458 total views, 2 views today

مثل مشہور ہے: “روم جلتا رہا اور نیرو بانسری بجاتا رہا۔” کچھ ایسی صورتحال آج کل ملکِ عزیز کی ہے۔ ابھی کل پرسوں کی بات ہے جن بعض افراد نے دیدہ و دانستہ مسلم لیگ (نواز) کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے پروپیگنڈا مشینری کا ساتھ دیا تھا اور اب جاری حکومت کے خلاف بھی ایک طرح سے محاذ کھول لیا ہے۔ یہ دوہری پالیسی کب تک جاری رہے گی؟ اب سارا زور اس پر ہے کہ کسی طرح نواز شریف، شہباز شریف اور زرداری کو معصوم ثابت کیا جائے۔ مذکورہ پروپیگنڈے کا بعض لوگ شعوری جب کہ بعض لاشعوری طور پر سوشل میڈیا، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں حصہ بنتے رہتے ہیں۔ عمران خان چاہے کتنا ہی برا کیوں نہ ہو، لیکن عوام نے اس کو منتخب کرکے اقتدار تک رسائی دی ہے۔ اگر عوام کی حکمرانی مقصود ہے، اور جمہوریت کا دفاع کرنا ہے، تو چاہیے کہ عوامی طاقت کا بھرپور دفاع کیا جائے۔
قارئین، اس سازش میں بعض میڈیا ہاؤسز کے ساتھ ساتھ غیرجانب دار افراد بھی اپوزیشن پارٹیوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اپنے مقدمہ کو مضبوط بنانے کے لیے جھوٹے سچے ہر قسم کے سازشی نظریات سے مواد لے کر استفادہ کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں بس ایک ہی راگ الاپ رہی ہیں اور یہ الزام لگا رہی ہیں کہ وزیر اعظم اداروں کا ’’سلیکٹڈ‘‘ بندہ ہے۔
یہاں یہ تذکرہ بھی ضروری ہے کہ اس مذکورہ عمل میں عدالتوں اور ملک کے اداروں کو برابر کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اس کا صرف ایک ہی مطلب نکلتا ہے کہ کسی طرح حکومت پر دباؤ ڈال کر ’’این آر اُو‘‘ لیا جا سکے۔ اداروں کو بد نام کر کے اپنے مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔ یہ سوچنا چاہیے کہ اس بلاوجہ مخالفت کا فائدہ کوئی تیسری قوت تونہیں لے رہی؟ ان کے لیے میدان تو ہموار نہیں کیا جا رہا؟ امن و امان کی مخدوش صورتحال کے پیشِ نظر آپریشن ضرب عضب یا رد الفساد ہو، کراچی میں بھتا خور مافیا ہو، ٹارگٹ کلنگ کے خلاف رینجرز کا ’’کامیاب‘‘ آپریشن ہو، منی لانڈرنگ یا وائٹ کالر کرائمز ہوں، ریاستی نظام ہر طور پر ناکامی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مذہبی فرقہ واریت ہو یا قومی اور لسانی عصبیت، ہر طرف نئے واقعات جنم لے رہے ہیں۔ لوگوں کا ریاست اور حکومت پر سے اعتماد اٹھ رہا ہے۔ سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں مصروف ہیں اور نان ایشوز کی سیاست میں ایک دوسرے پر چڑھائی جاری ہے۔ ایسے میں کاروبار، صنعت و حرفت کیا خاک ترقی کرے گی؟ ہاں، مگر البتہ یہ بدمعاش، ’’سیاہ ست کار‘‘ اور طاقت ور اشرافیہ دونوں ہاتھوں سے ملکی وسائل ہڑپ رہی ہے اور عوام کے جان و مال سے کھیلنے کے مزے لے رہی ہے۔
قارئین، آپ کو پتا ہے حکومت کو سعودیہ کنگ محمد بن سلمان کی طرف سے اربوں ڈالر کا امدادی قرضہ کڑی شر حِ سود کے ساتھ ملاہے؟ اس کا مطلب ہے کہ سر پر لٹکتی تلوار کا خطرہ وقتی طور پر ٹل گیا ہے۔ یاد رہے کہ سعودیہ نے انڈیا کو بھی پاکستان سے دوگنا زیادہ امداد فراہم کی ہے۔ کیا حکومت کو معلوم ہے کہ مذکورہ ڈالروں کو کس طرح انویسٹ کیا جانا ہے؟ مجھے اندیشہ ہے کہ کہی ا یسے حالات نہ آجائیں کہ پھر کوئی آپ کو قرض یا امداد دینے کا سوچے بھی نہیں۔ عرب تیسری دنیا کی اقوام کو ’’عالم الفقیر‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم بھکاری ہیں۔ تاہم ان لوگوں کی اپنی مجبوریاں ہیں اور اُن مجبوریوں اور مفادات کے تحت وہ عالم الفقیر کی مختلف اوقات میں مدد کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان کی مدد بھی اس کی تذویراتی حکمت کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔
قارئین، مَیں حیران رہ جاتا ہوں کہ حکومت کواقتدار میں رہتے ہوئے قلیل عرصہ بیت چکا ہے، تاہم وزیر اعظم اور دیگر وزرا مختلف ملکوں جیسے دُبئی، قطر، سعودیہ اور چین کے علاوہ آئی ایم ایف سے تقریباً اُنتالیس کھرب روپے کا قرضہ لے چکی ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ حکومت ان بڑی رقوم کا آخر کرے گی کیا؟
دوسری طرف وزیرِ اطلا عات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ہم اپوزیشن کوبڑے مہمان شہزادہ محمدبن سلمان کے عشائیہ میں نہیں بٹھا سکتے تھے۔ کیوں کہ ان میں کوئی قد آور بندہ موجود نہیں تھا۔ کسی پر بدعنوانی کے الزامات تھے، تو کوئی ضمانت پر تھا۔ وزیرِ اطلاعات سے بس اتنا کہنا ہے کہ پھر آپ اپوزیشن بنچوں کو ہی ختم کر دیں۔ پارلیمنٹ میں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ کیسی ڈھٹائی اور فرعونیت ہے۔ یوں ملک کیسے ترقی کرے گا؟ اپوزیشن کو بھی لاکھوں ووٹ ملا ہے۔ وہ جماعتیں بھی کسی کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان تمام تر خامیوں کے باوجود بھی مَیں سمجھتا ہوں کہ اب جب عوام نے تحریک انصاف کو مسندِ اقتدارپر بٹھا ہی دیا ہے، تو اس پر بھروسا کیا جانا چاہیے۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ حکومت نادانستہ غلطیاں کر رہی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کو اقتدار سے ہی علیحدہ کیا جائے۔ ان کی راہنمائی کا فریضہ اگر ایک طرف اپوزیشن کا حق ہے، تو دوسری طرف میڈ یا ہاؤسز بھی یہ کارِ خیر ملکی ترقی کے لیے انجام دے سکتے ہیں۔
اس صورتحال کے علاوہ پاکستان اور انڈیا میں پلوامہ دھماکا جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے اور دونوں حریف ممالک میں کشیدگی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ حالیہ واقعات میں بھارت نے بالاکوٹ مانسہرہ میں ’’ائیر سٹرائیک‘‘ کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ جیش محمد کے کیمپ پر حملہ کرکے کئی لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔ جواباً ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستانی طیاروں نے بھارتی طیاروں کا تعاقب کیا ہے اور ان کومار بھگایا ہے۔اس طرح ایک طیارے کو ما ر گرایا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت ہوش سے کام لے اور مذاکرات کے ذریعے اس کا حل نکالے۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ۔ کیوں کہ جب امن ہوگا، تو ملک معاشی اور اقتصادی طور پر ترقی کرے گااور سرمایہ دار اپنا سرمایہ لگائیں گے۔ ملک اس وقت جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ بقول ساحرؔ لدھیانوی
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی؟

………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے