544 total views, 1 views today

کرنے والے نے صرف ایک سوال کیا، لیکن جواب دینے والے کے پاس جیسے بیان کرنے کو ایک داستان تھی، لیکن جواب دینے والے سے جواب نہ دیا گیا۔ بس اُس کے چند آنسو جیسے سب بیان کر گئے اور کوئی شک نہیں کہ آنسو داستان کہنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ جب آنسوزباں پاتے ہیں، تو لفظوں کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ کچھ ایسا ہی ایک نجی چینل پہ سابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب اور سابق چیئرمین کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی سے پوچھے گئے ایک سوال کے دوران میں ہوا۔ میزبان نے پی ایس ایل فور کی افتتاحی تقریب میں عدم شرکت کا فسانۂ دل سوز چھیڑتے ہوئے سوال داغا کہ آپ کو دعوت نامہ نہیں ملا، تو آپ کو کیسا لگ رہا ہے؟ جواباً نجم سیٹھی صاحب شاید بہت سے الفاظ بولنا چاہتے تھے، لیکن ان کی لڑکھڑاتی ہوئی آواز اور نم آنکھیں ان کے لفظوں کے آگے دیوار بن گئیں اور چند بے ربط سے جملوں کے علاوہ ان سے کچھ نہیں کہا گیا۔ ان کے آنسو شائد ان کے الفاظ سے زیادہ طاقتور ہوگئے، یا ان کی چڑیا بھی اس سوال کے آگے بے بس ہوگئی۔ میزبان کو شاید توقع کسی شدید تنقید کی تھی نجم سیٹھی کی جانب سے لیکن تنقید تو کجا یہاں تو بولا ہی نہیں گیا۔
پینتیس پنکچر سے شروع ہونے والی مخاصمت اب تک شاید جاری ہے۔ ورنہ جہاں زیبِ نشست کچھ متنازعہ شخصیات بھی تھیں، وہاں اگر نجم سیٹھی صاحب کو دعوت دے دی جاتی، حرج خاص ہونا نہیں تھا، لیکن تب شاید اَنا کا بت پاش پاش ہو جاتا اور آج کل اَنا ہی تو بک رہی ہے، ورنہ ہنگامۂ زندگی میں رکھا کیا ہے۔ اور اَنا کی خاطر ہی تو لفظوں کے تیر انتہائی نوکیلے اور تیز ہو چکے ہیں۔ ہمارے دیس کا عمومی رجحان ہی یہ رہا ہے کہ یہاں طاقت آنے پہ لوگ پہچانے جاتے ہیں، یا پھر اختیار آنے پہ ڈھیر سارے پہچانے جا رہے ہیں۔ اور کچھ بعید نہیں کہ ابھی اور بھی بہت سے پہچانے جائیں گے، لیکن ہم کہیں تو کہا جائے گا، کہتے ہیں۔ ان پہ ہی چھوڑیے، خود ہی وہ سوچیں، خود ہی فیصلہ کریں، اور خود ہی تاویلیں دیں۔ نجم سیٹھی صاحب بھی بڑے بھولے انسان ہیں۔ انہیں بھی بھلا ضرورت کیا تھی یوں سرِ کیمرہ آنسوؤں کو اظہار کا ذریعہ بنانے کی۔ وہ بھی بے حس ہو جاتے اور اپنی زبان کی دھار ہی تھوڑی تیز کر لیتے۔
قارئین، بات صرف ایک شخصیت کی نہیں ہے۔ نہ ہی مدعا یہ کہ کس کو بلایا گیا اور کس کو نہیں؟ لیکن عرض صرف اتنی سی ہے کہ پودا لگانے والے مالی کو جب باغ سے نکال بھی دیا جائے اور جب اُس کی محنت کا پھل پک کے تیار ہو جائے، تو اس سے یہ حق بھی چھین لیا جائے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے پروان چڑھانے والے پودے کو دیکھ بھی نہ سکے، تو پھر لفظ تو شاید ویسے بھی مر جاتے ہیں چہ جائیکہ سخت الفاظ۔ اور ہمارے ہاں رویے اس قدر کرخت ہر گزرتے دن کے ساتھ ہوتے جا رہے ہیں کہ ہم اپنے آپ کو بند گلی میں داخل کر بیٹھے ہیں۔ ہم معاملات کو اس نہج پہ لے آتے ہیں کہ جہاں سے واپسی چاہ کے بھی ممکن نہیں رہتی۔ بات صرف ایک نجم سیٹھی کی نہیں۔ افسوس رویوں کا ہے کہ ہم کسی کو اس کی محنت کا کریڈٹ بھی دینے کو تیار نہیں ہیں۔ فرض کیجیے آج کوئی ایونٹ، منصوبہ یا چیز ’’برانڈ‘‘ کا درجہ اختیار کر لیتی ہے اور آج اس پہ محنت کرنے والوں کو ہم مستقبلِ قریب و بعید میں پوچھیں بھی نہیں کہ بھئی، تم نے ہمارے لیے بہت کام کیا، تو کیا یہ اخلاقیات کے تقاضوں میں آئے گا؟ یقینا نہیں۔
راقم الحروف کو ذاتی حیثیت میں نہ تو نجم سیٹھی سے کوئی خاص اُلفت رہی ہے، نہ کوئی مطلب ہی ہے (اُن کے صحافتی اقوال کی بسا اوقات مخالفت ہی کی ہے) لیکن جس طرح انہوں نے اس مقابلے کے دور میں پی ایس ایل کو ایک برانڈ بنایا اور جیسے وہ ملک میں کرکٹ کی بحالی میں پیش پیش رہے، ان کو بہرحال ایسے موقع پہ بھولنا نہیں چاہیے تھا۔جس وقت پی ایس ایل برانڈ کے طور پر شدید مشکلات میں ہو، انڈین پریمیر لیگ تو کجا بنگلہ دیش پریمئر لیگ بھی کامیابی کے حوالے سے پی ایس ایل سے آگے جا رہی ہو، تو اس موقع پر اس پراجیکٹ پہ دن رات ایک کرنا یقینی طور پر عام بات نہیں تھی۔ حد تو یہ کہ ملک میں کرکٹ کی واپسی ہو، اس کا سبب بننے والا شخص بھرے سٹیڈیم میں مخاطب ہو اور مجمع سیاسی نعروں سے اس کی شرمندگی کا باعث بھی بن رہا ہو اور اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب نہ ہو، لیکن ہم اسی مسکراتے چہرے کی آنکھوں میں آنسو لے آئے۔ وقت شاید اب بھی گزرا تو نہیں۔ ابھی سفر جاری ہے۔ ’’پی ایس ایل فور‘‘ کا تو کاش کوئی عقلمند ایسا ہو جو اختتامی تقریب میں اس غلطی کا ازالہ کر دے، اور جہاں نشست پہ مطلوب و مقصود براجمان تھے، اُس کے ساتھ ایک کرسی اُس شخص کے لیے بھی لگا دی جائے جس کی محنت سے آج پی ایس ایل پوری دنیا میں اپنی دھاک بٹھا چکی ہے۔
ہمارے عمومی رویے بطورِ قوم ہمارا تشخص عالمی دنیا میں اجاگر کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ہم کو اپنے گریباں میں جھانکنا ہوگا کہ اگر ہم ملک کے لیے ایسے موقع پر کہ جب حالات سازگار نہ ہوں کام کرنے والوں کو بھی یوں ہی نظر انداز کرتے رہے، تو کہیں دنیا ہمیں احسان فراموش قوم نہ سمجھنا شروع کر دے کہ ہم تو ان لوگوں کی قدر نہیں کر سکتے جو مشکل حالات میں ہمارا ساتھ دیتے ہیں۔ سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھیے اور خدمات کا صلہ بے شک نہ دیجیے، لیکن کم از کم خدمات کو ماننا تو شروع کر دیجیے۔کیوں کہ جو ہم نے پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب میں اس ایونٹ کو کامیاب کرنے والے کے ساتھ کیا ہے، ویسا ہی اگر اختتامی تقریب میں بھی ہم کرگئے، تو یقینی طور پہ انا جیت جائے گی لیکن محبت ہار جائے گی۔

……………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے