549 total views, 1 views today

محمد طاہر کا تعلق ضلع سوات کے دارالخلافہ سیدوشریف سے کچھ فاصلے پر واقع ایک خوبصورت گاؤں اسلام پور سے ہے۔ اسلام پور اور مرغزار جہاں والئی سوات کے دورِ حکومت میں تعمیرشدہ خوبصورت محل ’’وائٹ پیلس‘‘ جو کہ بہت مشہور و معروف ہے، بالکل آمنے سامنے ہیں۔ اسلام پور صوبہ خیبرپختونخوا کا اپنی نوعیت کا واحد صنعتی گاؤں ہے۔ یہاں کے اونی کپڑے، شالیں اور چادریں دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ اسی گاؤں کا یو سی صدر پاکستان تحریک انصاف ’’محمد طاہر‘‘ ایک سچا، مخلص اور اچھے کردار کے مالک انسان ہے۔ وہ اپنے آپ کو عمران خان کے مشن کا سچا سپاہی گردانتا ہے۔ وہ تحریک انصاف میں اس لئے شامل ہوا تھا کہ وہ مذکورہ جماعت کو ملک سے کرپشن کے ناسور کو ختم کرنے کیلئے نجات دہندہ تصور کرتا ہے۔ حلقہ پی کے اکاسی سے عزیزاللہ گرانؔ جب الیکشن جیت گئے، تو ان کے آپس میں بہتر تعلقات قائم تھے۔ ان تعلقات میں آج کل ’’کرپشن‘‘ کی وجہ سے دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ ایم پی اے عزیزاللہ گرانؔ پر بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات ہیں۔ اس نڈر نوجوان نے ایم پی اے عزیزاللہ گران کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن سوات میں شکایت کی اور کچھ حقائق پر مبنی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں، جس میں ممبر صوبائی اسمبلی عزیزاللہ گران اور ممبر صوبائی اسمبلی و محکمہ اینٹی کرپشن کے پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر حیدر علی کی گفتگو سے یہ بات عیاں ہے کہ تمام ایم پی ایز بشمول ڈی سی، ایڈمنسٹریٹر، ڈی ایچ او اور دیگر نے سوات کڈنی اسپتال میں کلاس فورملازمین کی بھرتیوں میں اپنا اپنا حصہ لیا ہے، یا اپنے لوگوں کو بھرتی کیا ہے۔ لیکن محمد طاہر جس نے خود یو سی ناظم کی نشست حاصل کرنے کیلئے الیکشن میں حصہ لیا تھا اور محض اٹھائیس ووٹ کے فرق سے پیچھے رہ گیا تھا، نے اپنے حلقہ کے ایم پی اے عزیزاللہ گران کے خلاف جب علم بغاوت بلند کیا اور اسے تحریک انصاف کا مقصد یاد کروایا، تو نتیجتاً عزیزاللہ گران نے نوجوان کی گرفتاری سے ہفتہ قبل دفعہ 184 اور 506 کے تحت اسے گرفتار کروانے کی دھمکی دے ڈالی۔ محکمہ اینٹی کرپشن کے سی او(سرکل آفیسر) جاوید جس کا تعلق چارسدہ سے بتایا جا رہا ہے، کا ہفتہ قبل ہی ٹرانسفر دوسرے ضلع میں ہوچکا تھا، مگر موصوف کا کہنا تھا کہ وہ ایک اہم کیس حل کرکے پھر دوسرے ضلع چلا جائے گا۔ محکمہ اینٹی کرپشن پاک صاف اور شفاف تحقیقات کے آغاز کے بجائے محمد طاہر جس نے خود کرپشن کے خلاف شکایت کی تھی، کے پیچھے لگ گیا اور اس سے مزید ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ محمد طاہر نے وضاحت پیش کی کہ وہ نہ تو سرکاری اہلکار ہے اور نہ کوئی عہدہ رکھتا ہے، کیس آپ لوگوں کے سامنے ہے، مزید تحقیقات آپ کیجئے۔ اس کے بعد کچھ ’’توتو، میں میں‘‘ ہوگئی اور محکمہ اینٹی کرپشن کے دلیر و بہادر سپوتوں نے محمد طاہر پر ’’کارِ سرکار میں مداخلت‘‘ کا پرچہ درج کرکے گزشتہ جمعرات اس کو احاطۂ عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری مسترد ہونے کے باعث گرفتار کرکے ڈگر جیل بھیج دیا۔

 محمد طاہر اور علاقے کے معززین کا کہنا ہے کہ ایم پی اے عزیزاللہ گران اور محکمہ اینٹی کرپشن کی ملی بھگت سے اس (محمد طاہر ) کو ہراساں کیا گیا ہے اور دونوں ایک دوسرے کی بدعنوانیوں اور کرپشن پر پردہ ڈالنے کیلئے کارکنوں کو خوفزدہ کر رہے ہیں۔

محمد طاہر اور علاقے کے معززین کا کہنا ہے کہ ایم پی اے عزیزاللہ گران اور محکمہ اینٹی کرپشن کی ملی بھگت سے اس (محمد طاہر ) کو ہراساں کیا گیا ہے اور دونوں ایک دوسرے کی بدعنوانیوں اور کرپشن پر پردہ ڈالنے کیلئے کارکنوں کو خوفزدہ کر رہے ہیں۔

محمد طاہر اور علاقے کے معززین کا کہنا ہے کہ ایم پی اے عزیزاللہ گران اور محکمہ اینٹی کرپشن کی ملی بھگت سے اس (محمد طاہر) کو ہراساں کیا گیا ہے اور دونوں ایک دوسرے کی بدعنوانیوں اور کرپشن پر پردہ ڈالنے کیلئے کارکنوں کو خوفزدہ کر رہے ہیں۔ کیوں کہ اطلاع یہ بھی ہے کہ مقامی کارکنان کو عزیزاللہ گران فون کرکے پارٹی میٹنگ میں نہ جانے کا حکم دیتا رہتا ہے۔
محمد طاہر کا دعویٰ ہے کہ عزیزاللہ گران نے پی کے اسّی کے محلہ ’’چیل شگئ‘‘ کے بائیس کلاس فور ملازمین سے پیسے لے کر انہیں بھرتی کیا ہے۔ مزید یہ کہ محکمہ اینٹی کرپشن سوات نے ان بھرتی شدہ ملازمین کو دفتر بلا کر ان سے ایم پی اے عزیزاللہ گران کے حق میں یہ بیان دلوایا ہے کہ ان سے کسی نے پیسے نہیں لئے ہیں۔ جبکہ ایک حقیقت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ اسلامپور کے ایک غریب شخص کے بجائے شانگلہ کے ایک شخص کو راتوں رات بھرتی کرکے دوسرے کے حق پر ڈاکا ڈلوایا گیا ہے، جس کیلئے مذکورہ شخص نے بڑی عجلت میں سوات کا شناختی کارڈ اور ڈومیسائل حاصل کیا تھا۔ ثبوت کیلئے ایک ویڈیو ہی کافی ہوتی ہے، اگر اداروں میں ایماندار و دیانتدار اہلکار موجود ہوں تو…… میں نے عرب کی مقدس زمین پر فحاشی کا دھندہ کرنے والے گروہ کے خلاف ایک کالم لکھا تھا اور اس کی ایک ویڈیو شیئر کی تھی۔ عرب کے اداروں نے اس ایک ویڈیو اور کالم کی بنیاد پر خاموشی سے تحقیقات کا آغاز کیا اور اس کا نتیجہ میں دیکھ کر حیران رہ گیا۔ انہوں نے مجھ سے مزید ثبوت نہیں مانگے۔ بس ان کو اشارہ مل گیا اور تفتیش آگے بڑھا دیا۔ کرپٹ اداروں اور لوگوں کی تو پہچان ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ اوچے ہتھکنڈوں اور دھمکیوں پر اتر آتے ہیں۔ پھر کس میں اتنی جرأت ہوتی ہے کہ ان کے خلاف شکایت درج کریں؟
محکمہ اینٹی کرپشن سوات کے اس رویہ پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ جو محکمہ کرپشن کے خلاف وجود میں لایا گیا ہے، وہ خود ہی کرپشن کو تحفظ دے رہا ہے۔ حکومتی خزانے پر بوجھ اور عوام کے خون پسینہ کی کمائی سے چلنے والے ایسے اداروں میں یا تو ایماندار لوگوں کو تعینات کیا جائے یا سرے سے اس محکمہ کوہی ختم کیا جائے، تاکہ خزانہ پر ایک بوجھ تو کم ہو۔




 سوات کی سیاسی فضا اگر اس طرح برقرار رہی، تو یقین جانئے 2018ء کے الیکشن میں پی ٹی آئی کی ایک سیٹ جیتنے کی بھی امید نہیں ہے۔ آج یعنی اتوار کے دن کا یہ تازہ واقعہ کتنے شرم کی بات ہے، جس میں سوات کے دو ایم پی ایز فضل حکیم اور عزیزاللہ گران اور ان کے کارکنان آپس میں دست وگریباں ہوئے اور مینگورہ ڈگری کالج کی افتتاحی تختی پر ناموں کے بڑے چھوٹے حروفوں پر تصادم ہوا۔ اس موقعہ پر بھی عزیزاللہ گران نے کارکنان میں اشتعال پیدا کیا اور افتتاحی تختی پر ہرے رنگ کی سپرے کروا کر فضل حکیم اور ایم این اے مراد سعید کے ناموں کو مٹا دیا۔

سوات کی سیاسی فضا اگر اس طرح برقرار رہی، تو یقین جانئے 2018ء کے الیکشن میں پی ٹی آئی کی ایک سیٹ جیتنے کی بھی امید نہیں ہے۔ آج یعنی اتوار کے دن کا یہ تازہ واقعہ کتنے شرم کی بات ہے، جس میں سوات کے دو ایم پی ایز فضل حکیم اور عزیزاللہ گران اور ان کے کارکنان آپس میں دست وگریباں ہوئے اور مینگورہ ڈگری کالج کی افتتاحی تختی پر ناموں کے بڑے چھوٹے حروفوں پر تصادم ہوا۔ اس موقعہ پر بھی عزیزاللہ گران نے کارکنان میں اشتعال پیدا کیا اور افتتاحی تختی پر ہرے رنگ کی سپرے کروا کر فضل حکیم اور ایم این اے مراد سعید کے ناموں کو مٹا دیا۔

سوات کی سیاسی فضا اگر اس طرح برقرار رہی، تو یقین جانئے 2018ء کے الیکشن میں پی ٹی آئی کی ایک سیٹ جیتنے کی بھی امید نہیں ہے۔ آج یعنی اتوار کے دن کا یہ تازہ واقعہ کتنے شرم کی بات ہے، جس میں سوات کے دو ایم پی ایز فضل حکیم اور عزیزاللہ گران اور ان کے کارکنان آپس میں دست وگریباں ہوئے اور مینگورہ ڈگری کالج کی افتتاحی تختی پر ناموں کے بڑے چھوٹے حروفوں پر تصادم ہوا۔ اس موقعہ پر بھی عزیزاللہ گران نے کارکنان میں اشتعال پیدا کیا اور افتتاحی تختی پر ہرے رنگ کی سپرے کروا کر فضل حکیم اور ایم این اے مراد سعید کے ناموں کو مٹا دیا۔ یہ وہ اخلاقی پستی ہے جو پی ٹی آئی کو لے ڈوبے گی۔

محمد طاہر کا ایم این اے مراد سعید کی ساتھ خوشگوار موڈ میں ایک تصویر

محمد طاہر کی ایم این اے مراد سعید کے ساتھ خوشگوار موڈ میں ایک تصویر

آخر میں عمران خان سے گزارش کرتا ہوں کہ کچھ زمینی حقائق سے آپ کو آگاہ نہیں کیا جاتا۔ آپ کو ’’سب اچھا ہے‘‘ کی رپورٹ ملتی ہے۔ یہ غلط ہے اور بالکل غلط ہے۔ پولیس اب بھی سیاسی اثر و رسوخ کی زیر اثر ہے۔سکولوں میں حاضری کی حد تک تو ٹھیک ہے، مگر ’’ڈیڑھ لاکھ بچے پرائیویٹ سکولوں سے نکل کر سرکاری سکولوں میں آگئے ہیں‘‘ یہ خبر درست نہیں ہے۔ سوات میں اسپتالوں کی حالت زار سب کے سامنے ہے اور اس پر ایک کالم میں، مَیں بھی بہت کچھ لکھ چکا ہوں۔ محکموں کی حالت آپ کے سامنے ہے۔ آپ نے کرپشن کے خلاف اپنی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ کیا آپ سوات کے محکمہ اینٹی کرپشن اور بدعنوانیوں میں ملوث پارٹی اراکین کا بھی اس طرح احتساب کرنے کی اجازت دیں گے جس طرح آپ نے دن رات ایک کرکے نوازشریف کے خلاف حکمت عملی اپنائی تھی اور ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے تھے؟
عمران خان صاحب! معذرت کے ساتھ مگر پی ٹی آئی میں ایسی ڈھیرساری گندی مچھلیاں موجود ہیں جو پی ٹی آئی کے صاف و شفاف تالاب کو بدبودار جوہڑ میں تبدیل کرسکتی ہیں۔ کیا آپ ایم پی اے عزیزاللہ گران اور آپ کے نقش قدم پر چلنے والے ایک کارکن کے درمیان بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف اس جنگ میں آزادانہ تحقیقات کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے؟ آج پی ٹی آئی سوات کیلئے یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے، یا تو کرپٹ مافیا جیت کر سوات سے پی ٹی آئی کا خاتمہ کردے گا اور یا کرپٹ عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لاکر بلاامتیاز احتساب کرکے آپ ایک بار پھر سرخرو ہوجائیں گے۔ کیا آپ عزیزاللہ گران سے استعفا دینے کا مطالبہ کریں گے؟ تاکہ وہ شفاف تحقیقات میں دیوار نہ بنے؟ کیا اسے مستعفی نہیں ہونا چاہئے؟
عمران خان صاحب! ہم دوسروں کے کرپشن کے خلاف ہیلی کاپٹر سے تو پمفلٹ پھینک دیتے ہیں جبکہ اپنے کرپشن پر پردہ ڈالنے کیلئے اپنے ہی کارکن کو جیل بھیج دیتے ہیں۔ کیا یہی انصاف ہے؟ آج ایک ایم پی اے نے اپنے منصب کا غلط استعمال کرکے ایک کارکن کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے اس لیے دھکیل دیا کہ اس نے ساس کے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔اس کا سچ بولنا جرم بن گیا۔ کیا آپ واقعی ایسا معاشرہ بنانا چاہتے ہیں، جیسے کہ خلیفہ وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایک صحابی نے بھرے مجمع میں خطبہ کے دوران میں کھڑے ہوکر بلا خوف و جھجک یہ پوچھا تھا کہ ’’عمرؓ ،بتاؤ تمہارے پاس یہ دوسری چادر کہاں سے آئی؟ تو آج ثابت کیجئے۔کہاں حضرت عمرؓ کا مرتبہ اور کہاں ایک ایم پی اے کا رُتبہ مگر کرتوت تو دیکھیں کہ نوازشریف بھی شرمائے۔
حضور! آپ ذرا تحقیقات تو کروائیں کہ سوات کی کھنڈر نما سڑکوں پر یہ ٹول پلازے کون کس کی ایما پر لگا رہا ہے؟ اس کا ٹھیکا کون کس کو کتنے میں دیتا ہے؟ کون سے ایم پی ایز اس میں ملوث ہیں۔ کیونکہ ایسے ہی ایک ٹول پلازے کو جب عوام نے احتجاج کرتے ہوئے ہٹایا، تو ٹھیکیدار یہی رونا رو رہا تھا کہ دس کروڑ روپے دے کر اسے ٹھیکا پر لیا تھا۔ اب یہ ہمارا کام تو نہیں کہ اس کا بھی ثبوت پیش کروں اور ثبوت چھوڑتا کون ہے؟ یہ تو جب شفاف تحقیقات ہوں گی، تب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ محمد طاہر کے اشعار پر اس کالم کو سمیٹتا ہوں، کیونکہ آگے کوئی ’’چمتکار‘‘ ہونے والا تو ہے نہیں۔
سر کہ مے قلم شی انصاف غواڑم
کہ خوراک زما شلغم شی انصاف غواڑم
بے لہ انصافہ راتہ گرانہ زندگی دہ
کہ دشمن مے ٹول عالم شی انصاف غواڑم




تبصرہ کیجئے