344 total views, 1 views today

پاکستان تحریک انصاف نے جب انتخابات میں کامیابی حاصل کی، تو ابتدائی اندازوں کے برعکس نشستوں کی تعداد ایسی بنی کہ جیسے لٹکتی ہوئی تلوار، جو کبھی بھی سر پہ گر سکتی ہے اور حکومت بنانے کا چانس ختم۔ آج تک جو ایک نقطہ چھے نشستوں والا بتایا جاتا ہے، یہ تمام تر محنت کے باوجود بننے والی حکومت کا اب بھی موجود ہے۔ جب مطلوبہ نشستیں حاصل نہ ہو سکیں، تو آزاد امیدوار جنہوں نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی، وہ نہایت اہمیت اختیار کر گئے۔ اُن آزاد امیدواروں پہ نئی حکومت کا انحصار بڑھ گیا، یعنی یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ نئی حکومت کی قسمت کا فیصلہ ان آزاد امیدواروں کے ہاتھ آ گیا۔ اب یقینی طور پر حکومت کو ان آزاد امیدواروں کو کچھ نہ کچھ آفر تو کرنا تھا، جس کی وجہ سے آزاد امیدوار اُن کا حصہ بنتے اور آسانی سے حکومت بن پاتی۔ کوئی شک نہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے نرم رویے نے نواز لیگ کی امیدیں خاک میں ملانے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن اس کے باوجود آزاد امیدوار دُلارے ٹھہرے۔
اب یہاں پہ دو راستے تھے، یا تو آزاد امیدواروں کو عہدوں کا لالچ دیا جاتا، یا ان کو چکا چوند کا ایسا شکار کروایا جاتا کہ جس کی وجہ سے وہ پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اس جماعت میں شامل ہو کر تبدیلی کارواں کا حصہ بن جاتے۔ یہاں سے ایک طیارہ خبروں میں آیا اور اس طیارے پہ لطائف بھی بننے لگے۔ کسی نے کہا یہ طیارہ نہیں ٹیکسی ہے کہ ایک لمحہ پہلے یہاں ہے تو دوسرے لمحے وہاں۔ آزاد امیدواروں پہ مزاحیہ کارٹون بننے لگے اور دیگر جماعتیں لطائف کی زد میں ایسے آئیں کہ کارٹونز میں وہ اپنے ممبران کو جہاز اور جہاز والے سے بچاتے نظر آئے۔ یہ جہاز حرکت میں بھی اتنا رہا کہ حکومت میں برکت پڑ گئی۔ اس قصہ کہانی کے روحِ رواں پاکستان تحریک انصاف کے سینئر راہنما جہانگیر خان ترین تھے۔ ہر روز اخبارات و الیکٹرانک میڈیا پہ وہ کسی نہ کسی نئے آزاد رُکنِ قومی یا صوبائی اسمبلی کو پاکستان تحریک انصاف کے پرچم کا بنا ’’لاچا‘‘ پہنا رہے ہوتے۔ یہ اس بات کا اعلان ہوتا کہ آج سے اس آزاد رکن نے تحریک انصاف کے تبدیلی کارواں کا حصہ بننے کا اعلان کر دیا ہے۔ اب جہانگیر خان ترین آزاد امیدواروں کو کیا امید دلاتے تھے، کس چکا چوند میں رکھتے تھے، یہ تو وہ جانیں یا آزاد اراکین جانیں۔ ہم بے چارے عوام کیا جانیں؟ خیر قصہ مختصر اگر آج تحریک انصاف اس ملک کی حکمران جماعت ہے، تو اس میں بہت بڑا کردار ’’جہانگیر خان ترین‘‘ کا ہے اور اس حقیقت سے انکار کرنے والے یقینی طور پر عقل کے اندھے ہونے کے ساتھ ساتھ بے وقوفی کے معیارات پہ بھی پورا اترتے ہیں۔
اب دوسرے پہلو کا جائزہ لیتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے بہت مضبوط امیدوار تھے اور کہنے والے کہتے ہیں کہ وہ شاید خود کو اس عہدے پہ بیٹھا بھی تصور کر چکے تھے۔ اسی حوالے سے صوبائی اسمبلی کی نشست پہ امیدوار بھی تھے، لیکن یہاں کھیل میں ایک نیا موڑ آیا اور شاہ محمود قریشی کو ایک شدید دھچکا لگا کہ وہ قومی اسمبلی کی نشست تو جیت گئے، لیکن صوبائی اسمبلی کی نشست ایک نوجوان آزاد امیدوار سے ہار گئے۔ وہ شاید شدید صدمے کی کیفیت میں اپنی قومی اسمبلی کی نشست کی جیت کی خوشی بھی نہ منا سکے۔ یقینی طور پر شاہ محمود قریشی جیسے قد آور سیاست دان کا ایسی صورت میں صوبائی اسمبلی کی نشست ہارنا کہ وہ قومی اسمبلی میں جیت گئے ہوں، لمحۂ فکریہ اور قابلِ غور نقطہ تھا۔ اس پہ یقینا شاہ محمود قریشی نے غور بھی کیا ہوگا، اور اپنی شکست کے تانے بانے ملانے کی کوشش کی ہوگی۔ ہو سکتا ہے شکست کے ذمہ داران کا علم بھی اُن کو ہو چکا ہو۔ بات یہاں تک رہتی تو ٹھیک تھا، لیکن یہاں بات رُکی نہیں اور جہانگیر ترین نے ان کے مدمقابل کامیاب ہونے والے پی پی 127 سے آزاد امیدوار سلمان نعیم بٹ کو پاکستان تحریک انصاف کے پرچم کا لاچا پہنا دیا۔ یہاں سے شاہ محمود قریشی کو شاید اپنی شکست کے ذمہ داران پہ زیادہ غصہ آنے لگا اور یقینی طور پر جہانگیر ترین سے انہوں نے واضح اختلاف بھی کیا نعیم سلمان بٹ کی پاکستان تحریک انصاف کی شمولیت پہ۔ پنجاب کی وزارت اعلیٰ پہ بزدار صاحب جیسی نرم خو شخصیت کی تعیناتی میں بھی شائد قریشی صاحب سے زیادہ مشورہ نہیں کیا گیا، لہٰذا معاملات ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے گئے۔
شاہ محمود قریشی اور جہانگیر خان ترین کے درمیان جو لڑائی پہلے ڈھکے چھپے لفظوں میں تھی اب کھلے عام ہونے لگی ہے۔ پہلے معاملات پہ گلہ شکوہ اشاروں کنایوں میں ہوتا تھا، اب میڈیا پہ ہونے لگا ہے۔ جہانگیر خان ترین کی پاکستان تحریک انصاف کے لیے خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، لیکن شاہ محمود قریشی اپنی بات کو جو لبادہ اوڑھا رہے ہیں کہ وہ کس طرح کابینہ معاملات یا حکومتی اُمور میں مداخلت کر سکتے ہیں، کہ جب نہ تو منتخب رکن ہیں بلکہ سزا یافتہ بھی ہیں، اپنی جگہ پہ نہ صرف اہم ہے بلکہ ان کی دلیل وزن بھی رکھتی ہے۔ شاہ محمود قریشی کی بات میں دلائل ہونے کی وجہ سے ہی شاید اس وقت وزیر اعظم کوئی واضح سمت نہیں لے پا رہے۔ وہ نہ تو شاہ محمود قریشی کو درشتگی دکھا سکتے ہیں کہ یقینی طور پر ان کا مؤقف ہر لحاظ سے درست ہے اور نہ وہ جہانگیر خان ترین کو ہی کھو سکتے ہیں کہ آج وزارت عظمیٰ کی کرسی تک پہنچنے میں ان کا کردار یقینی طور پر ایک احسان کی صورت ہے۔
یہاں معاملہ اگر حل کی طرف جانا ہے، تو جہانگیر خان ترین کو رضاکارانہ طور پہ وزیر اعظم پاکستان سے درخواست کرنی ہو گی کہ وہ حکومتی معاملات میں پسِ پردہ رہ کے کوئی کردار ادا بھی کریں گے، تو سامنے نہیں آئیں گے۔ کیوں کہ ان کے حکومتی معاملات میں سامنے سامنے مداخلت کی وجہ سے حکومت کا نواز شریف کے متعلق بیانیہ متاثر ہوتا ہے کہ سزا یافتہ میاں محمد نواز شریف بھی ہیں اور جہانگیر خان ترین بھی۔ معاملات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اس لمحے یقینی طور پر جہانگیر خان ترین کو اٹھانا پڑے گا، ورنہ یہ رسہ کشی حکومت کے گلے پڑ جائے گی۔

…………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے