561 total views, 1 views today

ڈاکٹر رتھ فاؤ جرمن پاکستانی فزیشن تھی۔ ان کا پورا نام ’’رتھ کتھرینہ مارتھا فاؤ‘‘(Ruth katherina Martha Phau) تھا۔پچاس سال تک پاکستانی عوام کی خدمت کرتی ہوئی جذام کے خلاف لڑتی رہی۔ نو ستمبر 1929ء کو لیپزگ (جرمنی) میں ایک مسیح خاندان میں پیدا ہوئی۔ ان کی چار بہنیں اور ۱یک بھائی تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں ان کا گھر تباہ ہو گیا، تو اس نے مشرقی جرمنی آکر مستقبل کیلئے میڈیکل فیلڈ کا انتخاب کیا۔ 1950ء کو ’’یونیورسٹی آف مائینز‘‘ سے میڈیکل کی ڈگری لی۔ کلینیکل امتحان کے بعد ماربرگ گئی، جہاں پر انہیں علاقائی پادری سے وابستگی رہی اور مذہبی لحاظ سے بہت کچھ سیکھا۔ اس کے بعد انھیں جنوبی ہندوستان بھیجا گیا، تاہم 1960ء میں وہ کراچی میں مقیم رہی اور پاکستان میں مختلف مقامات میں مریضوں کے علاج کیلئے جاتی رہی۔

دوسری جنگ عظیم میں ان کا گھر تباہ ہو گیا، تو اس نے مشرقی جرمنی آکر مستقبل کیلئے میڈیکل فیلڈ کا انتخاب کیا۔

دوسری جنگ عظیم میں ان کا گھر تباہ ہو گیا، تو اس نے مشرقی جرمنی آکر مستقبل کیلئے میڈیکل فیلڈ کا انتخاب کیا۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ کا قول ہے کہ’’ہم میں سے ہر شخص جنگ روک تو نہیں سکتا، تاہم ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو متاثرہ لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں۔‘‘ 1960ء میں تقریباً اکتیس سال کی عمر میں اپنی زندگی پاکستان کیلئے وقف کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی نہ صرف موت پاکستان میں ہوئی بلکہ تدفین بھی۔
ڈاکٹر رتھ فاؤ اپنی پوری زندگی جذام کے خلاف لڑتی رہی۔ اتفاقاً وہ کراچی میں سٹی ریلوے سٹیشن کے قریب McLeod روڈ کے پیچھے لیپرز کالونی گئی، جو آج آئی آئی چندریگر روڈ کہلاتی ہے۔ وہاں پر مریضوں کے علاج کرنے کا فیصلہ کیا۔ چھوٹی سی پرانی عمارت کو ہسپتال کی شکل دے دی، جس کے ارد گرد عمارتیں بھی کافی ناکارہ تھیں۔




ڈاکٹر رتھ فاؤ کا قول ہے کہ’’ہم میں سے ہر شخص جنگ روک تو نہیں سکتا، تاہم ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو متاثرہ لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر رتھ فاؤ کا قول ہے کہ’’ہم میں سے ہر شخص جنگ روک تو نہیں سکتا، تاہم ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو متاثرہ لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر رتھ فاؤ نے کراچی میں جذام کے مریضوں کیلئے فری سنٹر کھول دیا۔ پاکستان میں ان ادوار میں جہاں صحت کی بنیادی سہولیات نہیں تھیں، انہوں نے پاکستان اور جرمنی سے عطیات جمع کر کے راولپنڈی اور کراچی کے ہسپتالوں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ دس اگست 2017ء کو آغا خان ہسپتال کراچی میں پاکستانی وقت کے مطابق صبح کے چار بجے ڈاکٹر رتھ فاؤ انتقال کر گئی۔ وہ چار اگست کو ہسپتال میں داخل ہوئی تھی۔ وہ کڈنی اور دل کے امراض میں مبتلا تھیں۔
پاکستان میں ڈاکٹر صاحبہ نیشنل لیپروسی کنٹرول پروگرام کیلئے کام کرتی رہی۔ ان کو 1998ء میں پاکستان کی شہریت دی گئی۔ ان کی بے پناہ کوششوں کی وجہ سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے پاکستان کا نام ان ممالک میں شامل کر لیا جنھوں نے جذام پر قابو پا لیا تھا۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان جذام پر قابو پانے والوں میں سے سب سے آگے رہا۔ ان خدمات کے صلہ میں آرمی چیف نے ڈاکٹر صاحبہ کو کو انسانیت کا سفیر قرار دیا۔

ان کی بے پناہ کوششوں کی وجہ سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے پاکستان کا نام ان ممالک میں شامل کر لیا جنھوں نے جذام پر قابو پا لیا تھا۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان جذام پر قابو پانے والوں میں سے سب سے آگے رہا۔ ان خدمات کے صلہ میں آرمی چیف نے ڈاکٹر صاحبہ کو کو انسانیت کا سفیر قرار دیا۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ کی بے پناہ کوششوں کی وجہ سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے پاکستان کا نام ان ممالک میں شامل کر لیا جنھوں نے جذام پر قابو پا لیا تھا۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان جذام پر قابو پانے والوں میں سے سب سے آگے رہا۔ ان خدمات کے صلہ میں آرمی چیف نے ڈاکٹر صاحبہ کو کو انسانیت کا سفیر قرار دیا۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ کو ان کی خدمات کا صلہ دینے کی غرض سے انھیں کئی طرح کے اعزازات اور ایوارڈز سے نوازا گیا۔ 1989ء کو انہیں ہلال پاکستان سے نوازا گیا، جبکہ 2006ء میں سٹی ایف ایم نے ویمن آف دی ائیر کا اعزاز انہیں دیا۔ چودہ اگست 2010ء کو انسانیت کی خدمت کے عوض انہیں نشان قائداعظم سے نوازا گیا۔ اس طرح 2010ء کے سیلاب کے بعد متاثرین کی خدمت کرنے پر انھیں پاکستانی ’’مدر ٹریسا‘‘ کے خطاب سے پکارا جانے لگا۔ 2015ء میں جرمنی کی ریاست بیڈن ورٹومبرگ کا سب سے بڑا ایوارڈ “Staufer Medal” بھی انہیں دیا گیا۔ اس طرح 1979ء کو ہلالِ امتیاز جبکہ 1969ء کو ستارۂ قائداعظم اور 2003ء کو انہیں جناح ایوارڈ کا اعزاز دیا گیا۔ آغا خان یونیورسٹی کراچی نے ڈاکٹر صاحبہ کو ’’ڈاکٹر آف سائنس‘‘ کی اعزازی ڈگری انہیں دی۔
یوں تو آپ کی خدمات کی فہرست کافی لمبی ہے مگر پھر بھی ڈاکٹر رتھ فاؤ “Marie adelaide leprosy center” بنانے والوں میں سے بھی ہے۔

2010ء کے سیلاب کے بعد متاثرین کی خدمت کرنے پر انھیں پاکستانی ’’مدر ٹریسا‘‘ کے خطاب سے پکارا جانے لگا۔ 2015ء میں جرمنی کی ریاست بیڈن ورٹومبرگ کا سب سے بڑا ایوارڈ "Staufer Medal" بھی انہیں دیا گیا۔

2010ء کے سیلاب کے بعد متاثرین کی خدمت کرنے پر انھیں پاکستانی ’’مدر ٹریسا‘‘ کے خطاب سے پکارا جانے لگا۔ 2015ء میں جرمنی کی ریاست بیڈن ورٹومبرگ کا سب سے بڑا ایوارڈ “Staufer Medal” بھی انہیں دیا گیا۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ کی آخری رسومات قومی اعزاز کے ساتھ کراچی میں واقع سینٹ پیٹرک چرچ میں ادا کی گئیں۔ آخری رسومات ادا ہونے کے دوران میں صدر مملکت ممنون حسین، سندھ کے گورنر اور وزیراعلیٰ کے علاوہ آرمی چیف، ائیر چیف مارشل اور ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف بھی موجود تھے۔ پچھلے اُنتیس سالوں میں یہ اعزاز دوسری بار کسی کو دیا گیا۔ اس سے پہلے یہ محسن انسانیت جناب عبد الستار ایدھی صاحب کو دیا گیا تھا۔ پاکستانی پرچم اُنیس اگست 2017ء کو سرنگوں رہا۔
قارئین، ڈاکٹر رتھ فاؤ کی پاکستان کیلئے کوششوں اور خدمات کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ ان کی خدمات کو پاکستانی عوام سلام پیش کرتے ہیں اور ان کی بے لوث محبت کیلئے پوری قوم بے حد ممنون ہے۔




تبصرہ کیجئے