625 total views, 1 views today

پختون خواہ وطن کو قدرت نے بڑی فیاضی سے نوازا ہے، جس میں ملم جبہ کی سیرگا ہ ایک منفرد مقام ہے۔ والیِ سوات نے اپنے اسٹریلوی سفیر دوست کی تجویز پر اس مقام پر ’’ملم جبہ سکی ریزارٹ‘‘ قائم کیا، جو پورے پاکستان کی بہترین اور حسین سیر گاہوں میں سے ایک ہے۔ تقریباً 9 ہزار دو سو فٹ کی بلندی پر واقع اس سیرگاہ میں آسٹریلین گورنمنٹ کی مالی مدد سے ’’چیئر لفٹ‘‘ اور ’’سکینگ‘‘ کے لیے درکار ساز و سامان کا انتظام کیا گیا، جب کہ حکومتِ پاکستان نے یہاں 50 کمروں پر مشتمل ایک ہوٹل تعمیر کیا۔ اگر چہ یہ منصوبہ 1988ء تک مکمل کیا گیا تھا، مگر مختلف تنازعات کی وجہ سے یہ سیرگاہ 1999ء تک بند رہی۔ اُس وقت سے لے کر دہشت گردی شروع ہونے تک سوات کے 20 ہزار سے زیادہ مقامی لوگ سیاحت کے شعبے میں کام کر رہے تھے، لیکن 2008ء میں یہ ’’ریزارٹ‘‘ حکومت اور عوام کے ہاتھوں سے نکل کر غیر ریاستی عناصر کے ہاتھوں آگیا، جنہوں نے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اب علاقے میں قیامِ امن کے بعد لوگ اس مقام پر پھر سے آنے لگے ہیں۔
عوام کو تفریحی مواقع فراہم کرنے اور علاقے میں سیاحت کو فروغ دینے کی غرض سے ضلعی حکومت سوات نے ’’سوات شرکتی کونسل‘‘ کے اشتراک سے ملم جبہ سکی ریزراٹ میں تین روزہ سوات سکینگ میلے کا انعقاد کیا جس میں ایک 8 سالہ بچی سے لے کر 35 سال عمر تک کے 20 کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ ضلعی حکومت کا یہ اقدام لائقِ تحسین ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ میلے کے کامیاب انعقاد پر میں ضلع ناظم محمد علی شاہ صاحب کے ساتھ ساتھ سوات شرکتی کونسل کی انتظامیہ اور پوری ٹیم کا شکر گزار ہوں۔ اس موقع پر سام سنگ گروپ آف کمپنیز نے بھرپور تعاون کرکے میلے کو کامیاب بنانے میں بہترین کردار ادا کیا۔ ہم ان کے بھی ممنون ہیں۔
نیلے آسمان تلے سردی کی نرم گرم دھوپ میں سُریلی موسیقی کی بازگشت کے ساتھ روئی جیسی ملائم برف پر جہاں سیاحوں نے سکینگ اور قدرتی مناظر کا مزہ لیا، وہاں مقامی افراد نے یخ بستہ ہواؤں کے مہکتے جھونکوں میں اپنے کمالات کا مظاہرہ بھی کیا، جس سے وہاں موجود سب لوگ محظوظ ہوئے۔ تاہم یہاں پر موجود مسائل اس سیرگاہ کے فروغ میں حائل ہوتے ہوئے بھی نظر آئے۔ مین کالام مینگورہ روڈ سے منگلور کے مقام پرمڑنے اوراس سیرگاہ تک جانے والی سڑک آثار قدیمہ کے کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہے۔ سڑک کی خستہ حالی کے سبب 35 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں 3 گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ سڑک پر کام کی رفتار انتہائی سست ہے اور پچھلے کئی سالوں سے یہ سڑک بس ’’زیرِ تعمیر‘‘ ہی ہے۔




مقابلوں میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کی مہمانانِ خصوصی کے ساتھ باجماعت تصویر۔

ایک ظلم یہ بھی ہے کہ علاقہ میں عمارات تعمیر کرنے کے لیے کوئی قانون موجود نہیں۔ لہٰذا پورے علاقے میں بغیر کسی منصوبہ بندی کے رہائشی اور کمرشل عمارات بن رہی ہیں، جو علاقے کی خوبصورتی کو زائل کر رہی ہے۔ اس طرح گندگی کو ٹھکانے لگانے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے، جس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
اس سیرگاہ سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے لازمی ہے کہ اس کو بہتر طریقے سے بحال رکھنے اور چلانے کے لیے پورے علاقے کی منصوبہ بندی ہو۔ تجارت، رہائش، زراعت اور جنگل کے لیے زمین کا تعین ہو۔ سننے میں آیا ہے کہ اگرچہ میلے میں حصہ لینے والے کھلاڑی مقامی ہیں جو بغیر کسی حکومتی امداد کے اس کھیل کو جاری رکھے ہوئے ہیں،مگر ان کو اس ریزارٹ میں کھیلنے کی اجازت نہیں۔ انہیں بہرصورت کھیلنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ ان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارا جا سکتا ہے۔ وزارتِ سیاحت مقامی حکومت کے ساتھ مل کر اس سیرگاہ میں سکینگ کے کھلاڑیوں کو تربیت کے ساتھ ساتھ دیگر سہولیات دے، تو یہ کھیل یہاں جاری رہ سکتا ہے۔
اس طرح مقامی افراد سیاحوں کو سکینگ سکھانے اور سکینگ کرنے میں ان کی مدد کرکے روزی روٹی کماتے تھے، لیکن سیرگاہ کو حکومت نے لیز پر دے کر اس سلسلے کو بند کردیا ہے۔
یہاں پر موجود جنگلات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ یہاں دیگر جنگلی حیات کے پالنے سے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ سیر گاہ کے اندر اور ارد گرد چھوٹے موٹے راستے مقامی ہنر اور وسائل کو استعمال کرتے ہوئے تعمیر کیے جائیں، تو ریزارٹ کی خوبصورتی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ پینے کے لیے پانی اور عوامی واش رومز کی فراہمی سیاحوں کو راحت پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے۔ مقامی نجی ہوٹلوں اور مقامی نوجوانوں کو ٹورسٹ گائیڈ کی تربیت دے کر خدمات کو بہتر بنانے سے سیاحوں کا اعتماد بڑھایا جا سکتاہے۔
اس خوبصورت سیرگاہ کو دیر پا بنیادوں پر قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ علاقے کے لوگوں کو اس کے انتظام میں شامل کیا جائے، اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں ان کو حصہ دیا جائے۔ مقامی لوگوں کے مسائل حل کیے بغیر اس سیر گاہ کو ترقی دینے کا خواب ادھورا ہی ہوگا۔
ملم جبہ میں لڑکوں کا ایک مڈل سکول ہے۔ اس لیے زیادہ تر لوگ ناخواندہ ہیں۔ سیاحوں کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کے لیے علاج معالجہ کی بھی کوئی سہولت موجود نہیں، جو مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں کے لیے بھی پریشانی کا باعث ہے۔ برف پر پھسلنے کی وجہ سے گاڑیوں کو حادثات کا سامنا کرنے کی صورت میں ہنگامی امداد دینے کی غرض سے ریسکیو کے عملے کی تعیناتی ایک اہم ضرورت ہے۔
آخری اور پتے کی بات یہ کہ اس سیرگاہ کو کسی نجی یا غیر متعلقہ ادارے کے سپرد کرنے سے مقامی لوگوں کو مسائل کا سامنا ہے۔ لہٰذا حکومت اس کو اپنے اختیار میں رکھے، تو بہتر ہے۔

…………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے