523 total views, 1 views today

گذشتہ جمعے کو اسلام آباد میں ’’انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز‘‘ نے ’’پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ‘‘ سے مل کر پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے چار سال مکمل ہونے کے موقع پر کامیابیاں، چیلنجز اور مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد کیا۔
کانفرنس کی خوبصورتی یہ تھی کہ اس میں ایک طرف پاکستان کے لیے چین کے سفیر ’’یا جنگ‘‘ نے شرکت کی، تو دوسری طرف انڈسٹریز کے نمائندگان اور تعلیمی حلقوں سے وابستہ لوگ بھی شریک ہوئے۔ جناب سردار علی یوسف زئی ایڈووکیٹ کے طفیل ہم بھی اس میں شریک ہوئے۔ یہ ایک بہت ہی مفید اور معلومات افزا سیمینار ثابت ہوا۔ چینی سفیر نے کھل کر اقتصادی راہداری کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا اور اسے دوسرے ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ کے منصوبوں سے قطعاً مختلف قرار دیا۔ ترقیاتی منصوبوں میں جو منصوبے تکمیل کو پہنچے ہیں، ان کے حوالے سے اعداد و شمار پیش کیے۔ ان کے بقول سی پیک کے تحت 22 منصوبے شروع کیے گئے، جن میں سے 11 مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں کے لیے چین نے 19 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جب کہ اس میں پاکستان کا حصہ 7 ارب ڈالر ہے۔ ان 19 ارب ڈالر میں سے 13 ارب ڈالر چینی بینکوں نے کمرشل منصوبوں کے لیے دیا۔ تین پاؤر پلانٹس بنائے گئے جس میں فی پاؤر پلانٹ پر دو ارب ڈالر کا خرچ آیا۔ اس طرح کل چھے ارب ڈالر کے توانائی کے منصوبے لگائے گئے۔ علاوہ ازیں گوادر میں 500 بچوں کے لیے سکول بھی تعمیر کیا گیا جب کہ گوادر کو بجلی میں خود کفیل کرنے کے لیے 300 میگا واٹ کے پلانٹ کی منظوری بھی دی جاچکی ہے۔
انہوں شکایت آمیز انداز میں گلہ کیا کہ پاؤر پلانٹ کے زمین کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے بلوچستان کے شروع سے اب تک تین وزرائے اعلیٰ سے ملاقات کر چکا ہوں۔ جون تک یہ منصوبہ شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی زمین کی اجازت لی ہے، اس کے بعد ’’این اُو سی‘‘ کے لیے الگ اجازت درکار ہو گی اور ٹرانس مشن لائن کے لیے الگ اجازت لینا پڑے گی۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ یہ سارا ون ونڈو آپریشن ہو اور منصوبوں میں تاخیر کی بجائے اسے تن دہی سے سرانجام دینے کے لیے حکومتی افسر شاہی (Beureucratic) انداز میں بہتری لائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ 15 سے زائد چینی کمپنیاں سی پیک پر کام کررہی ہیں۔ ہم نئی حکومت کے ساتھ مزید دو بڑے منصوبوں پر کام کرہے ہیں جن میں سوشل اور صنعتی منصوبے شامل ہیں۔ دریں اثنا کپڑے کی 6صنعتیں لاہور میں قائم کی جا رہی ہیں جب کہ سوشل سیکٹر کی ترقی کے لیے ایک ملین ڈالر فراہم کیا جائے گا۔




چینی سفیر "یاجنگ” سمینار سے خطاب کر رہے ہیں۔ (فوٹو: خواجہ نوید)

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت نجی شعبے سے جڑی ہوئی ہے۔ چین اگلے تین سال میں 20 ہزار تعلیمی وظائف پاکستانی طلبہ کے لیے فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت مزید 21 منصوبے پاکستان میں شروع کیے جائیں گے، جن میں پاکستان ریلوے کا ایم ایل ون پشاور تا کراچی شامل ہے، جو کہ فائنل کر لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ گوادر ایئر پورٹ بھی شامل ہے۔ ان 21 منصوبوں میں پاکستانی حکومت کی ترجیحات کے مطابق کام کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ چین کی معیشت عالمی دنیا سے جڑی ہے۔ ہم خام مال درآمد کرتے ہیں اور اس کی ’’پروڈکٹ‘‘ دنیا کو برآمد کرتے ہیں۔ چین میں مزدوری مہنگی ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ہم پاکستان میں انڈسٹری لگانے کے بارے میں کام کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے ہمارے معاہدے حکومتوں کے درمیان ہوتے تھے، مگر اب ہم چاہتے ہیں کہ ’’بزنس ٹو بزنس اور اس کے بعد ’’پیپلز ٹو پیپلز‘‘ رابطے ہوں۔ بزنس ٹو بزنس کے لیے حکومت کو اپنا طریقۂ کار بدلنا پڑے گا اور کاروبار کرنے کے طریقۂ کار کو آسان بنانا پڑے گا۔
سوالات و جوابات کے سیشن میں اکیڈیمیا سے وابستہ لوگوں نے بجا طور پر پاکستان کے درمیانے درجے کی صنعتوں کو درپیش خطرات اور تشویش کے حوالے سے پوچھا جس کے جواب میں چینی سفیر نے ان خدشات کو درست قرار دیتے ہوئے اسے حکومتی پالیسی اور ترجیحات سے جوڑ کر حل کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
اس طرح ’’ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی‘‘ کو انہوں نے سب سے بڑے فائدے کے طور پیش کیا۔ انہوں نے 1980ء کی دہائی کی جاپانی ٹیکنالوجی کی چینی مارکیٹ میں پُرزور انٹری کی مثال سے یہ ثابت کیا کہ کس طرح چینی حکومت کی پالیسیوں کی بدولت وہی جاپانی ٹیکنالوجی دس سال کے قلیل عرصے میں ایک نکھرے اور ترقی یافتہ شکل میں عالمی مارکیٹ میں چینی ٹیکنالوجی کے طور پر متعارف ہوئی اور اب اس میدان میں پوری دنیا میں چینی ٹیکنالوجی کا راج ہے۔ اسی انداز میں پاکستان کی صنعتوں سے وابستہ افراد مقابلے کے میدان میں رہتے ہوئے چینی ٹیکنالوجی سے فائدہ لیتے ہوئے اور اس سے سیکھتے ہوئے نکھری ٹیکنالوجی کو فروغ دے سکتے ہیں۔

………………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے