584 total views, 1 views today

نیشنل ڈائریکٹریٹ آف سیکورٹی (این ڈی ایس) کے صوبائی پولیس چیف جنرل عبدالرزاق کی ہلاکت افغان سیکورٹی فورسز کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی، کیوں کہ بے رحمی اور سفاکیت کے استعارے کے طور پر ہلاک جنرل عالمی شہرت کا حامل تھا۔ تاہم یہ بات بھی کسی سے مخفی نہیں تھی کہ این ڈی ایس کے صوبائی پولیس چیف جنرل عبدالرزاق اور کابل کے صدر اشرف غنی کے باہمی تعلقات اچھے نہیں رہے تھے۔ اشرف غنی کے احکامات کو نظر انداز کرنا اور اپنی ذاتی جنگجو ملیشیا بنا کر ریاست میں اپنی ریاست بنانے والا جنرل عبدالرزاق انتہائی سخت گیر اور جنگی جرائم میں ملوث افغان اہلکار تھا۔ افغان طالبان کی جانب سے کئی حملوں میں بچ چکا تھا۔ اماراتِ اسلامیہ کی اسٹریجی کی وجہ سے کئی افغان طالبان اس وقت حکومتی انتظامی اہم شعبوں میں موجود ہیں، جن کی وجہ سے افغان سیکورٹی فورسز اور امریکی افواج کی نقل و حرکت کا علم افغان طالبان کو رہتا ہے اور وہ اطلاعات کی رسائی کے بعد منصوبہ بندی کرکے افغان سیکورٹی فورسز اور امریکی فوجیوں کو شدید جانی و مالی نقصان پہنچاتے ہیں۔
حال ہی میں افغان طالبان کی ایک کارروائی میں ہیلی کاپٹر تباہ کیا گیا اور کئی افغان سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی لاشوں کو افغان طالبان اپنے ساتھ لے گئے۔ اماراتِ اسلامیہ کے ترجمان نے گذشتہ دنوں اپنے ایک بیان میں کابل حکومت سے اپنے فدائی ذبیح اللہ ابودجانہ کی لاش کے بدلے افغان سیکورٹی فورسز کے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے تبادلے کی پیش کش کی اور لاشوں کے تبادلے کے لیے ’’ریڈ کراس‘‘ کو سہولت کار بنانے کا کہا۔
قارئین، این ڈی ایس کے صوبائی پولیس چیف جنرل عبدلرزاق سمیت دیگر حکومتی عہدے داروں کی ہلاکت کابل حکومت کی سیکورٹی پلاننگ پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کابل حکومت کمزور سیکورٹی پلاننگ کی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کابل حکومت نے امن کی راہ میں ہمیشہ رکاؤٹ کھڑی کی ہے۔ گذشتہ دنوں ممتاز عالمِ دین اور مغرب کی جانب سے بابائے طالبان کا لقب پانے والے مولانا سمیع الحق کے سفاکانہ قتل کو لے کر سوشل میڈیا میں خوب دھما چوکڑی مچائی گئی۔ مولانا سمیع الحق کے صاحب زادے واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ ان کے والد کو کابل اور بھارت حکومت کی جانب سے خطرات لاحق تھے۔ کیوں کہ امریکہ کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کی آڑ میں دارالعلوم جامعہ حقانیہ اور مولانا سمیع الحق پر سخت تنقید کی جاتی رہی ہے، لیکن اس بات کو بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ مولانا سمیع الحق شہید کی سیاسی زندگی کا دائرہ محدود ہونے کے باوجود افغان طالبان میں اتنا اثر رسوخ ضرور تھا کہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے انہیں ایک پُل کی حیثیت حاصل تھی۔
قیاس آرائی یہ بھی ہے کہ افغان طالبان اور ایران کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے اماراتِ اسلامیہ کے ڈرون حملے میں جاں بحق ہونے والے ملا منصور نے مولانا سمیع الحق کا تعاون حاصل کیا تھا۔ ایران کے ساتھ کئی معاملات میں افغان طالبان نے مفاہمت کی راہ اپنائی۔ مولانا سمیع الحق ایران کے قومی دن کے موقع پر آیت اللہ خامنہ ای کی دعوت پر تقریب میں بھی شریک ہوئے تھے جسے امریکہ نے سخت ناپسند کیا تھا۔ افغانستان میں دولتِ اسلامیہ خراساں شاخ (داعش) کی سہولت کاری میں امریکہ کے مشتبہ کردار کی وجہ سے ایران اور افغان طالبان کے درمیان دوریاں کم ہوئیں۔ داعش کو خطے میں مضبوط کرنے کے لیے امریکہ پر روسی الزامات بذاتِ خود تشویش ناک ہیں۔ افغانستان میں متعدد جنگجو ملیشاؤں کی تواتر سے ناکامیاں امریکہ کے غصے میں اضافے کا مؤجب بنیں۔
قارئین، پاکستان میں کئی دہائیوں سے فرقہ وارنہ اور لسانی خانہ جنگی کرانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اب مسلکی بنیادوں پر بھی امت مسلمہ کے درمیان نفاق بڑھانے کی سازش تیز کردی گئی ہے۔ مولانا سمیع الحق کی شہادت کا پہلا مقصد مسلکی خانہ جنگی کو برپا کرنا تھا، لیکن جمعیت علمائے اسلام (س) سمیت تمام مذہبی جماعتوں نے دور اندیشی اور تحمل و برداشت کا مظاہرہ کرکے ایک گھناؤنی سازش کو ناکام بنا دیا۔ کابل، امریکہ اور بھارتی گٹھ جوڑ کی ناکام سازش نے عالمِ اسلام کو ایک ممتاز عالمِ دین سے محروم تو کر دیا، لیکن مولانا سمیع الحق نے آخری دم تک امن کے لیے اپنی جان قرباں کر دی۔ کابل کی جانب سے خوب شوشے چھوڑے گئے۔ بیشتر افغانی متعصب میڈیا نے مولانا سمیع الحق کے حوالے سے پاک افغان تعلقات میں رخنہ ڈالنے کی پالیسی کو دوبارہ دوہرایا، لیکن اماراتِ اسلامیہ نے جس طرح مولانا سمیع الحق شہید کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس اعلامیہ نے بھی امن دشمن عناصر کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

……………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے