610 total views, 1 views today

ہماری اجتماعی اور انفرادی ذہنیت میں ابھی تک ایک نوآبادیاتی سوچ باقی ہے، جو ہمیں نوآبادیاتی ورثہ میں ملی ہے۔ یہ سوچ سکول کے کمرۂ جماعت سے لے کر اداروں اور واقعات میں آشکارہ ہوجاتی ہے۔ اس کا اظہار اس وقت بھی ملتا ہے جب ہم کسی دور دراز پہاڑی علاقے میں لوگوں اور دھرتی کی سیر کرنے جاتے ہیں۔ کئی دانشور اس سوچ کو "Colonial mentality” کہتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ سوچ ثقافتی اور تمدنی کمتری کے احساس کو اپنی نفسیات میں شامل کرنے کا عمل ہے، جہاں وہ لوگ خود کو کمتر ماننے لگتے ہیں جن کو کسی نوآبادیاتی طاقت نے زیر کیا ہو۔ یہ عمل تہہ دار ہوتا ہے۔ یہ سماجی تفاوت کی عمودی تشریح کرتا ہے اور اونچ نیچ کا تصور اس کا بنیادی فلسفہ ہوتا ہے۔ نفسیات کے ماہرین کے نزدیک کمتری کے احساس سے اس کا اُلٹ یعنی برتری کا احساس جنم لیتا ہے۔ یہ دُوئی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ ایسی سوچ کا شکار انسان سماجی ڈھانچے کو عمودی خط میں اوپر نیچے کے طور پر دیکھتا ہے۔
دنیا میں نوآبادیت، جدیدت کی پیداوار ہے۔ جدیدت کے مقاصد میں بڑا مقصد دوسرے کو اپنی طرح مہذب، نیک اور ترقی یافتہ بنانا ہوتا ہے۔ جدیدیت نے دنیا کو بظاہر ہمدردی کے احساس کے تحت نئے تصورات بھی دیے ہیں۔ ان تصورات میں ایک ہمہ گیر تصور ترقی کا بھی ہے، جو اپنی زات میں ایک عمودی طرزِ فکر ہے۔ ترقی کا یہ تصور اگرچہ مختلف مراحل سے گزرا ہے، لیکن اب تک اپنے اندر وہ نقشہ سمویا ہوا ہے جس میں ترقی سے مراد محض معیشت کا بڑھاوا لیا جاتا ہے۔ ترقی کے اس تصور نے اکثر بنیادی انسانی حقوق، شخصی آزادیوں اور خوشیوں کو پائے مال کیا ہے۔ یہ ترقی مساوی نہیں، بلکہ کسی ایک قوم کی ترقی دوسری کی تنزلی ہے۔ ایسے ہی جیسے جدیدت میں کسی ایک قوم کی تہذیب دوسری کی بربریت ہوا کرتی ہے۔
ترقی کے اس تصّور اور اس پرعمل در آمد نے دنیا کو کئی مسائل سے دوچار کیا ہے جن میں جنگ و جدل اور موسمیاتی تبدیلی "Climate Change” سر فہرست ہیں۔
عملی نوآبادیت کے دور یعنی گذشتہ دو صدیوں کے دوران میں جب کوئی نوآبادیاتی محقق، مصنف یا اہلکار کسی دوسری قوم کے بارے میں لکھتا، تو وہ ان کو اپنے زاویے سے دیکھتا یا یوں کہیے کہ یورپی بالادستیت "Eurocentrism” کے تناظر میں دیکھتا۔ اسی پس منظر کی وجہ سے وہ اکثر ان لوگوں کو وحشی، پس ماندہ اور ان جیسے دوسرے القابات سے نوازتا چلا آ رہا ہے۔
ہمارے معاشرتی رویے جن کو ایک نوآبادیاتی تعلیمی ورثے نے پروان چڑھایا ہے، اب بھی اسی سوچ کے شکار ہیں۔ ہم اب بھی ہر سطح پر کمتری و برتری کی دُوئی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر جب کوئی شہری بابو پہاڑوں میں بسنے والوں کو دیکھتا ہے، تو اس کے ذہن میں پہلا خیال پسماندگی اور وحشت کا آتا ہے۔ پہاڑوں کے باسی ہوں، یا پھر فاٹا کے باشندے ان کا نام سنتے ہی شہروں میں بسنے والوں کے ذہن میں پسماندگی، وحشت، خوف اور خون خرابہ کی تصویر ابھرتی ہے۔ وہ فوراً ان لوگوں کو سدھارنے کی فکر میں لگ جاتا ہے۔ بظاہر یہ فوری خیال منفی نہیں ہوتا، لیکن ایک منفی فکر سے ہی پھوٹتا ہے۔
پاکستان کے شمالی خطے میں پہاڑی علاقے قدرتی حسن، وافر قدرتی وسائل اور ثقافتی تنوع و تفاوت سے بھرے پڑے ہیں۔ ان میں سے ایک خوب صورت وادی ’’کمراٹ‘‘ بھی ہے جو ضلع اپر دیر کی پنج کوڑہ وادی، جسے دیر کوہستان بھی کہا جاتا ہے، کا ایک بہشتی ٹکڑا ہے۔ دریائے پنج کوڑہ کے ساتھ ساتھ اس پورے علاقے میں گاؤری لوگ اکثریت میں ہیں، جن کے ساتھ کلکوٹی، گجر اور دوسری قومیں کم تعداد میں آباد ہیں۔ یہ وادی ماضی میں اتنی مشہور نہیں تھی۔ عام سیاح یہاں نہیں جاتا یا اس کو اس کا پتا نہ تھا۔ صرف وہ لوگ یہاں کا رُخ کرتے جو سیاحت اور کوہِ پیمائی سے محبت رکھتے ہیں۔ جب مئی 2016ء میں عمران خان صاحب نے پہلی مرتبہ کمراٹ کی سیر کی، تو یہ علاقہ مشہور ہوتا گیا اور عام سیاح اُدھر جانے لگے۔ اس وقت بھی صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی اور عمران خان نجی حیثیت سے ہیلی کاپٹر کے ذریعہ وہاں تشریف لے گئے تھے۔
کمراٹ وادی کے حسن سے مسحور ہوکر عمران خان صاحب نے اس وادی کو ’’نیشنل پارک‘‘ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ فرطِ جذبات سے آپ نے یہ اعلان بغیر مقامی لوگوں کے مشورے کے کیا تھا۔ اس اعلان پر اس وقت مقامی لوگ حیران ہوئے تھے کہ کمراٹ وادی ان کے جنگلات، زمین اور چراہگاہوں پر مشتمل ہے۔ یہ محض وہ جگہ نہیں جہاں تک خان صاحب گئے تھے۔ اس کی سرحد بالائی چترال سے ملتی ہے اور یہ بہت وسیع و عریض وادی ہے۔ مقامی لوگوں نے اس پر حیرت کے ساتھ ساتھ اعتراض بھی کیا کہ وہ اس پورے علاقے کو اپنی ملکیت مانتے ہیں اور ان کی زندگی کا دار و مدار زیادہ تر اس وادی کے جنگلات ہی پر ہے۔ ایک اخباری انٹرویو میں مقامی رہنما حاجی گل شیر نے پوچھا تھا کہ کیسے ایک حکومت ایک ایسے علاقے پر نیشنل پارک کا اعلان کر سکتی ہے جو مقامی لوگوں کی ملکیت ہو؟




کمراٹ وادی کے حسن سے مسحور ہوکر عمران خان صاحب نے اس وادی کو ’’نیشنل پارک‘‘ بنانے کا اعلان کیا تھا۔

کمراٹ وادی کی سیر کے دوران میں اپنے ویڈیو انٹرویو میں عمران خان صاحب نے سیاحوں کو یہاں آنے کی دعوت دی۔ اس کے بعد یہ وادی عام سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ مقامی لوگوں نے یہاں خیمہ ہوٹلز بنانے شروع کیے۔ کیوں کہ علاقے کے مالکان مختلف قبیلوں نے اس وادی میں پختہ تعمیرات کرنے پر ازخود پابندی لگا دی۔ راقم کو بھی اسی سال کمراٹ کی سیر کرنے کا موقع ملا۔ میں یہ دیکھ کر خوش ہوا کہ مقامی لوگوں نے اس وادی میں پختہ تعمیرات پر پابندی لگا کر اس کے حسن اور جنگلات کو بچانے کو کوشش کی ہے۔ میرے خیال میں یہ مقامی انصرام ایسے دوسرے علاقوں کے لیے مشعلِ راہ ہے، اگر وہ اپنے علاقے بچانا چاہتے ہیں تو۔ ان لوگوں نے کمراٹ کی زمین غیر مقامیوں کو بیچنے پر بھی پابندی لگا رکھی ہے۔
عمران خان کے مئی 2016ء کے اعلان کی پیروی کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے موجودہ سنیئر وزیر برائے سیاحت محمد عاطف خان نے 4نومبر 2018ء کو کمراٹ وادی کو نیشنل پارک بنانے کا اعلان کیا۔ پہلے کی طرح اس بار بھی مقامی لوگوں سے کوئی رائے مانگی اور نہ ان کو اس منصوبے کے خدوخال سے آگاہ ہی کیا۔ احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے ضلع اپر دیر کی انتظامیہ نے سیدھا جاکر لوگوں کو دھمکایا کہ وہ کمراٹ وادی میں سے اپنے ’’خیمہ ہوٹل‘‘ اکھاڑ دیں۔ یوں مقامی لوگوں میں غم و غصہ بڑھ گیا۔ ان کو اس منصوبے کے بارے میں کوئی دستاویز بھی نہیں دی گئی، تاکہ وہ کوئی مشورہ کرسکیں۔ ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا، اس لیے وہ سیدھا عدالت چلے گئے۔ ساتھ ساتھ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرنا چاہی کہ اس بارے ان سے بات کی جاسکے۔ علاقے کے مقامی رہنما پشاور گئے، مگر تاحال وزیراعلیٰ سے نہیں مل سکے۔ بقول حاجی گل شیر، ’’موصوف کے پاس اگلے دو ہفتوں تک وقت نہیں ہے۔‘‘
دوسرے کئی پہاڑی علاقوں کی طرح دیر کوہستان میں بھی جنگلات کا انتظام و انصرام روایتی قانون "Customary law” کے تحت ہوتا ہے۔ مقامی لوگ ان کا تصرف بھی کرتے ہیں اور اپنے تئیں ان جنگلات کو بچاتے بھی ہیں کہ انہی پر ان کی زندگی کا زیادہ تر انحصار ہے۔
تسلیم کہ دیر کوہستان میں جنگلات کی بڑی کٹائی ہوتی ہے، لیکن اس کٹائی کے اسباب پر بھی سوچنا چاہیے اور اس کا سدباب کرنے کے لیے دیرپا اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں، نہ کہ لوگوں کو ان کی زمینوں، چراہگاہوں اور جنگلات سے بے دخل کیا جائے۔ 2014ء میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق دیر کوہستان میں جنگلات کی کثیر کٹائی یعنی 87 فی صد ایندھن کی لکڑی (Fuel wood) کے لیے کی جاتی ہے۔ یہاں موسمِ سرما طویل اور شدید ہوتا ہے اور توانائی کا کوئی متبادل ذریعہ نہیں ہے۔ لوگوں کو اگر توانائی کے متبادل ذرئع فراہم کیے جائیں، تو یہ جنگلات بچائے جاسکتے ہیں۔ ایک وادی کو نیشنل پارک بنانے سے جنگلات نہیں بچ سکیں گے۔ لوگ اس صورت میں ایندھن کی لکڑی ظاہر ہے دوسرے جنگلات یعنی لاموتی کے جنگلات سے لائیں گے۔ اس طرح یہاں کا جنگل ختم ہوگا جو پہلے سے حکومت اور مقامی لوگوں کے بیچ تنازعہ کی وجہ سے کافی برباد ہوچکا ہے۔
وادئی کمراٹ اور دیر کوہستان کے دوسرے علاقوں میں پانی وافر مقدار میں موجود ہے۔ حکومت یہاں چھوٹے چھوٹے پن بجلی گھر بنا کر ان کی بجلی کو سستے داموں مقامی لوگوں کو فراہم کرے، تاکہ وہ آسانی سے اس کو اپنے گھروں کو موسم سرما میں گرم کرنے کے لیے استعمال کرسکیں۔ اس سے جنگلات بچ جائیں گے۔ زندگی آسان ہوگی۔ بچوں اور عورتوں کو خصوصی فائدہ ہوگا۔ وہ دھوئیں سے بچ جائیں گے۔ گھر کا ماحول روشن اور صاف ہوگا۔ بچوں کو گھر میں پڑھنے کا اچھا ماحول مل جائے گا۔ خواتین اور بزرگ آنکھوں کی بیماریوں سے بچ جائیں گے۔ حکومتوں کو نمائشی منصوبے کرنے کی بجائے لوگوں کے اصل اور بنیادی مسائل حل کرنے چاہئیں۔ اسی طرح صحیح معنوں میں جنگلات بچائے جاسکتے ہیں۔ ایسے پارک تو محض متعلقہ شعبے کی ’’خوشماشی‘‘ کے لیے ہوتے ہیں۔ یہ پارک اور اس طرح کے دوسرے نمائشی منصوبے ان خوب صورت وادیوں میں افسر شاہی، سیاسی شاہی اور ان کے امیر کبیر دوستوں کو زمینیں فراہم کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔

………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے