537 total views, 2 views today

افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان متحدہ عرب امارات میں حالیہ مذاکرات 17 اور 18 دسمبر کو منعقد ہوئے۔ ان مذاکرات کے بارے میں ہم اس وقت آگاہ ہوئے تھے جب وزیرِاعظم پاکستان عمران خان نے نشترہال پشاور میں مذاکرات سے چند دن پہلے ایک تقریر میں فرمایا کہ پاکستان ہی نے 17 تاریخ کو امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کرانے کے انتظامات کیے ہیں۔ ان مذاکرات کے بعد کچھ مثبت اشارے بھی ملنے شروع ہوگئے ہیں، لیکن افغان طالبان کا مذاکرات کے موقع پرابوظہبی میں موجود افغانستان حکومت کے وفد سے نہ ملنا مستقبل میں منفی اثرات مرتب کرنے کی وجہ بن سکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں مذاکرات کے بعد افغان امن عمل کے لیے امریکہ کے خارجہ امور کے خصوصی نمائندے زلمی خلیل زاد نے ان مذاکرات کو مفید اور بارآور قرار دیا۔ اگرچہ ان میں افغانستان میں جنگ بندی اور وہاں سے بیرونی افواج کے انخلا یا طالبان کے سیاسی عمل میں شریک ہونے کے حوالے سے کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہوا، لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ طالبان نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے بھی کہا ہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور بھی ابوظہبی میں ہوگا، تاہم اس حوالہ سے آئندہ تاریخ کا اعلان اب تک نہیں ہوا ہے۔
حالیہ مذاکرات کے بعد افغان امن عمل کے لیے امریکی محکمۂ خارجہ کے خصوصی نمائندے زلمی خلیل زاد نے پہلے پاکستان آکر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی اور انہیں مذاکرات کے حوالے سے آگاہ کیا۔ پھر وہ افغانستان گئے اور کابل میں افغانستان کی حکومت کو مذاکرات کے جزیات سے آگاہ کیا۔
زلمی خلیل زاد اس سے پہلے نومبر کے مہینے میں بھی طالبان نمائندوں سے باضابطہ طور پر مل چکے ہیں۔ ستمبر کے مہینے میں جنوبی و مرکزی ایشیا کے لیے امریکہ کی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز بھی اس سے پہلے قطر میں طالبان نمائندوں سے براہِ راست بات چیت کر چکی ہے۔ افغان طالبان، افغانستان کی حکومت کے نمائندوں سے بات چیت کرنے کے لیے اب تک انکار کر رہے ہیں۔ اب ایک طرف بعض امریکی حکام طالبان سے مذاکرات کر رہے ہیں، لیکن دوسری طرف امریکہ کے دوسرے حکام افغانستان کے لوگوں اور افغان حکومت کے اس اصولی مؤقف کی بھی حمایت کر رہے ہیں کہ طالبان کو براہِ راست افغان حکومت سے بھی مذاکرات کرنے چاہئیں اور افغان حکومت کی مشاورت اور موجودگی سے مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔ لیکن افغان طالبان، افغانستان کی حکومت کو افغانستان کے لوگوں کی ایک نمائندہ حکومت کی بجائے بیرونی قوتوں کی کٹھ پتلی حکومت سمجھتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ حکومت کے ساتھ بیٹھنے سے مسلسل انکار کر رہے ہیں۔
مذاکرات میں افغان طالبان اب تک اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ سب سے پہلے افغانستان سے غیر ملکی افواج نکل جائیں، جیلوں میں بند طالبان قیدیو ں کو رہا کیا جائے اور طالبان رہنماؤں پر لگائی گئی بین الاقوامی پابندیوں کو ہٹایا جائے۔ مذاکرات کے عمل میں طالبان اپنی پرانی پوزیشن پر قائم ہیں اور اب تک انہوں نے کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ زلمی خلیل زاد کیوں یہ کہ رہا ہے کہ ابوظہبی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات مفید یا بار آور تھیں؟ یہ اس لیے کہ ابوظہبی میں 17 اور 18 دسمبر کو ہونے والی بات چیت میں افغان طالبان کے اُن مشران نے بھی شرکت کی جو براہِ راست طالبان کے امیر مولانا ہیبت اللہ اخونزادہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ساتھ ساتھ حقانی نیٹ ورک کے کچھ اہم لوگوں نے بھی ان مذاکرات میں پہلی دفعہ شرکت کی۔ مذاکرات اس وجہ سے بھی مفید اور بار آور ثابت ہوسکتے ہیں کہ پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بطورِ سہولت کار ان میں شرکت کی۔ یہ تین وہ ممالک ہیں جن پر شاید افغان طالبان کا بھی پورا بھروسا ہے۔ مذاکرات میں یہ سارے ممالک ثالث کا کردار بھی ادا کرسکتے ہیں۔ اگر پاکستان کے حوالے سے کوئی بات ہو، تو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان سے اس حوالے سے کچھ باتیں بھی منوا سکتے ہیں۔
مذاکرات کے بعد امریکی میڈیا کی طرف سے ایک اور خبر یہ آئی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں قابل ذکر کمی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب یہ معلوم نہیں کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں اس حوالے سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے، لیکن ایک بات واضح ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران میں بھی یہ بات کرچکے تھے کہ اگر وہ امریکہ کے صدر منتخب ہوگئے، تو وہ افغانستان سمیت تمام دنیا سے اپنے فوجوں کو واپس بلا ئیں گے، لیکن صدارت سنبھالنے کے بعد شائد کسی نے اس کا ذہن تبدیل کیا اور اس نے الٹا افغانستان میں امریکہ کے فوجیوں کی تعداد کو بڑھا دیا۔ یہ تعداد اس وقت 13000 کے قریب ہے۔ اب معلوم نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے کے بعد یہ تعداد نصف رہ جائے گی یا اس سے بھی کم، لیکن آئندہ چند مہینوں میں یہ بات اور بھی واضح ہو جائے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تو یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کی صورت میں وہ آئندہ الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے۔
13000 امریکی فوجیوں کے ساتھ اس وقت افغانستان میں 9000 کے قریب نیٹو افواج کے اہلکار بھی موجود ہیں۔اب اگر اس تعداد میں قابل ذکر کمی آتی ہے، تو اس وجہ سے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف فضائی کارروائیوں، ڈرون حملوں اور افغانستان کی اپنی فوج کی تربیت پر بھی بہت برے اثرات مرتب ہوں گے۔
غیر ملکی افواج میں خاطر خواہ کمی کے حوالے سے افغان صدر اشرف غنی کی طرف سے بھی کسی اندیشے کا اظہار نہیں کیا گیا ہے۔ اب تک وہ اس حوالے سے مطمئن نظر آتے ہیں۔ اس لیے میں اس کو بھی ایک مثبت اشارہ سمجھتا ہوں۔ شائد غیر ملکی افواج میں کمی سے مذاکرات کو مزید آگے بڑھانے میں مدد ملے۔ اس کا اگلا دور اس سے بھی زیادہ بار آور ثابت ہو اور افغانستان میں 17 سال سے جاری جنگ کا خاتمہ ممکن ہوجائے۔
مذاکرات کے ذریعے افغانستان کے مسئلے کے حل میں سب سے بڑا مثبت اشارہ یہ ہے کہ چین بھی افغانستان میں امن چاہتا ہے۔ اگر چہ چین افغانستان کے جھگڑے میں براہِ راست حصہ دار نہیں ہے، لیکن چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی کامیابی کے لیے اس سارے خطے میں امن کی ضرورت ہے، جو کہ افغانستان میں امن کے بغیر ممکن نہیں ۔ اب امریکہ نے تو پچھلے 17 سالوں سے افغانستان پر بہت پیسہ لگایا ہے جو کہ امریکی عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے۔ یہ بہت اچھااور مناسب موقع ہے کہ وہ افغانستان کو اب اکیلا نہ چھوڑے اور افغانستان کے ساتھ وہ سلوک نہ کرے جو سوویت یونین کی شکست کے بعد اس کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ سے سوویت یونین کی طرح بدلہ لینے کے بارے میں سوچنا بھی فضول ہے۔ کیوں کہ افغانستان کے حوالے سے امریکہ کے مقاصد سوویت یونین کے مقاصد سے بالکل مختلف ہیں۔ امریکہ اور سوویت یونین کے حوالے سے زمینی حقائق بھی ایک جیسے نہیں۔ اگر امریکہ طالبان کے مطالبے کے رد عمل میں اپنی افواج کی تعداد کو کم بھی کردے، یا مکمل انخلا کا فیصلہ کرے، تو پھر بھی افغانستان کے ساتھ مالی معاونت پہلے کی طرح آئندہ چند سالوں کے لیے جاری رکھنی چاہیے، تاکہ ان کی یہ 17 سالہ سرمایہ کاری ضائع نہ ہو اور ستر ہ سال کی یہ جنگ کی کہانی پاکستان اور افغانستان میں امن کی خاطر ایک کامیابی کی کہانی میں تبدل ہوجائے۔ اس حوالے سے اس وقت پاکستان، افغانستان، چین اور امریکہ کو مشترکہ مفادات کے حوالے سے ایک پیج پر ہونا چاہیے۔
اس وقت صرف ایک چیلنج بھارت کی افغانستان کی حکومت اور لوگوں کے ساتھ قربت کا ہے۔ اگر افغانستان اور بھارت کی دوستی کو تجارتی حد تک محدود رکھا جائے اور پاکستان اور افغانستان دونوں ایک دوسرے کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہو جائیں کہ دونوں کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، تو اس طرح سے اس چیلنج پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔ ویسے بھی اب جیوپولی ٹیکل سوچ کی بجائے ساری دنیا میں جیو اکنامیکل سوچ پھیل رہی ہے۔ اس نئے انداز میں پھر جنگ اور اقتصاد ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ اب پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری کا کھلنا بھی پاکستان کی طرف سے ایک مثبت اشارہ ہے کہ پاکستان اپنے روایتی حریف کے ساتھ بھی جیو پولی ٹیکل کے برعکس جیواکنامیکل بنیادوں پر آگے بڑھنا چاہتا ہے۔

…………………………………………………………



لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے