403 total views, 1 views today

پھولوں اور پھلوں کی وادی "سوات” میں امسال پچھلے سال سے زیادہ مقدار میں ٹماٹر کی پیداوار ہوئی ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں ٹماٹر سستے نرخوں پر دستیاب ہیں۔
ایک سروے کے مطابق سوات میں پانچ ہزار ایکڑ سے زائد زمین پر ٹماٹر کی پیداوار ہوتی ہے۔ مذکورہ زمین پر سالانہ 51 ہزار میٹرک ٹن ٹماٹر کی پیداوار ہوتی ہے۔ امسال سوات میں ٹماٹر کی وافر مقدار میں پیداوار کی وجہ سے ٹماٹر کے نرخوں میں انتہائی کمی واقع ہوئی ہے۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دس کلو کا ایک تھیلا ٹماٹر ایک سو پچاس روپے سے لے کر دوو سو روپے تک دستیاب ہے۔
آج کل سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کے بازاروں میں فی کلو ٹماٹر کی قیمت بیس روپے تک ہے۔ ٹماٹر کے زمینداروں اعتبار علی اور شعیب الرحمان کے مطابق امسال ٹماٹر کچھ زیادہ ہی مقدار میں پیدا ہوا ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں اس کے دام کم ہیں۔ نتیجتاً بے چارے زمینداروں کو ایک طرح سے نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔
میری ذاتی تحقیق کے مطابق سوات میں ٹماٹر کی زیادہ پیداوار تحصیل بریکوٹ کے مختلف علاقوں میں دریائے سوات کے کنارے ہوتی ہے۔ سوات کی آب و ہوا اور دریائے سوات کے قدرے صاف اور ٹھنڈے پانی کی وجہ سے ان علاقوں میں پیدا ہونے والا ٹماٹر سائز میں بڑے اور ذائقہ دار ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ملک بھر میں یہاں کے ٹماٹر کی بڑی مانگ ہے۔
سوات کا ٹماٹر اس وقت ملک کے بیشتر حصوں میں سپلائی کیا جارہا ہے۔ زمینداروں کے مطابق دس کلو کے ایک کارٹن پر خرچہ زیادہ اٹھتا ہے جس میں ٹماٹر کا کارٹن 33روپے، سکاچ ٹیپ پانچ روپے، منڈی تک رسائی کا کرایہ (فی کارٹن) تیس روپے اور 15روپے لوڈنگ اَن لوڈنگ کے ضمن میں خرچ ہوجاتے ہیں۔ یوں پنجاب کی مارکیٹ میں ان کا دس کلو والا ایک کارٹن ایک سو سے لے کر ایک سو تیس روپے میں فروخت ہوتاہے۔
تحصیل بریکوٹ میں کبل روڈ اگر سفر کیا جائے، تو وہاں پر دیکھا جاسکتا ہے کہ سڑک کے دونوں اطراف میں قائم کھیتوں کے کنارے بڑی تعداد میں مذکورہ ٹماٹروں کے تھیلے یا کارٹن نظر آتے ہیں جنہیں خریدنے میں آنے جانے والے لوگ دلچسپی لیتے ہیں۔ سڑک کنارے ان دس کلو ٹماٹر کے کارٹن کی قیمت ایک سو پچاس روپے تک ہے۔
تحصیل بریکوٹ کے علاقہ شموزئی روڈ پر واقع ٹماٹروں کے کھیتوں کے ایک بڑے حصہ پر حکومت نے سیکشن فور لگایا ہے۔ دراصل حکومت ان کھیتوں میں سمال انڈسٹری بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس حوالہ سے ایک زمیندار رحیم اللہ کا کہنا تھا کہ یہ زمینیں ان کی آباو اجدا کی خریدی گئی ہیں۔ ان علاقوں کے لوگوں کا ذریعۂ معاش ان کھیتوں میں پیدا ہونے والی سبزیوں کی خرید و فروخت ہی ہے، لیکن حکومت نے ان سے مشورہ کیے بغیر ان کی زرعی زمینوں پر سیکشن فور لگایا ہے جو ان کو کسی بھی طرح قبول نہیں۔ ان کے بقول، حکومت سوات کی زرعی زمینوں کی دشمن نہ بنے اور سمال انڈسٹری کے لئے بنجر زمینوں کا انتخاب کرکے اپنا فیصلہ واپس لے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا، تو ہمارے معاشی قتل کے ساتھ ساتھ سبزیوں کی قیمتوں میں ہوش ر با اضافہ بھی ہو گا۔




تبصرہ کیجئے