423 total views, 1 views today

افغانستان کے امن مفاہمتی عمل میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات میں جزوی کامیابی کے بعد پاکستان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے۔ بلاشبہ پاکستان نے افغان تنازعہ کے حل میں مؤثر کردار ادا کیا ہے، لیکن اس حوالہ سے مکمل کریڈٹ لینے میں اربابِ اختیار کو محتاط رویے کی بھی ضرورت ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ بیان بدلتے دیر نہیں لگاتے۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات نے اس کا اظہار تو کیا کہ صدر ٹرمپ پاکستان سے بہت خوش ہیں، لیکن ہمیں یہ اچھی طرح سمجھنا چاہیے کہ پاکستان کے لیے امریکی صدر کے رویے میں لچک زیادہ حوصلہ افزا اس لیے نہیں کہ امریکی صدر نے پاکستان کو "کولیشن فنڈ” کے واجبات ابھی تک جاری نہیں کیے، جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا حق ہیں۔ کولیشن فنڈ کی مد میں امریکہ، پاکستان کے واجبات ادا کرنے کا پابند ہے۔ اگر امریکہ کی جانب سے پاکستانی واجبات کا نصف بھی مل جاتا ہے، تو پاکستان معاشی مسائل سے باہر نکل سکتا ہے، لیکن امریکہ، پاکستان کے جائز واجبات غیر منطقی طور پر ادا نہیں کر رہا۔ اس کا واضح مطلب یہی نکلتا ہے کہ امریکہ اب بھی پاکستان کو دباؤ میں رکھنے کے لیے تعاون کرنے میں پس و پیش سے کام لے رہا ہے۔ مفاہمتی تنازعہ کے حل کے حوالہ سے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ "پاکستان، افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ایک سہولت کار تھا اور ہم نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لاکر اپنا کام پورا کردیا۔” میجر جنرل آصف غفور کا غیر ملکی اخبار کو انٹرویو میں کہنا تھا کہ "ہم نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لاکر اپنا کام پورا کر دیا۔ اب کیا بات چیت ہوتی ہے اور یہ عمل کیسے آگے بڑھتا ہے؟ اس کا انحصار ہونے والی ہر ملاقات کی پیش رفت پر ہے۔ اس عمل میں طالبان کے کئی گروپ اور اسٹیک ہولڈرز ہیں، جن سے رابطے میں وقت لگتا ہے۔”
افغانستان میں امن کی سب سے زیادہ ضرورت جس طرح افغان عوام کو ہے، اُس سے کہیں زیادہ پاکستان کو بھی ہے۔ کیوں کہ افغانستان میں اس وقت پاکستان کے خلاف سازشی عناصر نے ڈیرا ڈالا ہوا ہے۔ مزار شریف میں پاکستانی سفارت خانے میں دہشت گردی کی کوشش سے پاکستان کو پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان کے کردار پر ملک دشمن عناصر کو تکلیف ہو رہی ہے، تاہم یہاں حکومتی وزرا کو افغانستان میں پائیدار عمل میں بلندبانگ دعوؤں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ امریکہ اس حد تک کامیاب رہا ہے کہ افغان طالبان کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو مستقبل میں ہمارے خلاف بھی استعمال کرسکتا ہے۔ امریکہ اب یہ کہنے کی پوزیشن میں آچکا کہ افغان طالبان اور حکومتِ پاکستان کے درمیان اثر نفوذ موجود ہے۔ پاکستان نے عجلت میں امریکی صدر کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کی تجویز مان لی تھی کہ اسلام آباد میں افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کرائے جائیں، تاہم افغان طالبان نے اسلام آباد میں مذاکرات کرنے سے انکار کرکے پاکستان کو کئی بڑے مسائل سے بچا بھی لیا۔ کابل انتظامیہ مفاہمتی عمل میں شریک نہیں۔ افغان طالبان نے سعودی عرب و متحدہ عرب امارات کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبات بھی رد کر دیے ہیں۔ قطر اس وقت مذاکرات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ گو متحدہ عرب امارات و سعودی عرب میں امریکہ کے ساتھ افغان طالبان کے براہِ راست مذاکرات کا کریڈٹ لینے کا رجحان نہیں۔ پاکستان اس وقت امریکہ کے ماضی کے کردار پر مکمل بھروسا کرنے کی بجائے محتاط رویہ اپنائے، تو زیادہ بہتر ہوگا۔ کیوں کہ کابل انتظامیہ اور بھارت تمام مفاہمتی عمل میں اپنا کردار چاہتے ہیں۔ افغانستان کے سابق وزیر داخلہ امر اللہ صالح کے ٹویٹ اور اشرف غنی و عبداللہ عبداللہ انتظامیہ کا ردِعمل بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے۔
ایک جانب عالمی میڈیا میں یہ اطلاعات آ چکی ہیں کہ 18 مہینے میں امریکی فوجی انخلا کے ایک فارمولے پر حتمی گفت و شنید ہوچکی ہے، لیکن زلمے خلیل زاد جب کابل گئے، تو انہوں نے اس کی تردید کر دی کہ مدت کے تعین پر کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔ افغان طالبان بھی کہہ چکے ہیں کہ غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کے بغیر جنگ بندی نہیں ہوگی، تو اس صورت حال میں کامیابی کے علاوہ ناکامی کے نتائج کو مدِنظر رکھنا چاہیے کہ کہیں امریکی صدر، دوبارہ اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال نہ دیں۔ افغان مفاہمتی عمل کی مکمل کامیابی میں کئی دشوار گزار مراحل باقی ہیں، جس میں سب سے اہم مسئلہ افغانستان کے حکومتی نظام کا ہے۔ افغانستان کا نظام کون سا ہوگا؟ اس پر ڈیڈلاک کسی بھی مرحلے میں آسکتا ہے اور مسلکی اختلافات بھی کھل کر افغانستان میں بھیانک خانہ جنگی کو جنم دے سکتے ہیں، جس سے پاکستان براہِ راست متاثر ہوسکتا ہے۔ امریکہ نے اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی کہ افغانستان کے کس حصے میں کس مسلک کو اقتدار دیا جائے گا؟ امریکہ "مسلکی خانہ جنگی” کا خواہاں ضرور ہوسکتا ہے کہ کسی طرح یہ فرقہ وارانہ خانہ جنگی میں ایران اور افغان طالبان کے درمیان ٹھن جائے، تاکہ ایران، مملکتِ شام و عراق کے ساتھ افغانستان کی جنگ میں الجھ جائے اور اسرائیل کو ایران سے خطرات کم ہوسکیں۔
بھارت کا کردار افغانستان میں اس وقت بہت اہم ہے۔ کیوں کہ اس نے بھاری سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ کابل انتظامیہ اور دہلی کا گٹھ جوڑ عروج پر ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کے لیے خطرات موجود ہیں۔ خاص طور پر شمالی مغربی علاقوں میں ریاست کے خلاف پروپیگنڈے کیے جا رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔
پاکستان نے جب فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ پرائی جنگ کا ہتھیار نہیں بنے گا، تو پھر مستقبل میں افغانستان کے نئے خدوخال کو مدِنظر رکھتے ہوئے مثبت و منفی پہلوؤں پر حکومتی وزرا اپنے بیانات میں بردباری کا مظاہرہ کریں۔ دُور اندیشی کا تقاضا یہی ہے کہ پاکستان مشترکہ اعلامیے کو یقینی بنائے۔ افغان طالبان اور امریکہ سمیت کسی بھی فورم میں پاکستان جو بھی کردار ادا کرتا ہے، تو وہ اس فورم کا مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرے، تاکہ علیحدہ علیحدہ بیانات سے کسی بھی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان اب مذاکرات اس نہج پر آچکے ہیں کہ انہیں مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کرنا چاہیے، تاکہ اس طریقے سے افغانستان میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والوں کی سازش کامیاب نہ ہوسکے۔ امریکہ کو اب پاکستان کی اہمیت کا مکمل ادراک ہے۔ اس لیے پاکستان اپنے حق سے دستبردار نہ ہو اور جو واجبات امریکہ کے ذمے ہیں، ان کی ادائیگی کا مطالبہ بھی کرے۔ خاص طور پر پارلیمان کو افغان مفاہمتی عمل میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے اور پارلیمانی کمیٹی بناکر مستقبل میں آنے والے چیلنجوں کی تیاری کی جائے۔

……………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے