530 total views, 1 views today

موجودہ حکومت کے برسرِ اقتدار آتے ہی معیشت کی گاڑی ایسی ڈانوا ڈول ہوئی ہے کہ سنبھلنے کا نام نہیں لے رہی۔ اس ہچکولے کھاتی معیشت کے لیے سب سے پہلے ہماری عبقری حکومت کی نظرِ انتخاب ٹھہری بھی تو ’’انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ‘‘ پر جو ’’آئی ایم ایف‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آئی ایم ایف بنیادی طور پر امریکہ اور چند یورپی طاقتوں کے بل پر چلنے والا ایک سودی ادارہ ہے جس کی باگ ڈور بھی انہی ممالک کے ہاتھوں میں ہے۔ اس کی مثال ایک ’’مڈل مین‘‘ یا ’’دلال‘‘ کی سی ہے جو ممبر ممالک سے سود پر قرض لے کر ’’قرض دار‘‘ کو زیادہ سود پر دے دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا بدنامِ زمانہ استحصالی ادارہ ہے جو سود پر قرض دینے کے بعد قرض دار کی اندرونی معیشت کا تھانیدار بن جاتا ہے اور اپنے قرض کی وصولی کو یقینی بنانے کے نام پر قرض دار کو ’’پرائیویٹایزیشن‘‘، بے روزگاری اور ترقیاتی اخراجات کی کمی پر مجبور کرتا ہے جس کا اصل مقصد بڑی طاقتوں، خاص طور پر امریکہ کی توسیع پسندانہ تسلط اور منافع خوری کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔
’’انڈین ریزرو بنک‘‘ کے سابقہ گورنر اور آیی ایم ایف کے سابقہ چیف ایکانومسٹ رگورام گووند راجن (جنہوں نے امریکی معاشی بحران 2007ء سے بہت پہلے اس کی پیشین گوئی کی تھی) نے بجا طور پر آئی ایم ایف کو بڑی طاقتوں کی رکھیل قرار دیا ہے جو اندھا دھند امریکی معاشی پالیسیوں کو قرض داروں پر لاگو کررہی ہے۔
آئی ایم ایف کے حوالے سے مشہور ہے کہ کوئی ملک بھی اس سانپ کے کاٹے سے ٹھیک نہیں ہوا ہے، لیکن جواب میں اس کا دفاع کرنے والے قرض دار ممالک کی معاشی پالیسیوں میں مین میخ نکال کر انہی کو ساری خرابی کا ذمہ دار ٹھہراتے تھے۔ پھر 2000ء میں ارجنٹینا (جو کہ آئی ایم ایف کا قرض دار تھا) کی معیشت کچھ بہتری کی طرف گامزن ہوئی۔ پوری دنیا میں چرچا ہوا کہ دیکھئے جی، کس طرح آئی ایم ایف کی تمام شرائط کو جوں کا توں لاگو کرکے ارجنٹیناکی معیشت نمو پا رہی ہے۔ لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے 2001ء میں ان کی معیشت ایسے ہچکولے کھانے لگی جیسے ڈوبتا ہوا سمندری جہاز، جو کہ اپنے ہی بوجھ تلے سنبھلنے سے محروم ہوجاتا ہے۔ جب اس معاملے پر غور و تحقیق ہوئی، تو پتا چلا کہ اس خرابی میں بنیادی کردار اہم قومی کارپوریشنز کی نجکاری اور تعلیم، صحت اور سیکورٹی کے بنیادی ڈھانچے کے استحکام کے منصوبوں میں بجٹ کٹوتی نے ادا کیا ہے، جوکہ آئی ایم ایف ہی کی لاگو کردہ پالیسی تھی۔ وہ دن اور آج کا دن، لاطینی امریکہ کے بیشتر ممالک اس دھوکے باز عفریت سے خود کو باوجود معاشی مشکلات کے دور ہی رکھتے ہیں۔
آئی ایم ایف کے سربراہان بھی ایسے بدمعاشوں کو بنایا جاتا ہے جوکہ فراڈ، دھوکا بازی اور نوسربازی کے حوالے سے مشہور ہوتے ہیں۔ پچھلے چار سربراہان تو مسلسل سکینڈلز کی زد میں رہے ہیں۔ اس تناظر میں قرض لینے کا مطلب خود کو گروی رکھ دینے کا دوسرا نام ہے۔ اب اگر مجبوری میں خود کو گروی رکھنا ہی ہے، تو ایسے ساہوکار کا انتخاب کیوں نہ ہو، جس کی شرائط میں کم از کم قومی خودمختاری اور وقار کا ضیاع ہو۔ پاکستان کو بھی قرضے دینے کے لیے چار شرائط رکھی گئی ہیں۔ پہلی شرط، بجلی کی قیمت بڑھانے، دوسری شرط اداروں کی نجکاری، تیسری، روپے کی قدر میں کمی اور چوتھی نئے ٹیکسوں کا اجرا ہے۔ پچھلے سال نومبر میں جب یہ شرائط سامنے آئی تھیں، تو حکومت اس کے ماننے سے یکسر انکاری تھی اور ہنوز آئی ایم ایف کی شرائط کو نہ ماننے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، لیکن حقیقتِ حال اس کے بالکل الٹ ہے۔ پچھلی حکومتیں آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل کرنے کے بعد ان کی شرائط کو لاگو کرنے کا عمل شروع کرتی تھی، اور اس میں بھی اکثر میں سے چھوٹ لے کر ’’ٹرخاؤ پالیسی‘‘ کے تحت کچھ نہ کچھ بچت ہوجاتی تھی۔ یہاں تو ڈیل سے انکار کے اعلانات کے علی الرغم آئی ایم ایف کی شرائط کو پہلے سے ہی لاگو کردیا گیا ہے اور ایک قدم آگے جاکر پٹرول اور گیس کو بھی بجلی کے ساتھ نتھی کردیاگیا ہے۔ یعنی جو استحصالی پالیسی آئی ایم ایف کی تجویز کردہ ہے اور جس سے وزیراعظم شاکی ہے اور پر تنقید کررہے ہیں، عملاً اسی پہ عمل پیرا ہو کر شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ثابت ہو رہے ہیں۔
اب جب کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے انہی کی شرائط پر معاملات طے پاگئی ہیں، تو معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے محض قرض ہی کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے دوسرے عوامل و امکانات کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ جن دعوؤں اور نعروں کی بنیاد پر سبز باغ دکھا کر عوام الناس کے جذبات سے کھلواڑ کیا گیا تھا، کچھ تو اس کا بھرم رکھا جائے۔ کشکول اور خودکشی کے ڈرامے کرنے والے، اور خرچوں اور معاملات کا حساب کتاب کرنے والے اب اپنی اداؤں پہ بھی تو ذرا غور کریں۔ وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیوں کو 22 کروڑ میں نیلام کرکے بڑا تیر مارنے کے دعوے کرنے والے، سعودی ولی عہد کے موقع پر کروڑوں کی گاڑیاں صرف کرایہ پہ لے کر دینے کا حساب بھی تو رکھیں۔ جنگلہ بس سروس کا طعنہ مار کر اسی طرح کا منصوبہ 8 ارب میں مکمل کرکے دینے والے، پشاور بی آر ٹی کا خرچہ 100 ارب سے زیادہ ہونے کی طرف بھی تو توجہ کریں۔ اگر صرف یہی نکما پن قابو کیا جائے، تو آئی ایم ایف کی طرف کشکول لے کر بھیک مانگنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ جب آپ وسیم اکرم کی طرح کے وزیراعلیٰ کے لیے تاحیات مراعات اور اسمبلی ارکان کی تنخواہوں میں 200 فی صد اضافے کریں گے، تو کشکول تو پھر ٹوٹنے سے رہا۔ ڈھٹائی اور بے شرمی کی بھی تو آخر کوئی حد ہوتی ہوگی!

……………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے