382 total views, 1 views today

اب ملک کی مجموعی صورتحال بڑی دلچسپ نظر آ رہی ہے۔ ایک طرف نواز شریف اور مریم نواز، تحریکِ انصاف حکومت کی تنزلی اور بحران کا انتظار کر رہے ہیں اور اس کے لیے تیاری بھی کر رہے ہیں، جب کہ دوسری طرف نواز لیگ میں اپنے دھڑے کو مضبوط بنانے کی کوشش جاری ہیں، لیکن اس سارے عمل کے لیے وقت شاید ان کے پاس زیادہ نہیں ہے۔ کیوں کہ تحریک انصاف کی حرکات اور معاشی جبر کی وارداتوں کے پیشِ نظر، سرمایہ دار تجزیہ نگار بھی اس حکومت کی طوالت کے اندازے کم کرتے چلے جا رہے ہیں۔
تحریکِ انصاف میں کوئی فارورڈ بلاک بننے یا بن کر پنپنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ کیوں کہ عمران خان کی شخصیت پرستی جس کی بنیاد پر ساری پی ٹی آئی کھڑی ہے، کے بغیر کوئی دھڑا چل نہیں سکے گا بلکہ عمران خان کی شخصیت پرستی کا سحر ٹوٹنے کی صورت میں یہ مصنوعی پارٹی بالکل ہی بکھر جائے گی۔ ایسا جلد بھی ہوسکتا ہے لیکن اگر حکومت کا بحران بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، تو عمران خان اپنے آقاؤں کی مرضی اور مفادات کے خلاف حرکتیں کرکے ’’سیاسی شہید‘‘ بننے کی کوشش بھی کرسکتا ہے۔
جنوبی پنجاب میں سرائیکی قومیت کی تحریک بھی کئی سطحوں پر موجود رہی ہے: ’’اساں قیدی تختِ لاہور دے‘‘ کا نعرہ یہاں مشہور رہا ہے، لیکن جنوبی پنجاب کے حاکم طبقات بھی اتنے ہی ظالم ہیں جتنے کسی بھی دوسرے خطے کے ہوسکتے ہیں۔ نسل در نسل یہاں کے دہقانوں، مزارعوں اور مزدوروں کا خون چوسنے والی یہ شخصیات سب ’’خاندانی‘‘ اور ’’جدی پشتی‘‘ امیر ہیں، جنہیں انگریز آقاؤں سے وفاداری کے صلے میں جاگیریں عطا ہوئی تھیں۔ ان وڈیروں، پیروں اور گدی نشینوں کی نئی نسلیں اب کچھ پڑھ لکھ کر سرمایہ دارانہ جبر و استحصال کے ہتھکنڈے سیکھ کر زیادہ تر منافع خوری کے عمل میں سرگرم ہیں۔ عثمان بزدار جیسے ’’غریب‘‘ قبائلی سردار کو پنجاب کا کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بنا کر ایک طرف تو جنوبی پنجاب صوبے کا وہ ایشو دبانے کی کوشش کی گئی ہے جو تحریک انصاف انتخابات سے قبل ابھار رہی تھی، کیوں کہ اول تو اس اقدام کے لیے جو پارلیمانی اکثریت درکار ہے، وہ تحریک انصاف کے پاس نہیں ہے لیکن پھر عثمان بزدار کو بنیاد بنا کر یہ بھونڈا تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ جنوبی پنجاب سے وزیرا علیٰ منتخب کرنے سے علاقے کے سارے مسائل حل ہوجائیں گے، لیکن یہ حکمران عام لوگوں کو کچھ زیادہ ہی بھولا سمجھتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے عوام میں ایسے قبائلی سرداروں کے خلاف نہ صرف نفرت پائی جاتی ہے، بلکہ وہ بہ خوبی جانتے ہیں کہ یہ مقامی سردار، جاگیر دار اور سرمایہ دار بھی ان کی محرومیوں کے برابر کے ذمہ دار ہیں۔
پارٹی سیاست کے حوالے سے اگر ہم ملک کی مروجہ سیاست کا جائزہ لیں، تو ایم کیو ایم سے لے کر جماعت اسلامی اور نواز لیگ سے لے کر پیپلز پارٹی تک ہر پارٹی ایک زوال پذیری اور داخلی تقسیم کا شکارنظر آتی ہے۔ نظریات جوں جوں سیاست سے خارج ہوئے ہیں، دائیں اور بائیں بازو کی تقسیم مٹتی چلی گئی ہے، تو مالیاتی مفادات ہی پارٹی پالیسیوں کی بنیاد بنتے گئے ہیں۔ اس وقت کوئی پارٹی ایسی نہیں جو نچلے طبقے اور وسیع ترعوام میں گہری حمایت اور انہیں متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ لیاری جیسے پیپلز پارٹی کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقے میں جس طرح بلاول کے قافلے پر سنگ باری ہوئی اور پھر وہاں سے پارٹی کی شکست جیسے واقعات سامنے آئے، وہ بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ علاوہ ازیں کراچی میں ایم کیو ایم نے جو ووٹ کھویا ہے، وہ بھی پیپلز پارٹی حاصل نہ کرسکی ہے اور سارا فائدہ تحریک انصاف نے اٹھایا ہے، جو پہلی بار کراچی میں اتنے بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کر گئی ہے۔
زرداری ٹولے نے بھی پیپلز پارٹی کو اپنی بدعنوانی کا اوزار بنا کر رکھ دیا ہے۔ میڈیا پر سارے پارٹی رہنماؤں کا بنیادی کام آصف زرداری کی بد عنوانی کا دفاع کرنا ہے، تاکہ اپنی اپنی اوقات کے مطابق یا بالفاظِ دیگر ’’حصہ بقدرِ جثہ‘‘ وصول کرسکیں۔ اس مقصد کے لیے کبھی جمہوریت کی گھسی پٹی باتیں کی جاتی ہیں، تو کبھی ترقی پسندی کا تاثربھی دیا جاتا ہے۔
ریاست کے ساتھ نواز شریف کے حالیہ تصادم میں پیپلز پارٹی کا طرزِ عمل واضح کرتا ہے کہ یہ کس حد تک آصف زرداری اور فریال تالپور کی کرپشن کے بوجھ تلے دب چکی ہے، بلکہ دفن ہوچکی ہے۔ عام انتخابات کے بعد صدر اور سپیکر وغیرہ کے انتخابات میں ریاستی آقاؤں کے اشاروں پر آصف زرداری نے اپوزیشن کو تقسیم کر کے جس غلیظ طریقے سے تحریک انصاف کو سہارا دیا ہے، اس سے پیپلز پارٹی کے اسٹبلیشمنٹ کی ’’بی‘‘ یا ’’سی‘‘ پارٹی بن جانے کے درست تاثر کو مزید تقویت ملی ہے۔
قارئین، عملی طور پر دیکھا جائے، تو پیپلز پارٹی سندھ تک سکڑ کر ایک علاقائی پارٹی بن چکی ہے۔ زرداری اور فریال تالپور کی ایف آئی اے پیشیوں کے تقاضوں کے مطابق ہی پارٹی پالیسیاں بدلتی ہیں۔ ریاست اور میڈیا پورا زور لگا کر پارٹی کوایک سیاسی قوت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن سندھ میں پیپلز پارٹی، ایم کیوایم کی طرز کی ایک مافیا تنظیم بن چکی ہے اور ملک ریاض کی قبضہ گیری میں زرداری کمیشن ایجنٹ بنا ہوا ہے۔ راؤ انوار جیسے باوردی درندے زرداری اور تالپور کی ایما پر قتل و غارت کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔
اس صورتحال کا اگر دوسری طرح سے جائزہ لیا جائے، تو ریاست کے اوزاروں کے طور پر جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام جیسی پارٹیوں کی اِفادیت بڑی حد تک ختم ہوگئی ہے۔ گذشتہ عرصے میں یہ سیاسی لطیفہ مشہور رہا ہے کہ جماعت اسلامی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی طرح ملاکنڈ کے اندر ہی چلتی ہے، لیکن حالیہ انتخابات کے نتائج بتاتے ہیں کہ کھٹارا ہوچکی یہ گاڑی وہاں بھی چلنے کی صلاحیت کھوچکی ہے۔ نظریاتی دیوالیہ پن، مفاد پرستی اور بد عنوانی مذہبی پارٹیوں میں بھی سرایت کیے ہوئی ہے۔ اب بنیاد پرستی اور قدامت پسندی کے یہ پرانے رجحانات متروک ہوتے نظر آتے ہیں۔ ان کی جگہ ’’تحریکِ لبیک‘‘ جیسی نئی نوعیت کی بنیاد پرستی نے لی ہے۔ تحریک لبیک مجموعی طور پر 4.21 فیصد ووٹ لے کر لاہوراور کراچی میں تیسری بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے جب کہ سندھ اسمبلی کی دو نشستیں بھی حاصل کیے ہوئی ہے۔ خادم رضوی صاحب کا تعلق جس فرقے سے ہے، ماضی میں مولانا شاہ احمد نورانی اس کے سرخیل سیاسی راہنما ہوا کرتے تھے، جن کی کم از کم ظاہری عادات و اطوار اور بول چال تو نفیس ہوا کرتی تھی، لیکن خادم رضوی جو مخصوص زبان اور کلمات استعمال کررہے ہیں، اس سے یہ نشان دہی ہوتی ہے کہ شاید اخلاق سے گرے ہوئے ایسے کلمات و حرکات سماج میں مقبولیت کے لیے ناگزیر ہوچکی ہیں لیکن اس سارے عرصے میں بنیاد پرستی سے عمومی بیزاری اور نفرت میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ حافظ سعید کی سیاست میں ’’لانچنگ‘‘ بھی بری طرح ناکام ہوئی ہے اور حالیہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر پیسہ لگانے کے باوجود موصوف کے بیٹے سمیت کوئی امیدوار بھی کامیاب نہیں ہوپایا ہے۔
اس تمام سیاسی صورت حال میں پاکستان جیسے پیچیدہ اور متضاد کیفیات کے حامل ملک میں براہِ راست سامراجی مداخلت اور بڑی خانہ جنگی کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا، جسے پھر ’’انقلابی بنیادوں‘‘ پر لڑکر ہی فتح حاصل کی جاسکتی ہے۔
قارئین، افسوس حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں یا پہنچائے جاچکے ہیں۔ ریاست کے مقدس ادارے جس طرح اپنی ساکھ کھو رہے ہیں، معیشت جس گہرے بحران کا شکار ہے اور عام انسانوں کی اکثریت جس کرب میں مبتلا ہے، اس کے پیشِ نظر کوئی بھی ایک واقعہ صبر کے پیمانے کو لبریز کرسکتا ہے۔ کوئی بھی ظلم یا نا انصافی ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ انقلابیوں اور محب وطن پاکستانیوں کا کام صرف اُس گھڑی کا انتظار نہیں بلکہ تیاری بھی کرنی ہے کہ ایسانہ ہوکہ وہ انقلابی تبدیلی آبادی کی بجائے بربادی لے آئے۔
مانو نہ مانو جانِ جہاں اختیار ہے
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں

………………………………………………………….



لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے