1,174 total views, 1 views today

سوات میں کم عمر بچوں کو اغوا کرنے، جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور انہیں حبسِ بے جا میں رکھنے والے درندہ صفت ملزم اورنگزیب عرف رنگے کو جرم ثابت ہونے پر عدالت نے 23 سال قید و جرمانہ اور اس کے معاون کاروں کو دس، دس سال قید و جرمانہ کی سزا سنا دی گئی۔ ملزمان کی جانب سے ان کے وکلا اور متاثرہ بچوں کی جانب سے پبلک پراسیکوٹر فواد احمد کے دلائل مکمل ہونے کے بعد جرم ثابت ہونے پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفر اقبال خان سوات نے دفعہ 377/34, 363, 342 ,506 اور 53 چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مرکزی ملزم اورنگزیب عرف ’’رنگے‘‘ پر بچوں کو اغوا کرنے، جنسی تشدد کا نشانہ بنانے اور انہیں حبسِ بے جا میں رکھنے پر 23 سال قید اور چار لاکھ 65 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنا دی۔ اس کے ساتھ اس کے معاون کار ملزمان عمر خالق اور سجاد کو بھی جرم ثابت ہونے پر دس، دس سال قید اور 63،63 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنا دی گئی۔ سزا سننے کے بعد دونوں ملزمان کو پولیس نے واپس جیل منتقل کیا۔
عدالت سے سزا پانے والے مجرم اورنگزیب عرف رنگے نے ائیرپورٹ روڈ مینگورہ پر اپنا عالی شان ڈیرا بنا رکھا تھا، جہاں پر وہ اپنے ساتھیوں کی مدد سے دس سال سے پندرہ سال کی عمر تک کے بچوں کو اغوا کرکے رکھتا تھا۔ بعد میں ان بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا تا تھا۔ اکثر اوقات کئی بچوں کو اُس نے کئی سالوں تک اپنے ساتھ ڈیرے میں قید رکھا تھا۔ 6 مئی 2016ء کو مینگورہ کے ایک رہائشی نے مینگورہ پولیس کو بتایا کہ اس کا بیٹا دو سال اور تین ماہ سے گھر سے غائب ہے۔ اس کے بقول اسے کسی سے پتا چلا تھا کہ بچہ رنگے کے ساتھ اس کے ڈیرے میں قید ہے، جس پر پولیس نے جب چھاپا مارا، تو ڈیرے سے بچوں کو بازیاب کرایا گیا۔ اس کے علاوہ رنگے کے دونوں ساتھیوں کو بھی گرفتار کیا اور بعد میں ان کی نشان دہی پر رنگے کو بھی گرفتار کیا گیا۔
عدالت سے سزا پانے والے مجرم اورنگزیب عرف رنگے نے 300 سے زائد بچوں کو اغوا کرکے انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ اس عمل کے ثبوت رنگے کے ڈیرا سے ملنے والے موبائل فون میں مختلف ویڈیوز اور درجنوں عریاں اور قابلِ اعتراض تصاویر ہیں۔ پولیس نے جب رنگے کے موبائل کی گیلری کو چیک کیا، تو اس میں 300 سے زائد مختلف بچوں کی ویڈیوز اور تصاویر تھیں۔ رنگے جب بھی کسی بچے کو جنسی تشدد کا نشانہ بناتا تھا، تو اس وقت وہ مذکورہ معصوم بچوں کی ویڈیوز اور تصاویر بھی فون کے ذریعے بناتا تھا۔ موبائل میں موجود ویڈیوز اور تصاویر سے ثابت ہوا تھا کہ اس نے تین سو سے زائد بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
جنسی تشدد کیس میں فیصلہ سنانے کے بعد عدالت کے باہر متاثرہ بچوں اور ان کے والدین کا کہنا تھا کہ مجرموں کو سرِ عام پھانسی کی سزا دینی چاہیے تھی، تاکہ آئندہ کوئی شخص کسی غریب کے بچے کو اغوا کرکے کئی سالوں تک اپنے پاس رکھنے کی ہمت نہ کرسکے۔ ایک متاثرہ بچے کا کہنا تھا کہ میں اس انتظار میں تھا کہ رنگے کو پھانسی کی سزا ہوگی، تاہم بعد میں متاثرین نے عدالت سے رنگے کو ملنے والی سزا پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔
رنگے کی گرفتاری کے بعد پولیس کو ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا تھا کہ ملزم اورنگزیب ولد سالار دین المعروف ’’رنگے‘‘ غیر شادی شدہ ہے۔ بچوں کو اغوا کرنا اور ان کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانا اس کا محبوب مشغلہ ہے۔ اس کی کروڑوں کی جائیداد ہے۔ پولیس کے مطابق اس کی ائیرپورٹ روڈ مینگورہ سوات میں ’’مین روڈ‘‘ پر کھالوں (چمڑہ) کی ایک منڈی ہے۔ ایک موبائل فونز کی دکان ہے۔ موضع سنگوٹہ میں ایک کروڑ روپے کی مختلف زمینیں ہیں، وہاں اس کا ایک گھر بھی ہے۔ سنگوٹہ ہی میں اس کی خریدی گئی گاڑیاں ہیں، جو مختلف ڈرائیورز چلاتے ہیں۔ مذکورہ گاڑیوں سے ’’رنگے‘‘ کو ماہانہ ہزاروں روپے کی صافی بچت ملتی ہے۔ اس کا ڈیرا ہر قسم کی آسائش سے بھرپور کسی شاہی محل سے کم نہیں، جس میں اعلیٰ قسم کے قالین، اے سی، روم کولر، ایل سی ڈی، ڈی وی ڈی، ہائی فائی ڈک اور ہوپر سسٹم قابل ذکر ہیں۔
پولیس کے مطابق ملزم کا اپنے بھائیوں کے ساتھ جائیداد پر تنازعہ ہے۔ اس کے کرتوتوں کی وجہ سے اس کے بھائی گھر چھوڑ کر کہیں اور رہ رہے ہیں۔