385 total views, 1 views today

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی رواں ہفتے پاکستان آمدکو غیر معمولی اہمیت کا دورہ سمجھا جا رہا ہے۔ وہ سعودی عرب میں اس وقت سب سے طاقتور اور تیزی سے فیصلے کرنے اور ان پر عمل درآمد کرانے والی شخصیت کی شناخت رکھتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ دوستانہ اور اسٹرٹیجک تعلقات کی وہ تجدید کرنے آ رہے ہیں۔ گذشتہ دس بارہ برسوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں سرد مہری آچکی تھی۔ عمران خان کے وزیرِ اعظم منتخب ہونے کے بعد سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں نہ صرف گرم جوشی پیدا ہوئی بلکہ سعودی عرب نے پاکستان کی ڈوبتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کے لیے گراں قدر مالی امداد بھی فراہم کی۔
محمد بن سلمان کا دورۂ پاکستان تعلقات کو مزید وسعت اور گہرائی عطا کرے گا۔ شنید ہے کہ سعودی عرب پاکستان میں پندرہ ارب ڈالر سے اوپر سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ بقولِ وزیرِ خزانہ اسد عمر پاکستان کی تاریخ کی یہ سب سے بڑی بیرونی سرمایہ کاری ہوگی۔ پاکستان کی بیمار معیشت کے لیے یہ سرمایہ کاری تریاق کا کام کرے گی۔ گذشتہ چھے ماہ میں پاکستان کی براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری اسٹیٹ بینک کے مطابق پچاس فی صد سے زائد گری۔ روپے کی ڈالر کے مقابلے میں تینتیس فی صد قدر کم ہوئی۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان کی مدد کو نہ آتے، تو دیوالیہ ہونے کا خدشہ کب کا حقیقت بن چکا ہوتا۔ سعودی عرب نے نہ صرف پاکستان کو تین برسوں تک ادھار تیل فراہم کرنے کا اعلان کیا بلکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں اربوں ڈالر بھی رکھوائے، تاکہ پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ سکے۔ پاکستان کے ساتھ دوستی اور محبت کی روایت محمد بن سلمان کے دادا شاہ عبدالعزیز مرحوم نے ڈالی۔ اب تیسری نسل اس سلسلۂ مہر و وفا کو نبھا رہی ہے۔ اس عرصے میں جہاں دنیا بدلی وہاں عالمِ عرب کی سیاست اور معیشت میں بھی دور رس تبدیلیاں رونما ہوئیں، لیکن پاکستان سعودی عرب اور سعودی عرب پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون رہے ہیں۔ سعودی عرب میں حکمران خاندان کی نئی نسل زمامِ کار سنبھال چکی ہے ۔ کاروبارکے فروغ، مملکت کو ترقی دینے، علاقائی سیاسی اور سماجی اثر و رسوخ کو خطے میں قائم رکھنے اور بڑھانے کے لیے جو مسلسل فکر مند ہے۔ دوسرے ملکوں کے تعلقات کو وہ ملکی مفاد کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ سعودی حکمرانوں کی نئی نسل کاروبار اور باہمی مفاد پر تعلقات استوار کرنے پر مائل ہے۔ پاکستان کو امداد، مفت تیل اور ادھار حاصل کرنے سے اُوپر اٹھ کر کاروباری روابط کو وسعت دینے اور دو طرفہ معاشی انحصار بڑھانے جیسے اقدامات کرنا ہوں گے۔
محمد بن سلمان نے حالیہ برسوں میں جہاں داخلی معاملات میں سخت گیری سے کام لیا، وہاں کئی ایک اصلاحات بھی متعارف کرائیں۔ قبائلی روایات کی جکڑ بندیوں اور ملائیت کے اشتراک نے سعودی شہریوں کی آزادیوں پر ناروا پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔
محمد بن سلمان نے بند معاشرے کو بڑی حد تک کھولا۔ شہریوں کو سماجی آزادی دی۔ قدامت پسندی اور روایتی نظام پر اَڑنے کی بجائے انہوں نے اصلاحِ احوال کی طرح ڈالی۔ تفریح کے مواقع میں وسعت پیدا کی۔ اسلام اور سعودی عرب کا مثبت اور تعمیری چہرہ دکھانے کے علاوہ، بقائے باہمی اور تکثیریت کے اصولوں کو رواج دینے کی کوشش کی۔ ان اقدامات نے دنیا میں سعودی عر ب کے مثبت امیج کو ابھارا۔ محمدبن سلمان سعودی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی بھی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اگلے ایک ڈیڑھ عشرے میں پٹرول کی قیمت میں غیر معمولی کمی واقع ہونے کا امکان ہے۔ سائنسی ایجادات کی بدولت ٹرانسپورٹ کا لگ بھگ پورا نظام بیڑی پر منتقل ہونے جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگلے کچھ برسوں سے تمام بڑی کمپنیاں پٹرول پر چلنے والی گاڑیاں بنانا بند کر دیں گی۔ اس پس منظر میں سعودی عرب بھی معیشت کو جدید خطوط پر ڈھالنے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہا ہے۔ سیاحت، سائنس، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کے لیے خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے۔ غیر ملکی محنت کشوں پر انحصار کم کیا جا رہا ہے۔ سعودی شہریوں کو ہر شعبۂ زندگی میں ذمہ داریاں سونپی جا رہی ہیں۔ عورتوں کو روزگار فراہم کرکے معیشت کا فعال حصہ بنانے کے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ محمد بن سلمان ابھی محض 33 برس کے ہیں، لیکن کاروبارِ سلطنت چلا رہے ہیں۔ ان کے والد شاہ سلمان بن عبدالعزیز روزمرہ کے امور میں دخل نہیں دیتے۔ اگرچہ انہیں شاہی خاندان کے اندر کئی ایک طاقتور حریفوں کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگلے کئی عشروں تک وہ سعودی عرب کے حکمران رہیں گے۔ اگر حالات معمول کے مطابق رہے، تو ان کا شمار بھی طویل عرصے تک حکمران رہنے والی شخصیت میں ہوسکتا ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان کے محمد بن سلمان کے ساتھ سرکاری سطح پر تعلقات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون اور شراکت داری کی ایک طویل تاریخ ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب کی فوج کو تربیت دینے اور منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے بھی حکومت اور افواجِ پاکستان کے سربراہوں نے ہمیشہ غیر متزلزل عزم کا اظہار کیا ہے۔ ان تعلقات میں وقت کے ساتھ وسعت آئی ہے۔ دونوں ممالک کی افواج اور خفیہ اداروں میں پائی جانے والی شراکت داری خطے کے استحکام کے لیے ایک اثاثہ ہے۔ محمد بن سلمان کے دورے سے پاکستان میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات روشن ہوجائیں گے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔ غالباً اسی پس منظر میں حکومت نے دنیا کے ایک سو پچاس ممالک کے لیے "ای ویزہ” (E-Visa) کی سہولت کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے علاوہ غیر ملکیوں کو کہیں آنے جانے کی اجازت نہ تھی۔ اب اس پابندی کے خاتمے کی منادی کرا دی گئی ہے۔ نوکر شاہی نے ان اصلاحات پر ان کی روح کے مطابق عمل ہونے دیا اور سیاست دانوں کی باہمی چپقلش میں کچھ کمی آئی، تو اگلے چند برسوں میں پاکستان ایک بدلا ہوا ملک ہوگا، اِن شا اللہ!

……………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے