406 total views, 1 views today

پورا عالمِ اسلام اور خصوصاً پاکستان اس وقت مختلف قسم کے بحرانوں سے دوچار ہے۔ مختلف حادثات و واقعات کے بھنور اور گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم بنی اسرائیل کی طرح اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور کفرانِ نعمت کی وجہ سے وادی تیہ میں سر گرداں ہیں۔
اگر ایک طرف ملک امن و امان، معاشی بحران اور انتشار و افتراق کے فتنوں اور مسئلوں کا شکار ہے، تو دوسری طرف نئے واقعات اور حادثات رونما ہو کر ان حالات کی سنگینی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ مثلاً شاتمِ رسولؐ ’’آسیہ بی بی‘‘ کی عدالتِ عظمیٰ سے اچانک رہائی کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا، جس نے تمام دینی قوتوں کو مشتعل اور برافروختہ کیا، امن و امان کی صورتحال حکومت کے کنڑول سے باہر ہوگئی اور افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا۔ اگر اس فیصلے کا سرسری جائزہ لیا جائے، تو جو شواہد سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق آسیہ بی بی نے رحمت اللعالمینؐ کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے۔ جب ان کو گاؤں کی پنچایت کے سامنے پیش کیا گیا، تو اس نے وہاں موجود تمام لوگوں کے سامنے اپنے جرم کا اقرار کیا۔ اس موقع پر پنچایت کے بڑوں نے اس کو پُرامن طور پر ایس پی پولیس کے سامنے پیش کیا۔ وہاں پر بھی اس نے بلا جبر و اکراہ ایس پی کے سامنے اپنے جرم کا برملا اقرار کیا اور کسی پر غلط بیانی یا کسی دشمنی، ناراضی اور عداوت کی بنیاد پر الزام تراشی کا ذکر نہیں کیا۔ اس کے بعد اس کے خلاف پوری تحقیق اور احتیاط کے ساتھ ایف آئی آر درج کی گئی اور مقدمہ سیشن جج کی عدالت میں چلا، جس نے پورا کیس سن کر گواہوں کے روبرو آسیہ کے اپنے اقرار پر اس کو سزائے موت سنائی۔ بعد میں اس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ لاہور ہائی کورٹ کے فاضل ججز جسٹس سید شہباز علی رضوی اور جسٹس محمد انوار الحق نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ مندرجہ بالا جن امور کے متعلق گفتگو اور بحث کی گئی، اس کے مطابق فوجداری اپیل نمبر 2509 سال 2010ء مسترد کی گئی اور اپیل کنندہ آسیہ مسیح کو دی گئی سزائے موت کی توثیق کی گئی۔ یہ تاریخی فیصلہ 16 اکتوبر 2014ء کو دیا گیا۔ 22 جولائی 2015ء کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے توہینِ رسالت کیس کی مجرمہ آسیہ مسیح کی سزائے موت پر عمل در آمد کو روک دیا تھا۔ 8 اکتوبر 2018ء کو چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار کی سر براہی میں قائم بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا جو 31 اکتوبر کو سنایا گیا، لیکن غیر معمولی صورتحال بنی۔ اس کی پوری تفصیل استغاثہ کے وکیل اور مقدمے کے مدعی نے سوشل میڈیا پر پیش کی، جس میں انہوں نے کہا کہ فیصلہ قانون اور آئین و دستور کے مطابق نہیں۔ انگریزی الفاظ کا جو اُردو ترجمہ کیا گیا، اس میں بھی مغالطہ کیا گیا اور از خود بہت سارے غیر ضروری سوالات اٹھا کر ملزمہ کو شک کا فائدہ دیا گیا، جس پر پورے ملک میں اشتعال پھیل گیا۔ میڈیا پر پابندی لگائی گئی۔ وکلا کو بات اور وضاحت اور قانونی پوزیشن واضح کرنے سے روک دیا گیا، جس سے عوام میں یہ تاثر پھیل گیا کہ فیصلہ سیاسی اور بیرونی دباؤ پر کیا گیا ہے۔
جب اس فیصلے کے خلاف شدید عوامی ردعمل سامنے آیا، تو بجائے اس کے کہ حکومت اور عمران خان سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرکے عوام کے اشتعال پر حکمت و بصیرت کے ذریعے ٹھنڈا پانی ڈالتے۔ عمران خان نے اپنے نا مناسب اور آمرانہ لہجے اور متکبرانہ انداز سے اس پر مزید تیل چھڑک کر معاملے کو اور خراب کر دیا۔ اس سلسلے میں پاکستانی قوم اور مسلم ملت کے سامنے ایک اور بنیادی حقیقت بھی کھل کر سامنے آئی کہ پورا مقتدر طبقہ حالیہ اور سابقہ، اس معاملے یعنی توہینِ رسالت پر یک زبان و یک جاں ہیں۔ اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے اور اقتدار کی کرسی کے لیے لڑنے مرنے والے سب ایک ہوگئے۔ نواز، شہباز، بلاول، زرداری اور اسفند یار سب اس انتہا پسندی کو ختم کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ہم نوا بن گئے، لیکن ان اقتدار پرستوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس مملکتِ خداداد کے نوے فیصد عوام، جاہل، پڑھے لکھے، اَن پڑھ سب حرمتِ رسولؐ کے لیے شدید جذبات رکھتے ہیں۔ اگر آپ نے اس حقیقت کے علی الرغم بیرونی طاقتوں کے ایجنڈے پر عمل درآمد کیا، تو یہ ملک فتنہ و فساد کا شکار ہو جائے گا اور پھر اس پر آپ کی حکمرانی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکے گا۔
ایک اور بنیادی مسئلہ جو اس ملک کے قیام کے ساتھ اس قوم کو درپیش ہے، وہ قومی خود مختاری کا مسئلہ ہے۔ لیاقت علی خان مرحوم کے دور سے ہم بیرونی طاقتوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا شکار ہیں۔ کبھی ہم امریکہ کو روس کے خلاف بڈھ بیر کا اڈہ فراہم کرتے ہیں، کبھی ہم امریکہ کو افغانستان کی سرزمین پر مسلمانوں کا خون گرانے اور ان کے پہاڑ تک ریزہ ریزہ کرنے کے لیے اپنی زمین استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں، کبھی ہم اپنے بہن بیٹیوں (ڈاکٹر عافیہ صدیقی) کو ڈالروں کے عوض فروخت کرکے دنیا و آخرت کی رسوائی مول لیتے ہیں، کبھی ان کو اسامہ کو پکڑنے کے لیے آپریشن پر خاموشی اختیار کرتے ہیں، اُن کے مجرموں کو ہم چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے بے گناہوں کو ان کے حوالے کرتے ہیں۔ ذرا سوچیے تو ممتاز قادری کو آپ نے کتنی جلدی تختۂ دار پر چڑھایا اور آسیہ کو آٹھ سال تک جیل میں زندہ رکھ کر آخر چھوڑ دیا۔
تحریک انصاف کی حکومتی کارکردگی اور انتظام و انصرام کا مضحکہ خیز اور شرمناک انداز بھی سامنے آیا۔ وہ شخص جس نے اقتدار کے حصول کے لیے 126 دن تک اسلام آبادکے دارالحکومت کو جام کیا، فساد بر پا کیا، بیہودہ انداز سے بہوؤں بیٹیوں کو نچوا کر پورے ملک کے حالات کو خراب کیا، اس کو آج اس حقیقت کا پتا چلا کہ حرمتِ رسولؐ کے تحفظ کے لیے پورے ملک کو مفلوج کرنے والوں کو ’’چند شر پسند‘‘ کہہ کر ان کے ساتھ ’’آہنی ہاتھوں‘‘ سے نمٹنے کی دھمکی دی۔ اگر یہ چند شر پسند تھے، تو پھر آپ کو ہنگامی خطاب کی ضرورت کیوں پڑی؟ کیا مدنی ریاست میں حرمتِ رسولؐ محفوظ نہیں تھی؟ اپنے ذاتی اغراض اور خواہشات کی تکمیل کے لیے ’’مدنی ریاست‘‘ کے مقد س الفاظ کا مذاق مت اُڑائیں۔
یاد رکھیے، اب آپ کے بارے میں لوگوں کی ’’خوش فہمیاں‘‘ غلط فہمیوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔

……………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے