388 total views, 1 views today

جس طرح پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگی ماحول بنا ہوا ہے، اسی طرح سوات میں بھی ایم پی اے عزیز اللہ گران خان مختلف محکموں کے حوالے سے میڈیا کے ذریعے اکثر و بیشتر ’’سرجیکل سٹرائیکس‘‘ میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ مذکورہ عمل میں اب گذشتہ کئی ماہ سے تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ایم پی اے صاحب مختلف محکموں، ٹھیکوں اور بھرتیوں کو جواز بنا کر اپنی حکومت کی کارکردگی کے خلاف کھل کر بول رہے ہیں۔ یہاں تک کہ آپ صاحبان کے جتنے بھی بیانات سامنے آئے ہیں ان میں کسی نہ کسی طرح ممبرانِ اسمبلی کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔ گران صاحب کے ساتھ اس اہم کام میں ان کے قریبی ساتھی اور پارٹی کے ترجمان ’’فضل ربی بھائی‘‘ بھی برابر کا حصہ ڈال رہے ہیں۔
کڈنی ہسپتال سے شروع ہونے والی جنگ، ایری گیشن، واسا، ٹی ایم اے، سوئی گیس، معدنیات، سی اینڈ ڈبلیو، کوہستان گٹ تا پانڑ لوئے بنڑ روڈ کی تعمیر، سیدو ہسپتال سے فرار ہونے والے جعلی ڈاکٹر کی شناخت سمیت بھرتیوں اور بدعنوانی کے الزامات اور حال ہی میں تبدیل ہونے والے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن پر سوات سے قیمتی لکڑیاں سمگل کرنے سمیت بیوٹیفکیشن پراجیکٹ فنڈز کی انکوائری سے تان آکر ’’کارکنوں کو عزت دینے کی جنگ‘‘ پر ٹوٹتی ہے، اور ان ’’سٹرائیکس‘‘ کا مزید آگے بڑھنے کا بھی امکان ہے۔
قارئین، آپ کے نوٹس میں یہ بات ہوگی کہ صوبائی حکومت نے ایک ـ”Whistle Blower Act” متعارف کرایا تھا، یعنی جو بھی کرپشن دیکھے وہ سیٹی بجائے اور وہ جتنی بھی بڑی کرپشن دیکھے گا، انتا ہی بڑا انعام پائے گا۔ مجھے پہلے اس حوالہ سے علم نہیں تھا، مگر تقریباً دوسال پہلے موجودہ وفاقی وزیرِ مملکت مراد سعید کا ایک جلسہ میں ’’پُرجوش خطاب‘‘ ٹی وی سکرین پر دیکھا۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں لوگوں کو مذکورہ ’’ایکٹ‘‘ کے بارے میں بتاتے دیکھے جاسکتے ہیں، ساتھ انجینئر امیر مقام کے نام کے ساتھ سیٹیاں بجاتے بھی موصوف کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ اُس وقت مَیں بڑا خوش تھا کہ صوبائی حکومت نے ایک اچھا اقدام کیا ہے۔ مَیں بذاتِ خود بھی سیٹی بجانے کی کوشش کر رہا تھا کہ کہیں سے کرپشن کا کوئی کیس ہاتھ لگ جائے، مگر پی ٹی آئی کے سہیل سلطان ایڈوکیٹ اور پارٹی کے ترجمان فضل ربی بھائی مجھ پر سبقت لے گئے اور ٹی ایم اے، محکمۂ مال اور کڈنی ہسپتال میں کرپشن کے سنگین الزامات لگا کر ایسی سیٹیاں بجائیں کہ سب کی سٹی گم کرا دی۔ مَیں اس وقت افسردہ تھا کہ اگر ایک چھوٹی سے سیٹی میں بھی بجا لیتا تو کم ازکم دیارِ غیر (سعودیہ) میں خاک چھاننے سے تو جان چھوٹ جاتی۔ القصہ، سہیل سلطان اور فضل ربی بھائی کی سیٹیوں کو مراد سعید تک پہنچانے کے لیے مَیں نے ایک عدد کالم کا سہارا لیا، تاہم ان سیٹیوں کے ساتھ ساتھ میری تحریر بھی ہوا میں تحلیل ہوئی۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ سیٹیوں میں اضافہ ہوا اور اب یہ عالم ہیں کہ یہ عام لوگوں کے کانوں تک بھی پہنچ رہی ہیں۔
قارئین، تحریک انصاف کرپشن کے خاتمہ کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کرتی نظر آتی ہے۔ گذشتہ چھے سال کے دوران میں تقریباً ہر ذمہ دار شخص بڑے فخر سے اس بات کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے کہ صوبائی حکومت نے محکموں سے کرپشن کا مکمل خاتمہ کر دیا ہے، تاہم ایم پی اے گران کے سرِعام الزامات لگانے کے عمل نے صوبائی حکومت کے ان دعوؤں کا جو حشر کیا ہے، اس کی نظیر نہیں ملتی۔ جب گران نے کڈنی ہسپتال میں مبینہ طور پر کرپشن اور بدعنوانی و جعلسازی کا مسئلہ اٹھایا، تو حکومتی ذمہ داروں نے اس پر کوئی نوٹس نہیں لیا اور مجبوراً ایک ’’حکومتی منتخب نمائندے‘‘ کو روڈ بند کرنا پڑا، جس کی وجہ سے حکومت نے دباؤ میں آکر انکوائری قائم کرلی۔ اس سلسلے میں مراد سعید صاحب کے پرسنل سیکرٹری خورشید دادا نے ہسپتال میں سیاسی مداخلت بند کرنے کا مطالبہ کیا اور بصورتِ دیگر سخت مزاحمت کی دھمکی بھی دی۔ جواب میں فضل ربی بھائی نے میڈیا کے ذریعے خورشید دادا کے خلاف ایک عدد بیان داغ دیا کہ ’’موصوف کرپٹ لوگوں کا ساتھ دے کر عمران خان کے وِژن کو ناکام بنا رہے ہیں اور وہ کڈنی ہسپتال میں ہونے والی بے قاعدگیوں اور کرپشن پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں۔‘‘ دوسری طرف گران خان کئی مرتبہ میڈیا کے ذریعے اس بات کا اظہار کرچکے ہیں کہ کچھ محکموں میں کرپٹ مافیا کو بعض ’’سیاسی لوگوں‘‘ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ پچھلے دنوں انہوں ایک بیان بھی جاری کیا تھا کہ ’’سیاست کو کچھ لوگوں نے کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے۔ سیاست میں آنے سے قبل اور بعد میں خاندانی جائیداد کی چھان بین کی جائے اور تحقیقات کا آغاز مجھ سے کیا جائے۔‘‘
مجھے بذاتِ خود گران سے کسی قسم کی ہمدردی نہیں۔ البتہ مجھ جیسے عام لوگوں کو گذشتہ چھے سالوں سے جن بلند بانگ دعوؤں کے ذریعے شیشے میں اتارا گیا، اب اس عمل کی قلعی بڑی بے رحمی سے گران صاحب اتارنے میں مصروف ہیں۔ ہم سوشل میڈیا پر صوبائی حکومت کے دعوؤں کو دیکھ کر خوش ہوا کرتے تھے، مگر حقیقت میں گران صاحب نے تقریباً تمام اہم محکموں میں بے قاعدگی و بدعنوانی کے الزامات لگا کر ہماری آنکھیں کھول دیں۔
مَیں بات کو طول نہیں دینا چاہتا، مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ مجھے مراد سعید صاحب سے گلہ ہے۔ وہ انجینئر امیر مقام کے نام پر کرپشن کی سیٹیاں بجا بجا کر پھولے نہیں سما رہے تھے، مگر ان کواپنی ہی پارٹی کے ایم پی اے عزیز اللہ گران کی بے شمار سیٹیاں کیوں سنائی نہیں دے رہیں؟ ایک ایم پی اے (عزیز اللہ گران) آپ کی چھے سالہ کارکردگی میں کرپشن کی نشان دہی کر رہا ہے، مگر آپ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ امید ہے کہ صوبائی حکومت گران صاحب کی سیٹیوں کی طرف توجہ دے کر عوام کو مطمئن کرے گی، اِن شاء اللہ!

…………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے