275 total views, 1 views today

لہجہ انتہائی دھیما تھا۔ لفظوں کا چناؤ بھی بے حد سلجھا ہوا تھا۔ نہ تم کہہ کے مخاطب کیا گیا تھا، نہ کسی بھی قسم کا کوئی ایسا جملہ کہا گیا تھا جس سے غصے یا بد تمیزی کا تاثر پیدا ہوتا ہو۔ لفظوں کے ساتھ ساتھ آنکھیں فسانۂ دل سارا کہے جا رہی تھیں۔برداشت کا کوئی ایسا درجہ تھا جس پہ ہر کوئی براجمان نہیں ہو سکتا تھا۔ دھیمے لہجے کے اس شخص نے کچھ ایسی پختگی اور واضح اندا زمیں اپنا مؤقف پیش کیا تھا کہ ہر کوئی کسی نہ کسی حد تک مطمئن ہو گیا تھا۔ کیوں کہ ہم جانتے تھے کہ جس جامع اور مدلل انداز میں آئی ایس پی آر کے ڈی جی نے کہا تھا کہ ہم جگہ اور وقت کا انتخاب بھی خود کریں گے، تو یہ دیوانے کی بڑھک نہیں تھی بلکہ یقینِ کامل تھاکہ ہم پہل کرنے والوں میں سے بے شک نہیں ہیں، لیکن جو پہل کرے اُس پہ وار جوابی ایسا کیا جائے گا، کہ دُشمن دنگ رہ جائے گا اور ’’سرپرائز‘‘ کا وعدہ پورا کیا گیا۔ ایسا سرپرائز دیا گیا کہ نہ صرف عالمی دنیا کو معلوم ہوا کہ پاکستان ہے کیا شے، بلکہ ہمسائے کو بھی پتا چل گیا کہ ہماری برداشت ہماری بزدلی نہیں۔
ہو سکتا ہے راقم الحروف کے دل کے کسی نہاں خانے میں بھی یہ خیال پک رہا ہو باقی عوام کی طرح کہ ’’ـاُنہیں واپس کیوں جانے دیا گیا؟‘‘ اور مزید تنقیدی پہلو یہ کہ ’’اگر گرا سکتے تھے، تو گرایا کیوں نہیں گیا۔‘‘ لیکن ہمارا تو کام ہے تنقید کرنا، جو ہم کرتے ہیں اور کر سکتے ہیں۔ فیصلہ سازوں کے قلوب و اذہان میں مگر دفاعِ وطن و اپنی سالمیت کا حق منوانے سے بڑھ کے کچھ نہیں ہوتا۔ اور یہ ہم نے دیکھ لیا۔ پے لوڈ جنگل میں گرا کے واویلا کیا گیا کہ ’’ہم نے نہیں چھوڑا، مارڈالا۔‘‘ ہم نے اسے اپنی جگ ہنسائی سے تعبیر کیا۔ اور کچھ اپنے تو ایسے ناقد ہیں کہ لفظوں کے نشتر چلاتے وقت دیکھتے بھی نہیں کہ دھار سے روح تک چھلنی ہو رہی ہے۔ اکثر تقریبات میں ایک فقرہ سنتے تھے کہ ’’جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا‘‘ سوچتے تھے اس کا مطلب کیا ہے؟ فضائیہ کے شاہینوں نے اس کا مطلب بھی سمجھا دیا۔ دو جہاز نہ صرف گرائے بلکہ ایک قیمتی قیدی بھی بن گیا۔ قیمتی اس لیے کہ اب ذرا جائزہ لیجیے کہ اس معاملے کے بعد بھارت کہاں کھڑا ہے؟
پے لوڈ گرا تو وہ سمجھے یہ کچھ کر نہیں سکتے۔ ایک ہی دن بعد حساب چکتا کیا گیا۔ وہ مقابلے پہ آئے کہ ان سے ہم گرائے تو جا نہیں سکیں گے، لیکن معاملہ اُلٹا ہو گیا۔ ایسا سرپرائز ملا کہ وہ نہ صرف حیران ہوئے بلکہ پریشان بھی۔ اس سرپرائز کے بعد بھارت کہاں کھڑا ہے؟ وہ تین سو لاشوں کا فرضی واویلا جو ابھی دنیا مان بھی نہیں رہی تھی، اس کے ساتھ یہ معاملہ ہو جانے سے بھارت بیک فٹ پہ ہے۔ حد ہوئی کہ ہمارے وزیر اعظم نے پھر مذاکرات کی دعوت دے دی۔ نہ نگلی جائے نہ اُگلی جائے، کہ دنیا کہہ رہی یہ تو مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، آپ کیوں نہیں کرنا چاہتے؟ ڈوزئیر کیوں دیا گیا؟ ذرا سوچئے کہ ڈوزئیر نہ دیتے، تو اور کیا کرتے؟ ونگ کمانڈر اپنا قیدی بنوا بیٹھے پاکستان کی سرزمین پہ، تو دنیا کو کیا منھ اب دکھائیں گے؟ تحقیقات میں تعاون کی پیشکش پہ جواب مثبت دینا اُن کی مجبوری بن گیا۔ کراچی اور ملیر والوں نے رات کیسے گزاری، مکمل بلیک آؤٹ کہ خطرہ تھا نیوی ہمسایوں کی گریباں چاک کروانے کو آ پہنچے گی، لیکن کسی عاقل نے مشورے سے شائد نوازا کہ پہلے کچھ کم جگ ہنسائی ہو چکی ہے، کہ یہ کھڑاک بھی کرنا ہے؟ رات گزر گئی، رات اپنے ساتھ بہت سے معاملات بھی لے گئی۔ تحقیقات میں تعاون کے سوال پہ ڈوزئیر تک بات پہنچ گئی۔ سونے پہ سہاگا کہ انتخابات میں کامیابی کی بجائے اپوزیشن کی اکیس جماعتوں کے اتحاد کی چارج شیٹ گلے پڑتی نظر آ رہی ہے اور رفائل اسکینڈل کے بعد بھی راہول گاندھی پیچھا چھوڑتے نظر نہیں آ رہے۔ ایک دن پہلے جنگی ترانے اور ایک دن بعد ہی ـ’’جنگ سے انکار‘‘ کا نعرہ مقبولِ عام ہو رہا ہے۔ ہم نے نشانہ اپنی طرف سے بنایا، اس پہ دُنیا، جو بالاکوٹ کی فرضی سرجیل اسٹرائیک پہ قدرے خاموش ہی رہی، اب کھل کے سامنے آ رہی ہے۔ چین خاموش تماشائی نہیں رہا۔ ترکی کھل کے پاکستان کے ساتھ نظر آ رہا ہے۔ سعودی عرب رفتہ رفتہ آواز اُٹھا رہا ہے اور حیرت یہ ہوئی کہ ایران کا رجحان بھی ہماری طرف نظر آنا شروع ہوا ہے اس معاملے میں۔ او آئی سی میں پاکستان کی آواز سنی جانا یقینی نظر آتا ہے۔ برطانوی ایوانِ نمائندگان میں کشمیر کے مسئلے کی بازگشت سنائی دی جانے لگی ہے۔ ہمارے وزیرِ خارجہ اس سرپرائز کے بعد سے سکون سے بیٹھ نہیں رہے۔ فون کھڑکائے جا رہے ہیں۔ ہر ایک سے واحد بات، ہم پہل نہیں کر رہے، لیکن جوابی سرپرائز کا حق رکھتے ہیں۔ دنیا جو پہلے قدرے تامل سے کام لے رہی تھی، اب دبے لفظوں کی بجائے کھل کے رائے کا اظہار کرنے لگی ہے۔ اس حقیقی سرپرائز کے بعد اُن کی وزیر خارجہ کا تلخی نہ بڑھانے کا بیان بلا وجہ تو ہے نہیں۔ اُن کو شائد سمجھ آنا شروع ہو گئی ہو کہ لڑائی مسائل کا حل نہیں، امید ندارد۔
سپرائز کا وعدہ کیا۔ سرپرائز ہم نے دے دیا۔ اس سرپرائز کے بعد ہمسائے کو بیک فٹ پہ ہم نے دھکیل دیا کہ ان کے قیدی کے ساتھ اچھا سلوک دُنیا کے سامنے ہے۔ پہل نہ کرنے کے عزم کا اعادہ پوری دنیا دیکھ اور سن رہی ہے۔ اُن کی شدت پسندی بھی دُنیا دیکھ اور سن رہی ہے۔ محاذ آرائی پہ جوابی وار میں کمزوری نہیں ہو گی۔ وہ دیکھ چکے ہیں۔ عالمی سطح پہ شرمندگی الگ اُٹھانا پڑ رہی ہے۔ ہمارے سرپرائز کے بعد آج ہمارا ہمسایہ تحقیقات میں تعاون کا ہمارا کہا مان رہا ہے۔ اور اس پہ طنز نہیں بلکہ ہمیں تو خوشی ہے کہ خطے میں امن آئے۔ کیوں کہ ہم تو ایک بات جانتے ہیں کہ جنگ سے قبروں اور اپاہجوں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے اور کچھ نہیں۔راکھ کے ڈھیر بنتے ہیں، زرخیزی نہیں۔ بس ہم تحمل اپناتے ہیں، آپ بھی دھیرج رکھیے۔ آپ ووٹ لیجیے، ضرور لیجیے، لیکن اس کے لیے خطے کو جنگ میں نہ ڈالیے۔ جنگ سے زیادہ طاقتور ’’دلیل‘‘ ہوتی ہے۔ اس کا سہارا لیجیے۔

……………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے