489 total views, 3 views today

"وہ دیکھو، پانی اپنا رنگ بدل رہا ہے!”
ہمارے ایک ساتھی نے عالمِ حیرانی میں طلوع ہوتے ہوئے سورج کی کرنیں جھیل کی سطح پر پڑتے ہی ہمیں بلند آواز سے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ میری نظریں چونکہ پہلے ہی سے اس خوبصورت جھیل میں لمحے بھر میں ہونے والی تبدیلی سے حیران تھیں اور میں سمجھ رہا تھا کہ گویا خواب دیکھ رہا ہوں یا میرا وہم ہے ۔ مگر ساتھی کی اس آواز نے تصدیق کردی کہ یہ خواب نہیں بلکہ جھیل کا پانی واقعی رنگ بدل رہا ہے ۔
یہاں ذکر ہو رہا ہے کُو جھیل کا، جو کالام کی وادی "اَنَکار” میں سطح سمندر سے 10,800 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔

اَنَکار ویلی کا خوبصورت منظر (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

یہ جھیل الپائن رینج میں واقع ہے۔ آپ اَنَکار وادی سے 7 سے 8 گھنٹے کی پیدل مسافت کے بعد یہاں پہنچ سکتے ہیں۔ اَنَکار وادی کی طرف کالام سے ایک کچی سڑک جاتی ہے، جس پر فور بائے فور گاڑیاں آپ کو منزل تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

کُو جھیل اور راستے میں مختلف جھرنوں کا پانی مل کر اس ندی کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

کالام بازار سے نکلتے ہی گھنے جنگل میں دوراہا آتا ہے۔ ایک راستہ مٹلتان اور آگے مہوڈنڈ تک جا نکلتا ہے جبکہ دوسرا راستہ اتروڑ، گبرال کی جانب نکلتا ہے ۔ اسی دوسرے راستے میں تقریباً 20 سے 25 منٹ کی مسافت کے بعد لوہے سے بنا ایک بڑا پل آتا ہے، پُل کراس کرنے سے پہلے ایک راستہ دائیں جانب اَنَکار وادی کی طرف مڑتا ہے۔
تین اطراف سے پہاڑوں میں گھری اس جھیل کو "کُو” کیوں کہتے ہیں؟ اس حوالے سے میری ذاتی تحقیق کے مطابق یہ دراصل فارسی لفظ "کوہ” کی بگڑی ہوئی شکل ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ "کُو” (واوِ معروف) کی شکل اختیار کرگیا۔ اب لوگ اسے "کوہ” (واوِ مجہول) کی جگہ "کُو” (واوِ معروف، ہائے ہوز کے بغیر) پڑھتے ہیں۔
کالام کے ایک مقامی باشندے (جسے لوئر سوات میں کوہستانی کہتے ہیں) نے مجھے بتایا کہ "ہماری زبان میں پہاڑ کو "کُو” کہتے ہیں۔”

ندی کے اوپر مختلف جگہوں پر درختوں کو کاٹ کر ایسے پُل بنائے گئے ہیں۔ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

جھیل سے لطف اندوز ہونے کے لیے بہتر ہے کہ رات "اَنَکار” میں گزاری جائے اور صبح تازہ دم پیدل سفر شروع کیا جائے۔ 7 سے 8 گھنٹے کی مسافت کے بعد "میدان بانڈہ” کیمپنگ کے لیے موزوں ترین جگہ ہے۔ ہماری ٹیم (ادھیانہ ٹریکنگ کلب، سوات) نے بھی وہیں کیمپنگ کی، کھانا پکایا اور رات کھلے آسمان تلے گزاری۔




راستے میں ان گھوڑوں کی طرح کئی اور پالتو جانور چرتے دکھائی دیتے ہیں۔ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

میدان بانڈہ میں کھانا تیار کرنے کے حوالے سے کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ بانڈہ میں جھیل سے نیلے رنگ کا صاف اور ٹھنڈا پانی وافر مقدار میں ایک چھوٹی سی ندی کی شکل میں عین بانڈہ کے وسط میں بہتا ہے۔ اس طرح سوختنی لکڑی کا بھی مسئلہ نہیں ہے ۔ پندرہ مئی سے جیسے ہی سورج آگ برسانے کے لیے پَر تولتا ہے تو میدان بانڈہ میں خانہ بدوش اپنے مال مویشی سمیت یہاں رہائش اختیار کرلیتے ہیں۔ ان کے ساتھ خالص دودھ کے علاوہ گاڑھی چھاچھ بھی وافر مقدار میں موجود ہوتی ہے۔ سوختنی لکڑی کچھ تو بانڈہ میں اِدھر اُدھر پڑی بھی مل سکتی ہے اور اگر زیادہ مقدار میں ضرورت ہو تو یہی مقامی خانہ بدوش کھلے دل کے ساتھ مدد کرتے ہیں۔

یک گڈریا کھلے میدان میں بھیڑ سے اُون الگ کرنے میں مصروف ہے۔ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

ستمبر کے آخری دنوں میں خانہ بدوش اپنے مال مویشی سمیت کالام کا رُخ کرتے ہیں، جہاں سے نومبر کے وسط میں گرم علاقوں کی طرف نقلِ مکانی کا عمل شروع کردیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ 15 مئی سے ستمبر کے آخری ہفتے تک باآسانی کُو جھیل کی سیر کی جاسکتی ہے۔
اَنَکار وادی میں بہنے والی بل کھاتی ندی کو پانی دراصل کُو جھیل سے ملتا ہے ۔ مذکورہ ندی کے دائیں جانب وادی سے پیدل سفر شروع ہوتا ہے اور سیدھا جھیل پر جاکر ختم ہوجاتا ہے، لہٰذا اگر آپ کے ساتھ اگر کوئی مقامی گائیڈ نہ ہو تب بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ یہ سفر اس لیے نسبتاً آسان ہے کہ جھیل تک ٹھنڈے اور میٹھے پانی کی ندی سے وقتاً فوقتاً پیاس بجھائی جاسکتی ہے ۔ اگر آپ اپنی پانی کی بوتل لانا بھول بھی جائیں، تو کچھ خاص مسئلہ نہیں ہوگا۔ حالانکہ ٹریکنگ میں پانی کی بوتل بھولنا بسا اوقات بڑی مشکل کھڑی کرتا ہے۔

جھیل پر پڑنے والی پہلی نظر۔ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

اس طرح کُو جھیل کے مذکورہ راستے میں درخت بھی ہیں جن کے سائے میں بیٹھ کر 10 سے 15 منٹ تک سانس بحال کی جاسکتی ہے۔ راستے میں 7 سے 8 سو میٹر کے فاصلے پر میٹھے پانی کا کوئی نہ کوئی چشمہ بہتا رہتا ہے جس سے بھی پیاس بجھائی جاسکتی ہے ۔ ان چشموں کا پانی بھی ندی میں جا کر ملتا ہے اور ندی آگے جا کر دریائے سوات میں جاملتی ہے ۔
کُو جھیل کی ڈھیر ساری خصوصیات ہیں، جن میں سب سے بڑی اور حیرت انگیز خصوصیت یہ ہے کہ یہ رنگ بدلتی ہے ۔ ہماری حیرت کی انتہا اس وقت نہ رہی جب ہمارے پہنچتے ہی اس پر سورج کی کرنیں پڑیں اور اس کا نیلا رنگ تیزی کے ساتھ ہرا ہوتا چلا گیا۔ یہ عمل اتنی تیزی کے ساتھ ہماری آنکھوں کے سامنے مکمل ہوا جیسے کسی نے جھیل کے پانی میں برقی رو دوڑا دی ہو۔

ایک تھکا دینے والے سفر کے بعد سیاح محو استراحت ہیں۔ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

اس کے علاوہ ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ کُو جھیل سوات کی تمام جھیلوں سے یک سر مختلف ہے ۔ الپائن رینج پر موجود اس جھیل کو 3اطراف سے فلک بوس پہاڑوں نے گھیرے میں لے رکھا ہے ۔ یہ پہاڑ سردی کے موسم میں برف کی سفید چادر اوڑھ لیتے ہیں اور موسمِ گرما میں سورج کی کرنیں آہستہ آہستہ ان پہاڑوں کی برف کو پگھلا کر جھیل کا پیٹ بھرنے کا سامان کرتی ہیں۔

جھیل کے دونوں اطراف آخر تک چہل قدمی کی جاسکتی ہے ، جس سے جھیل کی وسعت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اگر یہاں ایک عدد کشتی لائی جائے تو کیا ہی بات ہو، کوئی شک نہیں کہ کشتی رانی کے لیے اس سے بہتر جگہ شاید ہی کوئی اور ہو۔

کُو جھیل کے اوپر پہاڑ کی ایک چوٹی پر بادل محو رقص ہیں۔ (فوٹو: امجد علی سحاب)

جھیل کے ایک سِرے سے دوسرے سِرے پر نظر آنے والے گہرے ہرے رنگ کا پانی انسان پر ایک عجیب سی خوشی طاری کردیتا ہے۔ پانی کا بغور جائزہ لینے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ نظر جتنی دور تک دوڑتی ہے اتنا ہی اس کا ہرا رنگ گہرا ہوتا چلا جاتا ہے ، بالکل زمرد کے گہرے رنگ کی طرح ہے۔

………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے