173 total views, 1 views today

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ہمارے وزیر اعظم عمران خان کی طرح رجائیت پسند، دبنگ اور یوٹرن کی ماہر شخصیت ہیں۔ گذشتہ روز کابینہ اجلاس کے دوران میں اپنی گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ ’’میں پاکستان کی نئی قیادت سے جلد ملاقات کا منتظر ہوں۔ یہ ملاقات اب زیادہ دور کی بات نہیں۔‘‘ اسی سانس میں ٹرمپ نے امریکہ کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا دفاع کرتے ہوئے اسے درست اقدام قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ افغانستان کے استحکام کے لیے روس، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کو کردارادا کرنا چاہیے نہ کہ پانچ ہزار میل دور سے امریکہ آکر افغانوں کی مدد کرے۔
سب سے دلچسپ بات صدر ٹرمپ نے یہ کی کہ روس افغانستان میں اس لیے گیا تھا کہ دہشت گرد روس میں داخل ہورہے تھے۔ روس کو افغانستان میں مداخلت کا حق تھا۔
اس کا مطلب ہے کہ سابق سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت جائز تھی۔ اگر اس نقطۂ نظر کو مان لیا جائے، توپھر امریکہ او رپاکستان کی لیڈرشپ میں سوویت یونین کے خلاف کی جانے والی مزاحمت کی تاریخ اور پس منظر نئے سرے لکھنا اور بیان کرنا پڑے گا۔ ٹرمپ کی ہی طرح دنیا کے اکثر سیاسی لیڈر تاریخ سے نابلد ہیں۔
افغانستان میں جاری طویل اور نہ ختم ہونے والی جنگ نے امریکی اسٹیبلشمنٹ کو بری طرح تھکا دیا ہے۔ القاعدہ کے حملوں کا خطرہ ٹلنے سے امریکی رائے عامہ افغانستان میں دلچسپی کھو بیٹھی ہے اور اسے قومی وسائل پر بوجھ تصور کرتی ہے۔ چناں چہ صدر بارک اوباما نے سب سے پہلے افغانستان سے افواج نکالنے کا اعلان کیا تھا، لیکن وہ ایسا نہ کرسکے۔ ٹرمپ نے بھی الیکشن مہم کے دوران میں یہ وعدہ کیا تھا اور اب وہ ہر صورت میں اس پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہیں۔ افغانستان سے فوجی انخلا کے پس منظر میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کا ایک سلسلہ چل رہا ہے جو قطر اور ابوظہبی سے ہوتا ہوا اسلام آباد تک پھیلا ہوا ہے۔ پاکستان کا روزِ اوّل سے مطالبہ تھا کہ امریکہ، طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے افغان مسئلہ کا سیاسی حل تلاش کرے۔ چناں چہ پاکستان نہ صرف پوری طرح امریکہ کے ساتھ ایک صفحے پر ہے بلکہ طالبان کو مذاکرتی میز پر لانے اور انہیں اس برس جولائی میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں حصہ پر آمادہ کرنے کا خواہش مند بھی ہے۔ ماضی میں مذاکراتی عمل کی ناکامی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ پاکستان کو امریکہ اور اس کے اتحادی پوری طرح اعتمادمیں نہیں لیتے تھے۔ اس مرتبہ صورتحال بالکل برعکس ہے۔ پاکستان مذاکراتی عمل کا حصہ ہے اور سرگرم شریکِ کار بھی ہے۔
حالیہ کچھ برسوں سے روس، چین اور ایران نے بھی پاکستانی نقطۂ نظر کی اصابت کا ادراک کیا اور طالبان کے ساتھ مختلف سطحوں پر رابطوں اور مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا۔ ماسکو، بیجنگ اور اب تہران میں طالبان کے لیڈروں کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔ ابوظہبی والے مذاکرات میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی اعلیٰ سطح کے حکا م کی موجودگی اس امر کی غمازہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی اپنا پورا وزن مذاکراتی عمل کے حق میں ڈال چکے ۔
طالبان وفد میں حقانی گروپ کے بھی تین نمائندے شامل تھے۔ یاد رہے کہ حقانی گروپ پہلی بار کسی مذاکراتی عمل کا حصہ بنا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ گروپ پاکستان کے ساتھ قریبی روابط رکھتا ہے۔ طالبان رہنماؤں نے ابوظہبی میں امریکی اور پاکستانی حکام کے ساتھ دل کھول کر باتیں کیں، لیکن انہوں نے افغان حکومت کے سرکاری وفد سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔ افغان حکومت، طالبان کے اس غیر مفاہمانہ رویہ پر سخت شاکی ہے۔ صدر اشرف غنی نے ردعمل میں کابینہ میں امراللہ صالح جیسے طالبان مخالف شخصیات کو شامل کرکے پیغام دیا کہ طالبان کو امریکیوں کے علاوہ خود افغانستان کی منتخب حکومت کے ساتھ بھی مفاہمت کا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ ورنہ ’’ہنوز دلی دور است‘‘ والا معاملہ ہوجائے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ طالبان نے جنگ بندی کیے بغیر امریکہ کے ساتھ مذاکرات شروع کیے۔ خاص طور دسمبر میں ابوظہبی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران میں اور مابعد کئی ایک پُرتشدد کارروائیوں کی ذمہ داری وہ قبول کرچکے ہیں۔ انہوں نے امریکہ سے مکمل فوجی انخلا اور افغانستان پر فضائی بمباری بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ فضائی بمباری کا مطالبہ کرنا اس لیے بھی ضروری تھا کہ محض گذشتہ سال دوہزار کے لگ بھگ افغان شہری امریکی فضائی بمباری سے شہید کیے گئے۔
امریکہ کے افغانستا ن سے فوری انخلا کی کوئی بھی علاقائی طاقت حامی نہیں۔ طاقت کا ایک ناقابل عبور خلا پیدا ہوسکتا ہے۔ افغان دھڑوں میں کابل پر قبضے یا پھر افغانستا ن کے مختلف حصوں پربالادستی کی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ خاص طور پر پاکستان اور ایران سخت پریشان ہیں۔ وہ بتدریج انخلا چاہتے ہیں تاکہ خانہ جنگی کی کیفیت پیدا نہ ہو۔ پاکستان میں پہلے ہی لاکھوں افغان مہاجریں آباد ہیں، وہ مزید کی مہمان نواز کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ امریکی صدر کو پاکستان کے ساتھ تعلقات میں وسعت لانے کی دیر سے ہی سہی لیکن اہمیت سمجھ آگئی۔ پاکستان کو دیوار کے ساتھ لگانے اور اسے افغانستان کے مستقبل کا لائحہ طے کرتے وقت نظر انداز کرنے کی پالیسی بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ یہ پاکستان ہی ہے جو امریکیوں اور طالبان کو ایک میز پر بٹھانے میں کامیاب ہوا۔ یہ پاکستان ہی تھا جو ستّر کی دھائی میں امریکہ اور چین کے مابین رابطوں کا ذریعہ بنا تھا۔دونوں ملکوں میں سرد مہری ختم ہوئی اور رفتہ رفتہ چین اور امریکہ کے درمیان سفارتی اور تجارتی تعلقات میں گرم جوشی پیدا ہوئی۔ ایک بار پھر پاکستان کے طالبان کے ساتھ رابطے امریکہ کے کام آئے اور دونوں متحارب قوتیں شیر وشکر ہو رہی ہیں۔ امید ہے کہ مذاکرات کی بیل منڈھے چڑھ گی اور دونوں ممالک مل کر افغانستان کو امن اور سیاسی استحکام کا تحفہ دینے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔
امریکہ کے ساتھ کشیدگی سے پاک اور معمول کے تعلقات پاکستان کے سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی ملک سے کٹ کر بھی آپ شان وشوکت کے ساتھ رہ سکتے ہیں لیکن امریکا سے دامن بچاناخاص کر پاکستان کے لیے ممکن نہیں۔ پاکستان کا محل وقوع ہی ایسا ہے کہ دنیا کی ہر بڑی طاقت اس پر نظریں گاڑے رکھتی ہے۔

………………………………………………………..



لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے