255 total views, 1 views today

اس حقیقت پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں کہ سرکار جو پالیسیاں بناتی ہے اور بجٹ پیش کرتی ہے، اُن کی عمل داری کل معیشت کے ایک انتہائی قلیل حصے پر ہی ہوتی ہے۔ کیوں کہ باقی ماندہ وہ کالی معیشت ہے جو سرکاری دستاویزات اور اعداد و شمار سے ماورا ہے، لیکن یہاں گنتی کے جو چند ایک سنجیدہ سرمایہ دار معیشت دان ہیں، وہ بڑی حد تک اپنے نظام کے بحران کی شدت اورنوعیت سے واقف ہیں۔ بالخصوص 2008ء کے بعد یہاں کی پہلے سے کمزور معیشت کا بحران اس قدر شدید ہوتا گیا ہے کہ حکمران طبقات کے دانشور اور تجزیہ نگار اس طرف دیکھنا ہی نہیں چاہتے ہیں۔ چناں چہ میڈیا پر سب سے کم بحث معیشت جیسے بنیادی ایشو پر ہوتی ہے اور اسے بھی کرپشن کے ساتھ گڈ مڈ کرکے انتہائی بھونڈا اور لا یعنی بنادیا جاتا ہے۔
اس معیشت کا وسیع حصہ ہر طرح کی کرپشن، بدعنوانی، رشوت ستانی، ٹیکس چوری اور منشیات جیسے دھندوں پر مشتمل ہے۔ یہاں سمگلنگ اور ڈرگ ٹریفکنگ جیسی قانونی طور پر ناجائز سرگرمیوں کے حجم کا تخمینہ پانچ ہزار ارب روپے تک ہے، لیکن یہ دیوہیکل کالی معیشت ساری کی ساری ایسے جرائم پر مبنی نہیں بلکہ ٹھیلے والے اور پرچون فروش سے لے کر کنسٹرکشن اور بڑے پیمانے کے صنعت تک ہر ایسی سرگرمی جو سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہیں، اس کالی معیشت میں شمار ہوتی ہے۔ لیکن اس معیشت سے وابستہ حکمران طبقات اور سیاسی و ریاستی اشرافیہ کے اپنے مالی مفادات سے قطعِ نظر بالغرض ریاست چاہے بھی تو اسے سرکاری لکھت پڑھت اور کنٹرول میں لانا ممکن نہیں۔ کیوں کہ ان سرگرمیوں کا وجود ہی کسی قسم کے چیک اینڈ بیلنس اور ٹیکسیشن سے ماورا ہونے سے مشروط ہے۔ مثلاً مسلم لیگ ن کی حکومت اپنے دور میں تقریباً ہر سال ایک ایمنسٹی سکیم متعارف کرواتی رہی ہے، ان سکیموں سے فائدہ اٹھاکر بہت سے لوگوں نے اپنا ’’کالا دھن‘‘ سفید بھی کیا، لیکن مجموعی حاصلات اونٹ کے منھ میں زیرے کے برابر رہے ہیں۔
اس وقت ملکی معیشت ’’ریکارڈ‘‘ داخلی و خارجی خساروں سے دوچار ہے اور سرمایہ دارتجزیہ نگاروں کے تاثر کے برعکس بحران کے دہانے پر نہیں کھڑی بلکہ سنگین بحران میں گھری ہوئی ہے۔ 30 جون کو ختم ہونے والے مالی سال 2018ء میں تجارتی خسارہ37.7 ارب ڈالر رہا ہے جو پچھلے مالی سال سے 16 فیصد زیادہ تھا۔ 2008ء کے بعد تجارتی خسارے میں مسلسل اضافے کا رجحان نظر آتا ہے، جو پچھلے کچھ سالوں سے شدت اختیار کرگیا ہے۔ مثلاً 2014ء میں یہ خسارہ 20 ارب ڈالر، 2015ء میں 22.2 ارب ڈالر، 2016ء میں 23.9 ارب ڈالر، 2017ء میں 32.5 ارب ڈالر اور پھر 2018ء میں 37.7 ارب ڈالر ہوگیا ہے۔
اس تجارتی خسارے کی بنیادی وجہ تکنیکی پسماندگی اور بجلی کی زیادہ قیمتوں جیسے عوامل کی وجہ سے یہاں پیدا ہونے والی زرعی و صنعتی مصنوعات کی پیداواری لاگت کا زیادہ ہونا ہے، جس کی وجہ سے وہ عالمی منڈی میں چین جیسے ممالک کی سستی مصنوعات کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے کی سکت کے لحاظ سے پاکستان کل 137 ممالک کی فہرست میں 115ویں نمبر پر ہے۔
باقی دنیا کی طرح چین کی سستی مصنوعات کے یہاں کی مقامی منڈی پر یلغار سے مقامی صنعت بیٹھ رہی ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں چین کے ساتھ تجارت کا خسارہ 2.9 ارب سے بڑھ کر 12.66ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ برآمدات میں اضافے اور درآمدات میں کمی کے لیے پچھلے مالی سال کے دوران میں روپے کی قدر میں 15 فیصد کمی سے کوئی خاطر خواہ اضافہ تو نہیں ہوپایا لیکن حکومت کے قرضوں میں 1.1 ہزار ارب روپے کا اضافہ ضرور ہوگیا۔ برآمدات میں خاطر خواہ بہتری کے لیے جتنے بڑے پیمانے پر روپے کی قدر میں کمی درکار ہے، اس سے مہنگائی اور قرضوں میں ہوش رُبا اضافہ ہوجائے گا۔ یوں اس طریقۂ کار کے اپنے تضادات ہیں۔ ملکی جی ڈی پی میں برآمدات کا حصہ 7.6 فیصد ہے۔ یہ شرح درمیانی آمدن والے ممالک کی اوسط سے بھی 17 فیصد کم ہے۔
بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے سے گذشتہ مالی سال کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی 18 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے جو اس سے پچھلے مالی سال سے 44.7 فیصد زیادہ ہے۔ گورنرسٹیٹ بینک کے مطابق یہ خسارہ ’’ناقابلِ برداشت سطح‘‘ تک پہنچ چکا ہے۔
ایسے میں بیرونِ ملک مقیم محنت کشوں کی ترسیلاتِ زر ہی ہیں جنہوں نے کرنٹ اکاؤنٹ کو کچھ سہارا فراہم کیا ہوا ہے۔ یہ رقم گزرنے والے مالی سال میں معمولی اضافے کے ساتھ 19.6 ارب ڈالر رہی ہے، لیکن پچھلے پانچ سال سے تقریباً اسی سطح پر کھڑی ہے۔ علاوہ ازیں خلیجی ممالک میں ہونے والی تبدیلیوں جن میں تیل کی معیشتیں بیٹھ رہی ہیں اور غیر ملکی محنت کشوں کو فارغ کیا جا رہا ہے، کے پیش نظر آنے والے دنوں میں یہ ترسیلات زر بھی گراؤٹ کا شکار ہوسکتی ہیں۔
فارن ڈائریکٹ سرمایہ کاری، جسے ہر کوئی معیشت کی بحالی کا نسخۂ کیمیا قرار دیتا ہے کم و بیش آٹھ سال پہلے کی سطح پر کھڑی ہے اور 2008ء کے بعد عمومی گراوٹ کا شکار ہے۔ عالمی سرمایہ داری کے بحران اور اس ملک کے عدم استحکام کے پیشِ نظر اس میں کسی بڑے اضافے کے امکانات آئندہ بھی نہیں۔ ایسے میں زرِ مبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر کے آس پاس منڈلا رہے ہیں، جو شاید دو مہینے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناکافی ہیں (حال ہی میں سعودی عرب اور چین سے جو امداد کی اُمید کی جاسکتی ہے، اُس سے زرِ مبادلہ کے ذخائر زیادہ سے زیادہ 14ارب ڈالر تک پہنچنے کے امکانات ہیں)۔
داخلی سطح پر بجٹ خسارہ بے قابو ہوکر 2.26 ہزار ارب روپے (جی ڈی پی کا 6.6فیصد) تک پہنچ چکا ہے۔ نواز لیگ کی حکومت نے بجٹ خسارے کو 3.5 فیصد تک لانے کی یقین دہانی آئی ایم ایف کو کروائی تھی، لیکن نشانے اہداف سے بہت دور بیٹھے ہیں۔
یہاں میڈیا پر یہ جھوٹ بہت ڈھٹائی سے بولا جاتا ہے کہ پاکستان میں لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔ حالاں کہ پاکستان میں امیروں کے سوا سب لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔ ملک میں چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کے ادارے (ICAP) کے مطابق حکومتی آمدن کا 88.79 فیصد عام لوگوں پر بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، جب کہ 11.21 فیصد براہِ راست ٹیکسوں سے حاصل ہوتا ہے۔ 2016ء رجسٹرڈ تقریباً 72 ہزار فرموں میں سے نصف سے بھی کم نے ٹیکس ریٹرن فائل کیے اور ان میں سے بھی نصف نے کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا۔ نتیجتاً ٹیکس سے جی ڈی پی کی شرح پچھلے پانچ سالوں کے دوران میں 9.8 سے 12.4 فیصدکے درمیان جھولتی رہی ہے، جو دنیا کی کم ترین ٹیکس آمدنوں میں شمار ہوتی ہے۔
ایسے میں ان خساروں کو بھرنے کے لیے پھر اندرونی اور بیرونی قرضوں کا راستہ ہی بچتا ہے، جو بے دریغ لیے گئے ہیں اور لیے جائیں گے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی اگست 2018ء کی رپورٹ کے مطابق حکومتی قرضہ اور دوسری واجب الادا رقوم (Liabilities) پچھلے پانچ سال میں 13.5 ہزار ارب روپے یا 82.8 فیصد کے ساتھ 30 ہزار ارب روپے ہوچکی ہے، جو جی ڈی پی کا 87 فیصد بنتی ہے۔ ان میں حکومتی قرضہ 25 ہزار ارب روپے ہے، جوجی ڈی پی کا 72.5 فیصد بنتا ہے۔ اس قرضے میں پانچ سال کے دوران میں 10.6 ہزار روپے یا 74.5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ان قرضہ جات میں سے بیرونی قرضہ پچھلے صرف ایک سال میں 14 فیصد اضافے کے ساتھ 95 ارب ڈالر ہے، کی ادائیگی میں خود حکومتی اعداد و شمار کے مطابق روزانہ 6 ارب روپے صرف ہو رہے ہیں، لیکن قرضوں کی کہانی صرف یہیں ختم نہیں ہوتی، بلکہ توانائی کے شعبے کے خسارے اور قرضے اس کے علاوہ ہیں۔ بجلی کے شعبے کاگردشی قرضہ ایک بار پھر بڑھتے بڑھتے 1.18 ہزار روپے ہوچکا ہے۔ نواز لیگ کی حکومت نے بر سر اقتدار آتے ہی آئی پی پیز کو 500 ارب روپے کی ادائیگیاں کی تھیں، لیکن بجلی کی پیداوارکا یہ نجی شعبہ ایک ایسا ’’بلیک ہول‘‘ بن چکا ہے جس میں غریب کے ہزاروں ارب روپے غرق کیے جا رہے ہیں، لیکن اس کی بھوک مٹنے کا نام نہیں لیتی۔
اس لیے میں یہ کہتے ہوئے حق بجانب ہوں کہ معیشت کی اس دگرگوں صورتحال کے ساتھ یہاں کوئی مستحکم اقتدار قائم نہیں ہوسکتا۔

……………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے