644 total views, 1 views today

محترم ڈی پی او صاحب!
امید ہے آپ بخیر و عافیت ہوں گے۔
جنابِ والا! آج بندہ روزنامہ آزادی کے ادارتی صفحہ کے مدیر کی حیثیت سے نہیں بلکہ اس ملک کے ایک عام شہری، ایک عام آدمی کی حیثیت سے آپ کی خدمت میں گذارش کرنے جا رہا ہوں، اس امید کے ساتھ کہ اس تحریری عرضی پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا اور بندہ کی داد رسی ضرور کی جائے گی۔
مسئلہ کچھ یوں ہے کہ بارامہ چوکی کے احاطہ میں محلہ ’’حاجی بابا سیرئی‘‘ میں بندہ رہائش پذیر ہے۔ ایک عرصہ سے یہاں بارامہ، قونج، حاجی بابا اور دیگر ملحقہ محلوں سے مشٹنڈے، جرائم پیشہ افراد، منشیات فروش اور خاص کر سکول جانے والی معصوم بچیوں کو تنگ کرنے والے آوارہ گرد آکر یہاں ایک چھوٹے سے کھلے میدان میں محفل جما لیتے ہیں۔ بارامہ چوکی میں اس سے پہلے کئی روزنامچے مذکورہ افراد کے خلاف درج کیے جاچکے ہیں۔ بارامہ چوکی کے سابقہ انچارج اے ایس آئی عمر زادہ نے اس حوالہ سے خصوصی کارروائی بھی کی ہے، جس کے لیے عمائدینِ علاقہ محکمۂ پولیس سوات کے ممنون ہیں۔ مگر جیسے ہی عمرزادہ صاحب کا بارامہ چوکی سے تبادلہ ہوا، تو اَب نہ صرف یہاں آوارہ گرد ایک بار پھر سے دندناتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں بلکہ اب تو (ماشاء اللہ) باقاعدہ طور پر اسلحہ کے ساتھ معصوم بچیوں کو سکول جاتے ہوئے دھمکایا جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ 11 مارچ 2019ء کو اُس وقت پیش آیا، جب ایک مشٹنڈا اپنے علاقہ قونج بارامہ سے ’’حاجی بابا سیرئی‘‘ آیا اور سکول جانے والی ایک بچی کو دھمکی دی کہ اگر گھر سے باہر قدم رکھا، تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ مذکورہ مشٹنڈے (جس پر بارامہ چوکی میں اس واقعہ کے حوالہ سے رپورٹ درج کی جا چکی ہے) نے بندہ کے چچا زاد 15 سالہ بچے (لونگین) کو بھی دھمکایا اور کہا کہ ’’مذکورہ بچی کی ماں کو میری طرف سے خبر دے دو کہ اگر بچی کی زندگی چاہتے ہیں، تو یہ گھر سے باہر قدم نہ رکھے۔‘‘ ساتھ ہی مذکورہ مشٹنڈے (جس کا یہ تحریر لکھتے وقت نام معلوم نہیں ہوسکا) نے بچے لونگین کو دھمکاتے ہوئے کہا کہ ’’اگر میری اطلاع بچی کی ماں کو نہیں دی، تو دیکھا جائے گا۔‘‘
جنابِ والا! میں اپنی شکایت لے کر بارامہ چوکی کے حالیہ انچارج ’’افضل‘‘ کے پاس گیا، جہاں انہیں ساری کہانی سنا ڈالی۔ افضل صاحب نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ’’سکول جانے والی بچی سے میری بات ہوچکی ہے۔ بچی اور اس کے والدین کی شکایت پر مذکورہ مشٹنڈے کو چوکی حاضر کیا جائے گا۔‘‘ افضل صاحب نے یہ بھی بتایا کہ ’’اس کے بڑوں کے ساتھ میری علیک سلیک ہے۔ اس لیے فکر کرنے کی کوئی بات نہیں۔‘‘
جنابِ والا! چوکی سے واپس ابھی گھر آیا ہی تھا، کہ چوکی کے مرزا صاحب کی کال آئی اور واپس حاضری دینے کا کہا۔ میں جیسے ہی وہاں پہنچا۔ اس مشٹنڈے کو حاضر کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ تین چار دیگر بندے بھی چوکی آئے تھے۔ انچارج چوکی افضل صاحب نے بات شروع کی۔ اتنے میں وہ مشٹنڈا دیدے پھا ڑپھاڑ کر واقعہ کے گواہ معصوم بچے لونگین کو بھاری آواز میں گویا للکارتے ہوئے کہنے لگا کہ ’’مَیں نے کب سکول جانے والی بچی کو تنگ کیا ہے؟‘‘ اتنے میں مذکورہ مشٹنڈے کے ساتھ آئے ہوئے اس کے ماموں نے بھی حصہ لیتے ہوئے اپنا رعب جمانے کی کوشش کی۔ اُدھر ہماری بھی رگِ حمیت پھڑکی اور احتجاجاً ’’ماموں صاحب‘‘ کو طرف داری کی بجائے غلط کو غلط ماننے کا کہا۔ اتنے میں چوکی کے انچارج صاحب کے طبعِ نازک پر ہمارا ’’احتجاج‘‘ ناگوار گزرا۔ ہمارے بھی خون نے جوش مارا اور چوکی سے واک آوٹ کرنے پر ہی دم لیا۔ انچارج صاحب نے بھی ہمارے پیچھے گلا پھاڑتے ہوئے کہا کہ ’’جاؤ جو اکھاڑ سکتے ہو، اکھاڑ لو۔‘‘ چوکی سے نکلتے ہوئے انچارج صاحب کے یہ الفاظ ذہن پر ہتھوڑا برستے محسوس ہوئے کہ ’’اس کے بڑوں کے ساتھ میری علیک سلیک ہے۔ اس لیے فکر کرنے کی کوئی بات نہیں۔‘‘
اب جنابِ والا! ہم ٹھہرے عدم تشدد پر یقین رکھنے والے۔ وہاں سے نکلے تو ’’ملا کی دوڑ مسجد تک‘‘ کے مصداق چند صحافی دوستوں سے ٹیلی فونک رابطہ میں اپنی بے بسی کا اظہار کیا۔ دوستوں نے صبر و تحمل سے کام لینے اور مسئلہ آپ صاحبان کے ساتھ ڈسکس کرنے کا مشورہ دیا اور فوری طور پر مینگورہ تھانہ کے ایس ایچ او محترم فضل رحیم صاحب سے مسئلہ حل کرنے کی خاطر ملاقات کا مشورہ دیا۔ فضل رحیم صاحب نے انتہائی سلیقہ سے ہمیں دلاسا دیا اور مشٹنڈے کو چوکی میں رکھ کر ہمیں ایک طرح سے تحفظ کا احساس بھی دلایا۔
جنابِ والا! اب مسئلہ یہ درپیش ہے کہ آپ صاحبان تک رسائی مجھ جیسوں کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ کیوں کہ جی حضوری ہمارے بس کا کام نہیں۔ اساتذہ نے تربیت ہی کچھ ایسی دی ہے۔ اس کے علاوہ اصول، آدرش اور اس قبیل کے دوسرے کھوٹے سکوں نے کسی سے تعلق رکھنے کے لائق ہی نہیں چھوڑا، گویا
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش
مَیں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
جنابِ والا! ان سطور کو لکھنے کا مقصد بس یہی ہے کہ میں اس ’’مملکتِ خداداد‘‘ کا ایک عام آدمی ہوں، وہ عام آدمی جس کی جیب سے ریاست کا خزانہ بھرتا ہے اور اُسی خزانے سے ریاست کا پورا نظام چلتا ہے۔ اُسی خزانے سے وزیر اعظم عمران خان سے لے کر ایک عام کلاس فور تک جتنے بھی سول اور ملٹری سرونٹس ہیں، سبھی تنخواہیں اور مراعات لیتے ہیں۔ ان سول سرونٹس میں سے ایک آپ بھی ہیں اور ایک بارامہ چوکی کے ’’انچارج‘‘ موصوف افضل صاحب بھی ہیں۔
جنابِ والا! کسی طرح موصوف کے ذہن میں یہ بات بٹھالیں کہ جس عام آدمی کی جیب سے وہ تنخواہ لیتا ہے، جس عام آدمی کی جیب سے وہ استری شدہ یونیفارم پہنتا ہے، سر پر ترچھی ٹوپی رکھ کر کاندھے سے پستول لٹکاتا ہے، جس چوکی کو اپنا دربار اور خود کو گویا شہنشاہِ وقت سمجھ کر عوام پر اپنا رُعب جھاڑتا ہے، یہ سب اس ’’عام آدمی‘‘ کی بدولت ہے۔
جنابِ والا! امید ہے اس عام آدمی کی داد رسی کی جائے گی، بارامہ چوکی کے ’’انچارج‘‘ سے اس حوالہ سے جواب طلبی کی جائے گی۔ امید واثق ہے کہ اسے محکمۂ پولیس کی انا کا مسئلہ نہیں بنایا جائے گا۔ خدانخواستہ اگر ایسا ہوا، تو یہ عام آدمی جو عدم تشدد کے فلسفہ پر ایمان کی حد تک یقین رکھتا ہے، اس وقت تک پُرامن احتجاج جاری رکھے گا، جب تک دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی نہیں ہو جاتا۔ داد رسی نہ ہوئی، تو آپ صاحبان کے بعد آر پی اُو اور اُن کے بعد آئی جی پی صاحب کے نام ایسے ہی کھلے خطوط شائع کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔فقط، آپ کا خیر اندیش، ’’عام آدمی!‘‘

…………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے