112 total views, 1 views today

جو حالات بنتے چلے جا رہے ہیں، وہ انقلاب کی طرف ہمیں لے جا رہے ہیں۔ پرسوں ایک مشر کے ساتھ اسی بات پر گفتگو ہو رہی تھی۔ ہم نے یہی بات کی کہ پاکستان سمیت تمام معاشروں میں انقلاب کی راہ میں مڈل کلاس ہی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ مڈل کلاس دنیا جہاں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ رسم و رواج، معاشرتی، مذہبی، روحانی، پتا نہیں کتنے بوجھ کمزور پیٹھ پر لادے ہوتی ہے۔ اس وقت مڈل کلاس پاکستان میں اپنی بقا کی آخری جنگ لڑ رہی ہے۔ لوئر کلاس تو ویسے بھی فارغ ہوتی ہے، لیکن وہ انقلاب کے لیے تیار رہتی ہے۔ اس کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں رہتا۔ امیر کلاس بااثر ہوتی ہے۔ دنیا و ما فیہا کے غم سے بے خبر، اپنی الگ تھلگ دنیا میں مدہوش رہتی ہے۔ مڈل کلاس ہی ایسی کلاس ہے جو اشرافیہ و غریب طبقات کے درمیان لٹکتی رہتی ہے۔ مکڑی کے جالے کی طرح قائم اپنے کمزور سٹیٹس کے بچانے کے لیے پتا نہیں کتنے دکھ سہ لیتی ہے، لیکن اُف تک نہیں کرتی۔
آج سے چار پانچ دہائی قبل ایشیا میں غربت تھی۔ اناج اور خوراک کی ضروریات تک کافی آبادی کی پوری نہیں ہو رہی تھیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسا بھی ہوتا تھا کہ برادری میں غریب یا بھوکا ہونے کا اعلان کسی سے “ناک کاٹنا” سمجھا جاتا تھا۔ خواتین سرِشام چولہوں میں آگ جلاتیں، تاکہ اَڑوس پڑوس میں لوگ دیکھیں کہ فلاں کے گھر میں بھوک کا غلبہ تو نہیں۔ جولائی 2009ء میں ہم سہ روزہ (تبلیغ) کی خاطر ایوب خان کے آبائی علاقے سرائے صالح کے ایک گاؤں میں گئے تھے۔ اس گاؤں میں بحریہ سے ریٹائرڈ کیپٹن بھی تھا، جو ایک دھماکے کی وجہ سے نیم پاگل ہوچکا تھا۔ کبھی کبھار ہوش میں آتا۔ اس نے ہمارے ساتھ کچھ وقت گزارا۔ کہتا کہ جتنی منافقت اور غیبت مڈل کلاس کے لوگوں میں ہے، اتنی اَپر کلاس میں نہیں۔ وہ عیاش ہیں لیکن اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ لوئر کلاس کے پاس اتنا ٹائم نہیں ہوتا کہ وہ دوسروں کے کاموں میں دخل دیں۔ وہ اپنی ریڑھی، گدھا گاڑی، کدال، بیلچہ یا درانتی لیے منھ اندھیرے نکل جاتے ہیں اور شام کو تھکے ہارے گھر واپس آ کر اگلے دن کی تھکاوٹ دور کرنے کی غرض سے آرام کرکے اپنے آپ کو تیار کرتے ہیں۔
قارئین، پاکستان میں مڈل کلاس ہی معاشرتی و مذہبی یا سیاسی شکنجہ میں جکڑی ہوئی ہے۔ جیسے کہ شروع میں کہا کہ مکڑی کے جالے کی مانند ریاستیں ہم مڈل کلاس لوگوں کو نوزائدہ بچے کی طرح پالتی ہیں۔ ان کمزور ریاستوں کی وجہ سے ہماری حالت کے بدلنے میں مواقع ضائع ہوتے ہیں۔ مڈل کلاس کے لوگ کبھی رسک نہیں لے سکتے۔ وجہ یہی ہے کہ مبادا “سٹیٹس” خراب نہ ہوجائے اور نقصان نہ ہو جائے اور ہم برادری کے لوگوں کے مذاق کا مرکز نہ بن جائیں۔ اس “Inaction” کی وجہ سے مڈل کلاس کے حالات جوں کے توں رہ جاتے ہیں، جب کہ رسک لینے والے کافی آگے نکل جاتے ہیں۔
اس وقت پاکستان میں مڈل کلاس پر بُرا وقت آیا ہوا ہے۔ مڈل کلاس کی پہلی اور دوسری نسل کے پاس وسائل زیادہ تھے۔افراد کم تھے۔ گزارا اچھا چلا۔ ان دو جنریشنز کا دور مادی دور نہ تھا، اتنے ڈیمانڈز نہ تھے، زندگی میں سادگی تھی۔ جب کہ تیسری نسل میں وسائل اور زمینوں کی تقسیم در تقسیم ہوئی۔ وسائل پر بوجھ پڑا۔ زندگی کی سادگی والی روایت ختم ہوگئی۔ پُرتکلف زندگی کا رواج پڑا۔ جن نوجوانوں کو پڑھایا گیا، ان کے پاس اچھے روزگار کے مواقع نہیں۔ ملک غریب ہے، یا قومی وسائل پر ایلیٹ کلاس قابض ہے۔ لاکھوں نہیں کروڑوں نوجوان بے روزگار ہیں، جن میں اکثریت مڈل کلاس کے نوجوانوں کی ہے جو “ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے” کے مصداق ریڑھی لگا سکتے ہیں، نہ چھولے بیچ سکتے ہیں اور نہ ٹماٹر ہی سڑک کے کنارے بیچ سکتے ہیں۔ وہ نوکری اور باعزت روزگار چاہتے ہیں۔ نوکریاں اس ملک میں ہیں نہیں، جب کہ کاروبار کے لیے اچھے وسائل اور رقم چاہیے جو ان کے پاس موجود نہیں۔ ان حالات میں پاکستان میں مڈل کلاس نے بھی اب فیصلہ کرنا ہے۔ کروڑوں نوجوان جو تعلیم کے زیور سے لیس ہیں، انقلاب کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اس ملک پر دوبارہ زرداری، ڈیزل یا لوہاروں کی حکومت آئے گی، قسم باللہ کبھی نہیں آئے گی۔ عمران خان کو اگر اچھی حکومت نہیں کرنے دی گئی، اگر اس کو احتساب سے روکا گیا، اگر لاہور ہائی کورٹ جیسے مایوس کن فیصلے ہوتے گئے، تو یہ ملک خون میں لت پت جائے گا۔ میری آنکھ تو یہی دیکھ رہی ہے کہ آئندہ چند سالوں میں پاکستان میں مافیا کے غرور کا سورج ڈوبنے والا ہے۔ تخت و تاج گرنے والے ہیں۔ کرپٹ اشرافیہ، سیاست دان و مقتدر طبقہ سن لے۔ انقلابِ فرانس کی طرح یہاں بھی ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے گا، کہ یہی “نوشتۂ دیوار” ہے!

………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے