281 total views, 2 views today

مودی سرکار کی دوبارہ کامیابی کے بعد خطے میں بھارت کے سیکولر دعویٰ کی موت ہوچکی ہے اور بھارت کو اب ہندو انتہا پسند مملکت کی شناخت کے ساتھ دیکھا جانے لگا ہے۔ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کو مودی کی دوبارہ کامیابی کے بعد شدید تحفظات کا سامنا ہے۔ مودی سرکار خطے میں جنگی جنون کی آڑ میں عالمی اسلحہ ساز قوتوں سے بڑے پیمانے پر جنگی ساز و سامان خریدے گا، جس سے خطے میں اسلحہ کی دوڑ میں اضافے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب مودی سرکار اب خود اپنی ہندو شدت پسند پالیسیوں کو واپس نہیں کرسکتے۔ کیوں کہ انہوں نے بھارتی عوام کو شدت پسندی میں مبتلا کرکے ہی دوبارہ کامیابی حاصل کی ہے۔ اگر عوامی مسائل کے ماحول پر بھارتی عوام الیکشن میں ووٹ ڈالتے، تو یقینی طور پر مودی سرکار کی جانب سے کیے جانے والے وعدے پورے نہ ہونے پر مودی سرکار کا صفایا ہوسکتا تھا، لیکن ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایک مخصوص ماحول پیدا کرنے کے بعد مودی سرکار اب بھارت کو خطے میں پیدا ہونے والے چیلنجوں کا مقابلہ کس طرح کرے گی؟ یہ وہ سوال ہے جو بڑی شد ومد کے ساتھ اٹھایا جارہا ہے۔
اس وقت بھارت میں بی جے پی کی کامیابی پر خوشی کا اظہار تو کیا جارہا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بھارتی عوام کو واضح ہوتا چلے جائے گا کہ دراصل انہوں نے نام نہاد سیکولر اسٹیٹ کو انتہا پسند حکومت میں تبدیل کر دیا ہے۔ مودی سرکار کے سامنے اس وقت کئی چیلنجز ہیں۔ کیوں کہ اقتصای طور بھارت کی صورتحال مشکلات کا شکار ہے۔ امریکہ، افغانستان میں بھارت کے فوجیوں کو نہ بھیجنے کی وجہ سے مودی سرکار پر طعنہ زنی کرچکا ہے۔ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان سخت کشیدگی عروج پر ہے۔ بھارت، ایران کا اتحادی ہے اور اپنی پٹرولیم مصنوعات کا سب سے بڑا خریدار بھی ہے۔ امریکہ کی جانب سے پہلے بھارت کو بھی ایران سے خام تیل کی خریداری پر استثنا دیا گیا تھا، لیکن امریکا اس استثنا کو ختم کرچکا ہے ، جس کے بعد ایران کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیل پیدا کرنے والے دیگر ممالک سے رابطہ کرنا ہوگا، جس کی وجہ سے بھارت کو خام تیل مہنگا پڑے گا اور اس کا براہِ راست اثر بھارتی معیشت پر پڑے گا۔ نتیجے میں بھارتی عوام کو مزید مالیاتی مشکلات کا سامنا ہوگا۔
اس طرح افغانستان میں بھارتی مداخلت کی وجہ سے امریکہ کو افغان امن حل میں مشکلات درپیش ہیں۔ کیوں کہ کابل انتظامیہ وہ سب کچھ کرتی ہے جو مودی سرکار کہتی ہے۔ اس پالیسی کی وجہ سے خطے میں امن کے قیام میں دشواریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ خاص طور پر افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے چھے دور مکمل ہونے کے بعد امریکی صدر کے معاون خصوصی زلمے خلیل زاد کے بھارتی دورے قابلِ توجہ ہیں۔ امریکہ کی جانب سے’’سب سے پہلے امریکہ‘‘کے وِژن کی وجہ سے غیر ملکی شہریوں کو روزگار کے مواقع کم کردیے گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ اس حوالے سے بھارت کو بھی تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو جانے والی امریکی برآمدات پر عائد ٹیکسوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت، امریکہ کو اپنی منڈیوں تک مناسب اور برابری کی رسائی نہیں دے رہا، تاہم جہاں ایران پر امریکی پابندیوں سے بھارت کو اقتصادی نقصان ہوگا لیکن امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی تنازعہ سے بھارت کے درآمد کنندگان کو فائدہ بھی پہنچ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی کانفرنس آن ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ چین تجارتی تنازعہ سے جن چند ملکوں کو فائدہ پہنچے گا، ان میں بھارت بھی شامل ہے۔فیڈریشن آف ایکسپورٹ آرگنائزیشنز کے سربراہ ’’اجے سہائے‘‘ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی تنازعہ سے بھارت کے درآمد کنندگان کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اجے سہائے کہتے ہیں کہ بھارت کی مجموعی درآمد میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے، جب کہ امریکہ کو درآمدت میں 13 فیصد اور چین سے درآمد میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اجے کے مطابق گذشتہ ہفتے امریکہ اور چین کے درمیان کوئی معاہدہ طے نہ پانے کے بعد، بھارت کو عالمی منڈیوں تک رسائی میں فائدہ حاصل ہو گا۔
بھارتی لوک سبھا انتخابات میں مودی سرکار کی ناکامی کا سب سے اہم ایشو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی انتخابات کا مکمل بائیکاٹ رہا اور مقبوضہ کشمیر کے عوام نے بھارتی انتخابات کو رد کرکے عالمی برداری میں واضح پیغام دیا کہ کشمیری عوام، بھارت کے جبر و تسلط کو قبول نہیں کرتے بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنا حقِ خود ارادیت چاہتے ہیں۔ مودی سرکار کو اپنے اگلے دور میں مقبوضہ کشمیر میں مزید دشواریوں کا سامنا رہے گا اور حریت پسندوں کی جانب سے آزادی کی تحریک کو ختم کرنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوں گی، بلکہ حریت پسند مقبوضہ کشمیر کی بھارت سے آزادی کے لیے اپنی تحریکوں میں مزید پُرجوش ہوجائیں گے اور مودی سرکار کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ مودی سرکار کو پاکستان سے مذاکرات کے لیے یقینی طور پر بیٹھنا ہوگا۔
اس تمام تر صورتحال میں پاکستان تمام تصفیہ طلب معاملات پر بھارت کی نئی حکومت سے بھی مذاکرات کا خواہاں ہے۔ بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ کے ساتھ غیر رسمی ملاقات میں پاکستان نے ایک بار اپنے اس عزم کو دُہرایا کہ اگر بھارت ایک قدم آگے بڑھاتا ہے، تو پاکستان دو قد م بڑھائے گا۔ اگر بھارت، پاکستان کے ساتھ اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں کرتا، تو اس کے نتائج پورے خطے میں خطرناک ہوں گے۔ پاکستانی وزیر اعظم نے تو بھارتی الیکشن کے دوران میں ہی نریندر مودی کی جیت کو پاکستان کے لیے مفید قرار دیا تھا کہ اگر مودی سرکار کامیاب ہوتی ہے، تو یہ پاکستان کے لیے بہتر ہوگا۔ تاہم پاکستان کی جانب سے خیر سگالی کے جذبات کا جواب مودی سرکار کس طرح دیں گے؟ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔
عمومی طور پر سمجھا جارہا ہے کہ مودی سرکار کا رویہ پاکستان کے خلاف مصلحانہ ہونے کی بجائے مزید جارحانہ ہونے اور تحفظات سامنے آنے کا امکان موجود ہے۔

…………………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے