464 total views, 1 views today

اُمید رکھئے کہ مستقبلِ قریب میں وزارتِ تصحیح بیانات کا قیام نہ صرف عمل میں لایا جائے گا بلکہ اس وزارت کے آغاز میں ہی ہمیں بہت سے بندے بھی بھرتی کرنا ہوں گے۔ کیوں کہ اس وزارت کا کام دیگر تمام وزارتوں سے نہ صرف زیادہ ہوگا بلکہ یہ وزارت دن دوگنی رات چوگنی ترقی بھی کرے گی۔ اس وزارت کا صرف اور صرف کام یہ ہو گا کہ یہ مہان راہنماؤں کے دیے گئے بیانات کی درستی کا کام سر انجام دے گی۔ پاکستان میں کیوں کہ ایک واحد بیان دینا ہی ایسا کام ہے جس کے لیے نہ کوئی قابلیت درکار ہوتی ہے، نہ ہی کسی بھی قسم کا تجربہ۔ لہٰذا وافر مقدار میں بیانات میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ اس لیے جلد ہی اس وزارت کے قیام کی ضرورت یقینی طور پر محسوس ہو گی اور اس وزارت کے بیشتر اُمور یقینی طور پر حکومتِ وقت کے حوالے سے ہی ہوں گے۔ کیوں کہ آج کل بیانات کا سونامی یہاں سے ہی اُٹھ رہا ہے اور ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے رہاہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے دل شاد ہوا کہ اب ہم وہ گھسی پٹی سیاسی روایات سے یقینا نکل آئیں گے۔ دل باغ باغ تھا کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ ہم وہی دو جماعتی باریوں کے نظام سے نکل آئے ہیں۔ تبدیلی آنہیں رہی، بلکہ آ چکی ہے کہ سالہا سال کی مستقل مزاجی کے بعد حکومت ایک ایسی پارٹی کو ملی ہے کہ جس کے آسے پاسے سے کبھی کسی کے پاس اقتدار نہیں رہا (باقی پارٹیوں سے ٹوٹ کے جو پھل یہاں آیا، اس کا یہاں ذکر نہیں ہے، وہ شجرِ سایہ دار الگ ہیں)۔ اس کے علاوہ آپ ایک لمحہ ٹھہرئیے اور غور کیجیے کہ پہلے کے حکمرانوں میں ایسا کیا برا تھا جو ہم ان میں نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ آپ ذرا لندن معاہدے، میثاقِ جمہوریت اور باریا ں طے کر لینے سے کچھ پیچھے چلے جائیے۔ بی بی شہید کی حکومت نے دو دفعہ اقتدار سنبھالا لیکن حکومت پوری نہ کرنے دی گئی(وجوہات جو بھی ہوں)۔ میاں صاحب نے دو مرتبہ عنانِ اقتدارحاصل کی لیکن یہاں بھی حکومت نہ چلی(غلطیاں اپنی تھیں یا کسی اور کی وجوہات کا ذکر نہیں)۔ لیکن جتنا عرصہ یہ دونوں پارٹیاں اقتدار میں رہیں، مخالف کی کردار کشی، بیان بازی، ذاتیات کے بخیے ادھیڑنے کا سلسلہ جاری و ساری رہا اور اس کام کے لیے کچھ لوگوں کو باقاعدہ ’’ڈیوٹیاں‘‘ دی جاتی تھیں کہ وہ حزبِ مخالف کو سکون کا سانس نہ لینے دے اور کوئی نا کوئی ایسا بیان سامنے آتے رہنا چاہیے، جو موضوعِ بحث بنا رہے اور یقینی طور پر ایسا ہوتا بھی رہا۔ اس کے بعد احتساب کا ایک ایسا عمل شروع کیا گیا کہ جس میں ملک کے مفاد سے زیادہ ذاتی اختلافات نپٹانے کا عمل دخل زیادہ رہا۔ تحریک انصاف کی کامیابی میں محبت سے زیادہ دو جماعتی نظام کے خلاف دلوں میں پروان چڑھتی ’’نفرت‘‘ تھی۔
حکومت نئی بن گئی۔ نئے اور پرانے نمائندوں کا ایک امتزاج سا بھی اسمبلیوں کا حصہ بن گیا۔ امیدیں تو پہلے سے ہی جواں تھیں کہ یقینا اب حالات پہلے جیسے نہیں رہیں گے اور ہم کو ایک نئی صبح کی نوید ملے گی۔ چند ماہ تو خوشیاں منانے میں ایسی مصروفیت رہی کہ ہم پاکستانیوں کو معلوم ہی نہ ہوا کہ حقیقتاً تبدیلی کتنی آئی ہے؟ 18اگست 2018ء کہ جب موجودہ وزیر اعظم نے ملک کے بائیسویں وزیر اعظم کا حلف لیا، کے بعد سے نہ صرف وکٹری سپیچ کہیں پیچھے چلی گئی ہے، بلکہ انتخابی وعدے اور دعوے بھی گرد میں گم ہو چکے ہیں۔ سونے پہ سہاگا تو یہ ہوا کہ کہ ہم جن سیاسی روایات سے تنگ تھے، وہی بھی ہمیں ہماری جان چھوڑتی نظر نہیں آ رہیں۔ سیاست پاکستان میں گالم گلوچ کلب کا کاروبار بن چکا تھا، لیکن آج کیا ہے؟ آج بعض وزرا کے روز کے بیانات اُٹھا کے دیکھئے، کیا کچھ نیا پن نظر آتا ہے؟ نعرۂ احتساب سب کا تو ہم نے سنا، لیکن کیا آج واقعی سب کا احتساب ہو رہا ہے؟ ہم خوش ہوئے کہ چلو کوئی حکومت تو آئی، جو کشکول توڑے گی، لیکن یہ کیا آتے ہی ڈھنڈورا کہ خزانہ خالی ہے؟ بھئی، تو پچھلے نظامِ حکومت خالی خزانے سے کیسے چلا رہے تھے؟ چلئے، مدد ملے دوستوں سے، تو دوست ہی مصیبت میں کام آتے ہیں، لیکن اب یہ کیا سن رہے ہیں کہ دوستوں کو دیے گئے قرض پہ ہمیں سود ادا کرنا ہو گا؟ اور اگر ادا کرنا ہے، تو سوائے عوام کے یہ بندوبست کہاں سے ہوگا؟ تاجر ناراض ہیں، ملازمین پریشان ہیں، کاروبار مشکل ہو رہے ہیں، اشیائے ضرورت پہنچ سے باہر ہو رہی ہیں، افسوس کا مقام تو یہ کہ جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، اوورسیز سے پیسہ آ نہیں رہا، یہ ہو کیا رہا ہے؟ کہاں گئے وہ ارسطو و افلاطون دماغ جو کہتے تھے کہ ہمیں آنے دیں، دِنوں میں یہ ملک اوپر جائے گا۔ اوپر تو نہیں گیا البتہ ساکت و جامد ہوتا جا رہا ہے امیدوں کا سمندر۔ ڈیم فنڈ پہ منصفِ اعلیٰ کا افسوس یقینا حق بجانب ہے کہ ہم تو اس امید پہ تھے کہ ایک پکار ہوگی، کھربوں اکھٹے ہوں گے۔ یہاں تو الٹا لینے کے دینے پڑگئے ہیں۔ کہاں ہیں وہ نعرے، اور کہاں ہیں وہ نعرے لگانے والے؟ پاکستانیوں کو ان جمع تفریق کے ماہر دماغوں سے ملنا ہے کہ جو اقتدار ملنے سے پہلے دہائیاں دیتے تھے کہ ہمیں موقع ملنے دو پھر دیکھنا۔ کہاں ہیں وہ لوگ جو کہتے تھے ہم ایک نیا سیاسی ماحول مہیا کریں گے؟ کیوں کہ آج جو زبان کے انداز اب دیکھے جا رہے ہیں، وہ تو اس پہلے دیکھے نہ سنے۔
کوئی شک نہیں کہ کشکول آپ توڑ رہے ہوں گے (بے شک نظر نہیں آ رہا پھر بھی)۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں خزانہ آج خوش ہے کہ چھے ماہ سے اِسے کسی نے لوٹا نہیں ہے۔ لیکن خدارا! عقل مند دماغوں والو……! ہمیں یہ بھی بتاؤ کہ عوام کو محسوس کیوں نہیں ہو رہا کہ ’’تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ آ چکی ہے۔‘‘ ہم تو توقع کیے بیٹھے تھے کہ زبان نہیں ، کارکردگی بولے گی۔ لیکن ہم تو صبح و شام ویسے ہی بدزبانی کا عملی مظاہرہ دیکھ رہے ہیں جیسا پہلے تھا۔ سوچا تھا دعوے نہیں عملی کام ہوگا، لیکن اب بھی عوام تو پستے جا رہے ہیں مگر دعوے قائم ہیں۔ توقع تھی کہ ہمیں ایسی تبدیلی ملے گی کہ غریب مسکرائے گا، لیکن یہاں تو غریب کا چہرہ مزید مرجھاتا جا رہا ہے۔ خزانہ بھر چکا ہے، لیکن دماغ شاید ان کے خالی ہیں کہ سوچ نہیں پا رہے کہ اگر خزانہ بھر بھی چکا ہے، تو تبدیلی کہاں کھو گئی ہے؟

………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے