554 total views, 1 views today

1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد جب انگریزوں کو روس سے اندیشہ محسوس ہوا، تو وائسراے ہند اور والیِ افغانستان امیر عبدالرحمان کے درمیان ستمبر 1893ء میں ایک معاہدہ طے پایا گیا، جس کے نتیجے میں سرحد کا تعین کر دیا گیا۔ جو ڈیورنڈ لائن (Durand Line) یا ’’خطِ ڈیورنڈ‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ اس معاہدہ کی بنیاد پر اس کے مطابق واخان کافرستان کا کچھ حصہ نورستان، اسمار، موہمند لال پورہ اور وزیرستان کا کچھ علاقہ افغانستان کا حصہ قرار پایا اور افغانستان استانیہ، چمن، نوچغائی، بقیہ وزیرستان، بلند خیل، کرم، باجوڑ، سوات، بونیر، دیر، چلاس اور چترال پر اپنے دعوے سے 100 سال تک دستبردار ہو گیا۔ جب 1947ء میں پاکستان معرضِ وجود میں آیا، تو اِس معاہدے کو بالکل نظرانداز کیا گیا اور وہ علاقہ جو 1993ء تک یعنی سو سال پورے ہونے تک واپس افغانستان کے حصے میں شامل ہونا تھا، اُسے پاکستان کے ساتھ جوڑا گیا۔اس تلخ حقیقت کے باوجود سرحد کے اِس پار موجود لوگ جو موجودہ پاکستان کا حصہ ہیں یعنی وزیرستان، مومند ایجنسی، اورکزئ ایجنسی، باجوڑ، چمن اور دیگر قبائلی علاقوں کے باشندے ہیں، اسی آئینِ پاکستان کے ماتحت اپنی زندگی گزار رہے ہیں اور اسی آئین کو اپنے لیے مشعلِ راہ سمجھتے ہیں، جو حبُ الوطنی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
قارئین، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ محض جغرافیہ بدلنے سے قومیں نہیں بدلتیں جب کہ ملک بدلتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے حکومتی رویے افغان قوم کے ساتھ کیوں ٹھیک نہیں ہیں؟ تاریخِ پاکستان پر ایک نظر دوڑائیں، تو پتا چلے گا کہ ریاستِ پاکستان نے روزِاول سے قوم پرست قوتوں کو دبانے کی کوشش کی ہے۔ شائد ریاست چلانے والوں کے دل میں یہ بات ہو، کہ قوم پرست دبانے سے دب جائیں گے، حالاں کہ ایک بار نہیں کئی بار یہ تجربہ کیا جاچکا ہے۔ ایک بار تو ملک کے دولخت ہونے کا تجربہ بھی ہوچکا ہے، مگر ہم سیکھنے والی قوم تھوڑی ہیں کہ تلخ تجربات سے کچھ سیکھ جائیں۔
بس اب دیکھنا یہی ہے کہ اس بار ریاست کی دیدہ و نادیدہ قوتیں کس حد تک قوم پرستوں کو دبانے میں کامیاب ہوتی ہیں، اور ہمیں کس قسم کا ایک نیا تلخ تجربہ ہوتا ہے؟ شائد دیکھنا ہی ہے، کیوں کہ سیکھنا تو ہم نے ہے ہی نہیں!

………………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے