو شکست دے کر ہندواسٹیٹ بن چکا ہے۔ مودی کے دوبارہ وزیراعظم بنتے ہی سوشل میڈیا پر ہندو شدت پسندوں کا مسلمانوں پر گاؤ رکھشا کے نام بہیمانہ تشدد اور اُن سے اپنے دیوی دیوتاؤں کے جبراً نعرے لگوانے کی ویڈیو وائرل ہوئی۔ بھارت کا اصل چہرہ شدت پسند ہی ہے۔ اب اگر مودی اس کو بدلنے کی بھی کوشش کرے، تو ان کا حشر بھی ’’شیخ مجیب الرحمان‘‘ جیسا ہوسکتا ہے۔ گاندھی کا بھارت گنگا ندی میں بہہ گیا ہے، اب صرف غلاظت، کدورت اور نفرت کا دریا ہے جو بھارتی عوام کے دل و دماغ میں بہہ رہا ہے۔
بھارت میں 524 نشستوں پر مسلم امیدواروں کی انتہائی کم تعداد میں کامیابی نے قائداعظمؒ اور اقبال ؒ کی دُور اندیشی اور فکر کو درست ثابت کر دیا کہ ہندوستان سے انگریزوں کے چلے جانے کے بعد مسلمان ہندوؤں کے غلام بن جائیں گے۔ انہوں نے دو قومی نظریے کی جو تشریح کی تھی، وہ وقت کے ساتھ آج پھر درست ثابت ہوچکی ہے۔ قائداعظمؒ نے بمبئی میں 1924ء کو ایک خصوصی انٹرویو “Daily Herald of London” کو دیا تھا، جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ ’’نہیں! مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان خلیج اس قدر وسیع ہے کہ اسے کبھی بھی پاٹا نہیں جاسکتا۔ آپ ان لوگوں کو ایک ساتھ اکٹھا کرسکتے ہیں جو ایک چھت کے نیچے کھانا کھانے کے لیے تیار نہیں؟ کیا آپ کرسکتے ہیں؟ یا مجھے کہنے دیں کہ ہندو گائے کی عبادت کرنا چاہتے ہیں جب کہ مسلمان اس کو کھانا چاہتے ہیں۔ پھر مصالحت کہاں ہوسکتی ہے؟‘‘
لوک سبھا میں مسلمانوں کی نمائندگی ان کی آبادی کے تناسب سے کم ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 14 فیصد سے زائد ہے اور لوک سبھا میں ان کی نمائندگی آبادی کے تناسب کے حوالے سے 5 فیصد سے بھی کم ہے۔ بی جے پی نے جن امیدواروں کو ٹکٹ دیا، وہ بھی ناکام ہوئے اور کانگریس نے بھی اُن مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیے جو کامیاب نہیں ہوسکتے تھے۔ آج پاکستان کا ایک ایک فرد دو قومی نظریے کے فلسفے کو دل سے تسلیم کرچکا ہے کہ ہندو اور مسلم دو الگ الگ قومیں ہیں۔ پاکستان بنانے کا مقصد تقسیمِ ہندوستان نہیں بلکہ مسلمانوں کو اُن کے بنیادی حقوق کی بلاروک ٹوک فراہمی کے لیے آزاد ریاست تھا۔ بھارت نے قیام پاکستان سے لے کر آج تک اکھنڈ بھارت کے سازشی منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے مذموم منصوبے بنائے، تاہم آج کا پاکستان اس قدر مستحکم ہوچکا ہے کہ تمام بیرونی یا اندرونی سازشوں کو شکست دینے کی اہلیت رکھتا ہے اور ملک دشمن عناصر جانتے ہیں کہ پاکستان اپنے دشمنوں کی چالوں کو بخوبی سمجھتا ہے اور اس کا سدباب بھی کرنا جانتا ہے۔
نریندر مودی کا وزیراعظم پاکستان کو تقریب حلف برداری میں دعوت نہ دینا حسبِ توقع تھا۔ بھارتی عمل دراصل احساسِ کمتری کی نشانی ہے کہ جس ملک وقوم کے خلاف جلسے جلوس اور میڈیا میں سفارتی اقدار کا پاس بھی نہیں کہ دونوں ممالک کے عوام کی بہتری کے لیے سیاسی تدبر کا مظاہرہ کرے۔ یقینا پاکستان کا سر اخلاقی و سفارتی سطح پر بلند ہوچکا ہے کہ پاکستان مسلسل امن و مذاکرات کی بات کرتا ہے، لیکن خطے میں بے امنی کے فروغ کا اصل ذمے دار مودی ہے۔ مودی بھارت میں بھاری اکثریت میں کامیاب تو ہوگئے، لیکن ہندو انتہا پسند جماعت کی کامیابی نے اقلیتوں کو اپنے تحفظ کی خاطر سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ پنجاب، تامل ناڈو اور مقبوضہ کشمیر میں جس طرح ہندو انتہا پسند ریاست کے خلاف نتائج آئے ہیں۔ اس میں بھارت کا مستقبل بھی نظر آرہا ہے کہ بھارت میں آزادی کی تحریکوں میں مزید شدت آجائے گی۔ مودی کو آئین میں تبدیلی اور اقلیتوں کے خلاف ریاستی جبر کرنے میں دشواری تو نہیں ہوگی لیکن علیحدگی پسند تحریکوں کو اپنی بقا و سلامتی کے لیے ہندو انتہا پسندی کی لہر سے خود کو بچانا ناگزیر ہوگا۔
بھارت میں اس وقت جس صورت حال کا سامنا ہے، اولین ضرورت ہے کہ بھارت کی اقلیتیں، بالخصوص مسلمان قائداعظم ؒ کے پیغام پر عمل درآمد کریں۔ بھارت میں مسلمانوں کو درپیش مسائل سے باہر نکالنا بھی مسلم اکثریتی ممالک کے فرائض میں شامل ہے۔ مسائل کو کس طرح حل کیا جائے اور کس طرح مشکلات کا سدباب کیا جائے، یہ بھی قائداعظمؒ بتاتے ہیں۔ جناحؒ صاحب سے اپریل 1934ء میں صوبہ سرحد کی مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن نے ایک پیغام کے لیے درخواست کی۔ آپؒ نے جواب میں فرمایا: ’’تم نے مجھ سے کہا ہے کہ میں تمہیں کوئی پیغام دوں، میں تمہیں کیا پیغام دوں جب کہ ہمارے پاس پہلے ہی ایک عظیم پیغام موجود ہے جو ہماری رہنمائی اور بصیرت افروزی کے لیے کافی ہے، وہ پیغام ہے خدا کی کتاب عظیم، قرآن کریم۔‘‘ (تقاریر، جلد اول صفحہ516)۔
نومبر1939ء میں قوم کے نام عید کا پیغام نشر فرمایا۔ (اس زمانے میں ہنگامے اور فساد ہورہے تھے) آپ نے قوم سے کہا: ’’جب ہمارے پاس قرآنِ کریم ایسی مشعلِ ہدایت موجود ہے، تو پھر اس کی روشنی میں ان اختلافات کو کیوں نہیں مٹاسکتے؟‘‘ (تقاریر جناح، شائع کردہ شیخ محمد اشرف، جلداول صفحہ108)
وقت آگیا ہے کہ بھارت میں رہنے والے مسلمان اپنے حقوق و اسلامی شعائر کی حفاظت کے لیے بھارت کے نام نہاد سیکولرازم کے جھوٹے و گورکھ دھندے سے باہر نکلیں۔ کروڑوں مسلمانوں کو اپنی اور اپنی آئندہ نسلوں کو ہندو انتہا پسندوں کے مظالم اور ناانصافیوں سے بچانے کے لیے میدانِ عمل میں آنا ہوگا اور انتہا پسندوں کے ہاتھوں مزیدکھلونا بننے کے سلسلے کوختم کرنا ہوگا۔

……………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے