108 total views, 1 views today

گذشتہ کچھ مہینوں سے سیاست کے موضوع پر بہت کم بولنے کی عادت ڈال رکھی ہے۔ انسان چاہ کر بھی اس موضوع کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ کیوں کہ وطنِ عزیز کی موجودہ معیشت کی حالت اور سیاست دانوں کی آپس میں زبانی تکرار بندے کو بات کرنے پر مجبور کر ہی دیتی ہے۔
پاکستان کا یہ المیہ ہے کہ یہاں پر آپ کو ہر قسم کے لوگ سیاست پر بات کرتے دیکھنے کو ملیں گے۔ کاروباری حضرات ہوں، یا کسی سرکاری دفتر کے ملازمین، چائے بیچنے والا ہو، یا کسی سڑک کے چوک پر پان بیجنے والا، ریڑھی بان ہو یا کوئی سبزی فروش، دوستوں کی محفل ہو یا کسی ہوٹل میں منعقد کی گئی تقریب، مختصر یہ کہ آپ گھر پر ہوں یا گھر سے باہر، ہر جگہ آپ کسی بھی طبقے کے لوگوں سے ملک کے حالات کے بارے میں “آگاہی” حاصل کرسکتے ہیں۔
خیر، ان سے تو بندہ کسی نہ کسی طریقے سے چھٹکارا حاصل کرلیتا ہے، لیکن انسان اُس وقت بولنے پر مجبور ہوجاتا ہے، جب اُسے کسی قریبی دوست کی طرف سے برقی پیغام موصول ہو اور اس میں کسی سیاست دان کی کہی ہوئی بات کو یادداشت کے طور پر دہرایا گیا ہو، یا کوئی سیاست دان ملک کے کسی مسئلہ پر بات کر رہا ہو، ذکر شدہ دونوں حالتوں میں میری اپنی کوشش یہ ہوتی ہے کہ میں چپ ہی رہوں اور کسی کے بارے میں اپنی رائے قائم کیے بغیر بات کو ختم کردوں یا کم سے کم بولوں۔ گذشتہ روز مجھے ایسی ہی صورتحال سے دو چار ہونا پڑا جب ایک دوست کی طرف سے پیغام ملا، جس میں ایک وڈیو کلپ بھیجا گیا تھا۔ کلپ میں ایک حکومتی نمائندہ ملک کے ابتر حالات پر بیان دے رہا تھا۔ ارد گرد کا ماحول معمول کی طرح ناخوشگوار تھا۔ ایک طرف حکومتی نمائندے تالیاں بجا رہے تھے، تو دوسری طرف مخالف ارکانِ اسمبلی اُس بیان کی مسلسل تردید کرتے نظر آ رہے تھے۔ مختصر یہ کہ زیادہ شور کی وجہ سے حکومتی نمائندے کی بات اچھی طرح سن پا رہے تھے اور نہ سمجھ ہی پا رہے تھے۔ ایسے میں مجھے ایک اور پیغام موصول ہوا۔ اب دوست مجھے مخاطب کرکے فرما رہے تھے کہ “بھئی، اس بندے کی تقریر سے پتا چلتا ہے کہ یہ واقعی کام کا بندہ ہے۔” اب کسی کی تقریر سے اُس کی اچھائی یا بُرائی کا اندازہ لگانا کم ازکم میرے بس کی بات تو نہیں۔ جب تک اس آدمی کے ساتھ معاملات پیش نہ آئیں۔ مگر میرے دوست حضرت ہیں کہ کسی کے دو بول سن کر اس کی اچھائی یا برائی کا پتا لگا لیتے ہیں۔
قارئین، آپ کسی چائے کے ہوٹل پر جائیں، تو آپ ہوٹل والے کو یہ بتاتے ہوئے نہیں سنیں گے کہ اچھی چائے کیسے بنتی ہے؟ مگر آپ اس سے ملک کی معیشت بہتر کرنے کے ایک سو ایک بہترین طریقے ضرور سیکھ جائیں گے۔ بندہ حیران رہ جاتا ہے کہ بھئی، اب تک عمران سرکار کی نظر اس “بقراط” پر کیوں نہیں پڑی؟ اب تو بات اِس حد تک پہنچ چکی ہے کہ لوگ ٹماٹر اور پیاز کے نرخ سے ملک کی معیشت کا اندازہ لگایا کرتے ہیں۔ اب مجھے کوئی سمجھائے کہ یہ معاشیات کی کون سی قسم ہے اور یہ کس طرح کا انصاف ہے؟
جس معاشرے میں حکومتی نمائندے بارشوں کے برسنے کو اچھی حکمرانی سے تعبیر کرتے ہوں اور ساتھ میں بڑے دھڑلے اُس کا کریڈٹ بھی لیتے ہوں، اُس معاشرے میں سیاست کے موضوع پر بات کرنا وقت کے ضیاع کے سوا اور کچھ نہیں۔

……………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے